فیمنسٹ پیروکاری، عائلی قوانین اور عورتوں پر ہونے والا تشدد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امتیازی قوانین دنیا بھر میں عورتوں کے انسانی حقوق کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ زندگی کا ساتھی چننے کا معاملہ ہو، یا وراثت میں حصہ ملنے کا یا ملازمت کرنے یا بچے کو اپنی تحویل میں لینے کا مسئلہ ہو، عورتوں کی زندگی کا ہر پہلو ان قوانین جنہیں عام طور پر عائلی قوانین کہا جاتا ہے، سے متاثر ہوتا ہے۔ ان قوانین کی بدولت دنیا بھر میں عورت اور مرد کے درمیان تفریق بڑھی ہے اور عورتوں پر تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ”فیمنسٹ پیروکاری، عائلی قوانین اور عورتوں پر ہونے والا تشدد، بین الاقوامی تناظر میں“ بتایا گیا ہے کہ کیسے دنیا بھر میں عورتیں تشدد کے قانونی اور سماجی جواز کو مسترد کرتے ہوئے قانونی اصلاحات اور منصفانہ پالیسی سازی میں حصہ لے رہی ہیں۔

اس کتاب میں برازیل، ہندوستان، ایران، لبنان، نائیجیریا، فلسطین، سینیگال اور ترکی کی عورتوں کی کہانیاں شامل کی گئی ہیں۔ خواتین کے حقوق کی ممتاز ایکٹیوٹس کے انٹرویو شامل کیے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ کتاب ایک زیادہ مساوی معاشرے کے قیام کے لئے کی جانے والی جدوجہد کی حکمت عملی اور رحجانات کی تصویر کشی کرتی ہے۔ اس کتاب کی مدیران میں ایران کی سابق وزیر برائے امور خواتین اور ویمن لرننگ پارٹنرشپ کی بانی مہناز افخامی، اقوام متحدہ کی سابق اسپیشل رپورٹیر یاکین اترک اور یونیورسٹی آف پنسلوانیا کی ایسوسی ایٹ پروفیسر این الزبتھ مئیر شامل ہیں۔

ایران کی عورتوں کی تنظیم کی سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے جب مہناز افخامی نے ایران کے چالیس شہروں اور دیہاتوں کا دورہ کیا تھاتو آبادان میں ان کی ایک بیس سالہ خاتون سے ملاقات ہوئی جس نے اپنے ساٹھ سالہ شوہر کو قتل کر دیا تھا۔ اس کی شادی نو سال کی عمر میں کر دی گئی تھی اور وہ بارہا شوہر کے جنسی تشدد کا شکار ہوئی تھی۔ یزد میں انہیں ایک عورت سڑک پر روتی ہوئی ملی۔ وہ یزد میں عورتوں کی تنظیم کے مقامی دفتر کی قانونی مشیر تھی۔

جب اس کے رونے کا سبب پوچھا گیا تو معلوم ہوا کہ اس کے شوہر نے اس کی پٹائی کی تھی اور اس پر پابندی لگا دی تھی کہ وہ تنظیم کے دفتر میں قدم نہیں رکھے گی۔ لورستان میں ان کی تنظیم کے مقامی دفتر میں ایک عورت نے انہیں بتایا کہ اس نے دفتر میں قران پاک پڑھانے کی کلاسز شروع کر دی ہیں کیونکہ ان کے علاقے میں عورتوں کو صرف اس کے لئے گھر سے باہر نکلنے اور تنظیم کے دفتر میں آنے کی اجازت ملتی ہے۔ مہناز افخامی اور ان کی ساتھیوں نے ان باتوں سے یہی سبق سیکھا کہ تبدیلی کے لئے سیاسی اقتدار اور اقتصادی خود انحصاری ضروری ہے۔

سسٹم کی نا انصافی اورخود انحصاری کی اہمیت کا ذاتی طور پر مہناز افخامی کو اس وقت تجربہ ہوا جب وہ ایران میں اپنے ذاتی پیسوں سے اپنے بچے کے لئے بنک اکاؤنٹ کھولنے گئیں۔ بینک مینجر نے کہا کہ وہ خود سے اکاؤنٹ نہیں کھول سکتیں جب تک کہ ان کے شوہر بھی ان کے ساتھ دستخط نہ کریں اور پیسے نکلوانے کا اختیار صرف ان کے شوہرکو ہو گا۔ حالانکہ پیسا مہناز افخامی کا تھا، ان کے بچے کے لئے تھا لیکن فیصلہ کرنے کا اختیار ان کے شوہر کے پاس تھا۔

مندرجہ بالا مثالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ عائلی قانون کا کوئی نہ کوئی پہلو عورتوں پر منفی طور پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس کتاب میں عائلی قوانین کے ان نقصانات پر زور دیا گیا ہے جو عورتوں کو بے اختیار اور لاچار بناتے ہیں۔ تاریخی طور پر صنفی بنیادوں پر کی جانے والی قانون سازی نے زندگی کے ہر شعبے میں عورت کو نقصان پہنچایا اور صنفی بنیاد پر ہونے والے تشدد کو جواز فراہم کیاہے۔

عورتوں پر تشدد ایک سماجی مظہر ہے۔ تاریخی طور پر اس کی جڑیں اس صنفی عدم مساوات میں پوشیدہ ہیں جو ہماری ثقافت اور قانون کا حصہ بن چکی ہے۔ ثقافت معاشرے میں زندگی کے بارے میں ایک نظریہ تشکیل دیتی ہے۔ اقدار کی تعریف، حقائق کا تعین اورخوبصورتی کی تخلیق، دیگر چیزوں کی طرح یہ سب بھی سماجی تعلقات کا نتیجہ ہے اور اسے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ کچھ کیس اسٹڈیز سے پتا چلتا ہے کہ کس طرح قوانین ثقافتی اقدار کی اہمیت کی عکاسی کرتے ہیں جب کہ کچھ میں قوانین کو اقتدار اور سیاست کا نتیجہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

قانون بھی فیصلہ سازی کا ایک طریقہ ہے کہ کیسے ایک معاشرہ اپنے ارکان کے درمیان تعلقات تشکیل دیتا ہے۔ ثقافت کی طرح قانون بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ لوگ بدل جاتے ہیں۔ نئی اقدار، نئے حقائق اور تصورات نمودار ہوتے ہیں۔ ثقافت اور قانون کا باہمی تعامل سماجی ڈھانچے کا تعین کرتا ہے اور سماجی بقا کی صورتحال تشکیل دیتا ہے۔

عائلی زندگی کے امتیازی رواجوں کو بھی قانونی شکل دے دی جاتی ہے جو دنیا بھر میں مساوات اور حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والی خواتین کے لئے باعث تشویش ہے۔ بین الاقوامی اور قومی سطح پر عورتوں کی تحریکوں کا یہ مشترکہ مقصد رہا ہے کہ پدر شاہی کے تعصبات کو ختم کرنے کے لئے ان قوانین میں ترمیم کی جائے۔ نسائی پیروکاری، فیصلہ سازی میں عورتوں کی شمولیت اور بین الاقوامی سطح پر صنفی مساوات کا ایجنڈا حالیہ صنفی حساسیت کی بنیاد پر بننے والے قوانین کی شکل میں سامنے آیا ہے۔

(جیسے گھریلو تشدد اور کم عمری کی شادی کے خلاف قوانین) ۔ گذشتہ عشروں میں انصاف کے عصری آدرشوں اور انسانی حقوق کے فریم ورک نے عورتوں کو مساوات کے لئے جدوجہد کرنے کے لئے متحرک کیا ہے۔ عورتیں اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ نجی اور عوامی زندگی میں ان کے حقوق کی خلاف ورزی اور دونوں میں حاکمیت اور محکومیت کا تعلق خاندان سے ہے اور عائلی قوانین کے ذریعے اس حاکمیت اور محکومیت کو قانونی شکل دے دی جاتی ہے۔ دنیا بھر میں عورتیں خاندانی تعلقات پر اثر انداز ہونے والے قانونی اور عدالتی طریقوں خاص طور پر عورتوں پر ہونے والے تشدد کے حوالے سے مقابلہ کر رہی ہیں۔

اس کتاب میں عائلی قوانین میں اصلاحات کے لئے کی جانے والی پیرو کاری کے حوالے سے آٹھ کیس اسٹڈیز شامل کی گئی ہیں۔ صنفی عدم مساوات کا مظاہرہ تو مختلف جگہوں پر ہوتا ہے لیکن اس تحقیق میں عائلی قوانین کو سیاسی طور پرپدر شاہی کے مفادات اور عورتوں کی محکومیت کو ادارہ جاتی شکل دینے پربات کی گئی ہے جس میں تشدد بھی شامل ہے، اس لئے یہ قوانین اہم ہیں۔

ان کیس اسٹڈیز سے پتا چلا کہ حکومت خواہ مذہبی ہو یا سیکولر، اسلامی یا کیتھولک یا کثیر المذہبی تجربہ رکھتی ہو، کم یا زیادہ خوشحال ہو، صنفی تعلقات کا ڈھانچہ ہر جگہ یکساں تھا۔ ہر کیس میں مرد گھرانے کا سربراہ ہے۔ اسے خاندان کی کفالت کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔ وہ کسی نہ کسی طریقے سے عورت کی اقتصادی سرگرمی کو کنٹرول کرتا ہے۔ عورت کے باہر نکل کر ملازمت کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ بھی وہی کرتا ہے۔ عائلی قوانین عام طور پر گھروں میں عورتوں کی رائے کی اہمیت، بچوں کی سرپرستی اور عورت کی شہریت شوہر یا بچوں کو منتقل کرنے جیسے حقوق کو محدود کرتے ہیں۔

ہم نے یہ بھی دیکھا کہ پدر شاہی پر مبنی اوپر سے کیے جانے والے فیصلوں پر صرف گھروں میں ہی عمل نہیں کیا جاتابلکہ تعلیمی اداروں، دفاتر اور سیاست میں بھی ان پر عمل کیا جاتا ہے۔ در حقیقت خاندان کے ڈھانچے جو معاشرے کی بنیادی اکائی ہے کی کمیونٹیوں اور معاشروں میں تقلید کی جاتی ہے۔ ایک نئی تحقیق کے مطابق گھروں میں ہونے والا تشدد قومی سلامتی کے شعبے کو درپیش مسائل کا اشاریہ ہے۔

کسی قوم کی سلامتی اور استحکام کو جاننے کا بیرو میٹر صنفی تعلقات میں عدم مساوات ہے۔ کچھ نے موجودہ طریقوں کو مستحکم کرنے میں فنون لطیفہ، ادب اور ثقافت کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا۔ اس ٹحقیق سے یہ بھی پتا چلا کہ بہت سی عورتیں بھی پدر شاہی کی معاونت کرنے والے طریقوں کو جاری رکھنے میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں، خاص طور پر شادی بیاہ کی رسومات کے نام پر پدر شاہی کی زیادتی پر پردہ ڈالا جاتا ہے۔ دونوں اصناف صدیوں سے چلے آنے والے پدرشاہی نظریات کی پیداوار ہیں اور کسی ایک صنف نے دوسری صنف پر زیادتی کرنے کے لئے یہ ڈھانچہ نہیں بنایابلکہ شروع میں حالات ہی ایسے تھے کہ آپ کی زندگی کی معیاد، تولیدی حقائق اوربقا کی اقتصادیات نے دونوں اصناف کے کردار متعین کیے تھے جو اب فرسودہ اور بے کار ہو چکے ہیں۔

اس تحقیق کے دوران منعقد کی جانے والی ورکشاپس سے موجودہ عائلی قوانین کی نا انصافیوں اور ان کی وجہ سے ترقی، خوشحالی اور سلامتی کے حوالے سے جو قیمت چکانی پڑتی ہے، اس کے بارے میں عوام اور پالیسی سازوں کے شعور کی سطح بلند کرنے کی حکمت عملی مرتب کرنے میں مدد ملی۔ سب نے مزید تحقیق اور عائلی قوانین کی اصلاحات کی کوششوں کے تقابلی جائزے اور قوانین پر کامیابی سے عمل در آمد پر زور دیا۔ پر زور دیا۔ یہ کتاب آن لائن مفت دستیاب ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •