عمران کی تقریر کا نشہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم اپنے کمرے میں ریموٹ ہاتھ میں تھامے ٹی وی پر اقوام متحدہ اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان کی تقریر سن رہے تھے اور دوران تقریر وقفے وقفے سے واہ واہ سبحان اللہ کیے جارہے تھے۔ اس تقریر نے ہم پر ایک عجیب کیفیت قائم کردی تھی۔ بس حال آنا باقی تھا۔ دوران تقریر بیگم صاحبہ بدستور ہمیں سودا سلف لانے کی تلقین کر رہی تھیں۔ اور ہم سختی سے ان کو خاموش رہنے کا کہہ کر بدستور خان کی کی گئی تقریر کے نشے میں مست تھے۔

بیگم صاحبہ کا پارہ مسلسل چڑھتا جارہا تھا اور وہ بڑبڑاتی ہوئی ساتھ والے کمرے کی صفائی ستھرائی میں لگ گئیں۔ تقریر ختم ہوئی تو ہم نے سوچا، چلو اب سودا سلف لے آئیں۔ ہم خاموشی سے آپنی پھٹ پھٹی کی چابی اٹھاتے ہوئے گھر سے باہر کو نکلے تو گلی کے نکڑ پر ہی ہمارے ہمسائے رشید بھیا نظر آگئے۔

ارے کیسے بھیا۔ ہم نے رشید صاحب کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے پوچھا۔

الحمد اللہ آپ سنائیں کہاں کی تیاری ہے؟

تیاری کیا ہوگی رشید صاحب، بس سودا سلف لینے جارہے تھے صبح سے بیگم نے شور مچا رکھا ہے کہ گھر میں پکانے کے لئے کچھ نہیں ہے تو ہم بازار جارہے تھے۔

اس سے پہلے رشید صاحب مزید سوال کرتے ہم نے جھٹ سے رشید صاحب سے پوچھا تقریر سنی آپ نے؟

کس کی تقریر؟ رشید صاحب نے الٹا ہم سے سوال کردیا۔

ارے بھئی رشید بھیا، اپنے وزیر اعظم عمران خان کی تقریر، آج تو اس نے میلہ لوٹ لیا۔ اور ہمارا دل جیت لیا۔ کیا گرجا ہے، ہم تو اس تقریر کے نشے میں کھو سے گئے ہیں۔ مودی کو چھٹی کا دودھ یاد دلادیا اپنے خان نے۔

نہیں بھئی ہم نے تقریر نہیں سنی ہم تو بچوں کو ٹیوشن چھوڑنے گئے تھے اور والدہ کی میڈیکل رپورٹ بھی لینی تھی، تو اس چکر میں مصروف رہے۔

یہ کہہ کر رشید بھیا ہم سے ہاتھ ملاکر گھر کی طرف چلتے بنے اور ہم نے اپنی موٹر سائیکل کو کک ماری اور بازار کی راہ لی۔ بازار پہنچ کر مرغی کے گوشت کی ہوش ربا بڑھتے ہوئے نرخ کو دیکھتے ہوئے ہم نے سوچا چلو آج بھنڈی ہی پکائی جائے۔ سبزی والے کے ٹھیلے پر پہنچے اور بڑی گرمجوشی سے دعا سلام کرنے کے بعد اس سے کہا بھائی عمران خان کی تقریر سنی تم نے۔

نہیں صاحب! ہم مزدور آدمی ہیں کہاں تقریریں سنیں گے۔ ہم تو یہاں روزی روٹی کما رہے ہیں۔ ہم نے اس کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھا اور کہا اچھا خیر ہے، چلو بھائی دو کلو بھنڈی تول دو۔ اس نے ہمارے دو کلو بھنڈی طلب کرنے پر بڑے غور سے ہمیں دیکھا اور بھنڈی تولنے لگا۔ بھنڈی تھیلی میں ڈال کر اس نے ہماری طرف بڑھائی تو ہم نے کہا بھیا ایک پاؤ ہری مرچیں بھی تول دو۔ اس نے ہمارے ہاتھ سے تھیلی تھامی اور ایک پاؤ مرچیں ڈال کر تھیلا ہمارے ہاتھ میں تھما دیا۔

ہم نے اپنی پتلون کی جیب سے سو روپے کا ایک گلا ہوا نوٹ اس کو تھمایا تو اس نے ہماری طرف حیرت سے دیکھتے ہوئے کہا اوہ بھائی تین سو روپے اور دو، آپ کے چار سو روپے بن گئے ہیں۔

ہم نے حیرت سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا بھائی ہم نے صرف بھنڈی اور پاؤ بھر ہری مرچیں ہی تو لی ہے۔ شاید آپ کو غلط فہمی ہوگئی ہے اور آپ نے کسی اور کا حساب ہم پر لگا دیا ہے۔

ہماری بات سن کر اس نے خونخوار نظروں سے ہمیں دیکھتے ہوئے کہا، ایک سو اسی روپے کلو بھنڈی کے حساب سے دو کلو بھنڈی کے 360 روپے بنتے ہیں اور ایک پاؤ مرچوں کے 40 روپے، تو اس حساب سے آپ کے چارسو روپے بنتے ہیں۔

سبزی فروش کے حساب کتاب سن کر ہم نے مجبوراً لاچاری سے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور مزید تین سو روپے اس کو تھماتے ہوئے بوجھل قدموں سے واپسی کی راہ لی۔

جوں ہی ہم گھر پہنچے تو دروازے پر ہی بجلی کا بل لئے ڈاکیہ کھڑا تھا۔ ہمیں دیکھ کر تیزی سے ہماری جانب بڑھا ہی تھا کہ ہم نے اس سے سوال کر ڈالا، ارے بھئی تم نے آج وزیر اعظم کی تقریر سنی؟

اس نے ہماری طرف غور سے دیکھا اور بولا سر جی میں صبح سے ڈاک تقسیم کر رہا ہوں، بھلا میں کہاں تقریر سنتا پھروں گا۔

بڑے بدقسمت ہو تم نے آج کی تقریر نہیں سنی تو کچھ نہیں سنا۔

اس سے پہلے ہم مزید کچھ کہتے اس نے پھرتی سے بجلی کا بل ہمارے ہاتھ میں تھمایا اور ساتھ والے رشید بھائی کی بیل بجانے لگا۔

ہم پسینے میں شرابور گھر میں داخل ہوئے اور سبزی کا تھیلا بیگم کو تھماتے ہی قریب پڑے صوفے پر برا جمان ہوکر کچھ دیر سستانے کی نیت سے آنکھیں بند کرکے لیٹ گئے۔

ابھی آنکھ بند کیے چند لمحے بھی نہیں گزرے تھے کہ اچانک بجلی کے بل کے خیال سے جھٹ سے ہم نے آنکھ کھولی اور پتلون کی جیب سے بل نکال کر دیکھا تو ہمارے ہوش ہی اڑ گئے۔ جہاں بڑے بڑے ہندسوں میں لکھا تھا ”نو ہزار“

اچانک ذہن میں خیال آیا افوہ! یہ ڈاکیہ بھی نہ ہم کو غلطی سے ہمسائے والے رشید صاحب کا بل تھماگیا ہوگا۔ ہم نے اپنی تسلی کے لئے بل پر درج پتہ پڑھنے کی کوشش کری جس میں ہم ناکام رہے۔ آواز دے کر بیگم کو کہا ذرا کمرے کی سائیڈ ٹیبل سے ہماری عینک تو لادو، یہ ڈاکیہ رشید صاحب کا بجلی کا بل ہمیں تھما گیا ہے۔

بیگم نے عینک لانے کے بجائے جھپٹ کر ہمارے ہاتھوں سے بل چھین لیا اور اس پر لکھا پتہ پڑھ کر بتایا کہ یہ رشید صاحب کا نہیں ہمارے گھر کا ہی بل ہے۔

ارے پاگل ہوگئی ہو کیا، ہمارا بل اتنا کیسے ہوسکتا ہے۔ ہمارے یہاں تو سب ملاکر صرف دو پنکھے دو انرجی سیور، اور کبھی کبھار استری ہوتی ہے ورنہ اکثر تو ہم بنا استری کے ہی دفتر چلے جاتے ہیں۔ ہمارے یہاں تو اے۔ سی بھی نہیں ہے۔ پانی بھی ہم جراثیم سے بھرپور نل کا پیتے ہیں کہ جس کو ٹھنڈا کرنے کے لئے ڈیسپنسر یا فریج کی ضرورت نہ پڑے۔ ہم تو خود گلی کی نکڑ سے جاکر گل خان بھائی سے بیس روپے کی برف لاکر واٹر کولر میں ڈال کر پانی ٹھنڈا کرتے ہیں۔ پھر نو ہزار روپے کا بل کس طرح آسکتا ہے۔

ہم پریشانی کے عالم میں اس سوچ میں پڑگئے کہ اس محدود آمدنی میں بل کیسے بھریں گے۔ بچوں کے اسکول کی فیس ادا کرنی ہے۔ گلو بھائی راشن والے کے پیسے بھی دو ماہ کے ہوگئے ہیں۔ مکان مالک کو بھی کرایہ دینا ہے اور پھر ان سب کے بعد ہماری آنکھ کا آپریشن جس میں موتیا مسلسل پک رہا ہے۔ تین ماہ سے ڈاکٹر آپریشن کا کہہ رہا ہے مگر ہم مسلسل ٹالتے آرہے ہیں۔

ابھی ہم اس ہی سوچ میں تھے کہ بیگم چائے کا کپ تھامے اندر داخل ہوئیں اور ہم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا اب ٹینشن نہ لیں، اللہ کہیں سے انتظام کردے گا۔ آپ بل کی اقساط کریں ہم قسطوں میں بھر دیں گے۔

بیگم کی اس تجویز سے ہمیں کچھ تسلی ہوئی اور بیگم کے ہاتھ سے چائے کی پیالی لے کر ایک ہی سانس میں پی کر فوراً اپنی جگہ سے اٹھے تو بیگم نے آواز لگائی اب کہاں چل دیے؟

ارے ہم بل کی قسطیں کرواکر آتے ہیں۔ یہ کہہ کر ہم تیزی سے دروازے تک پہنچے ہی تھے اور موٹر سائیکل پر کپڑا مار رہے تھے کہ دیکھا ہمسائے والے رشید صاحب پودوں میں پانی ڈال رہے ہیں۔ انھوں نے ہم کو آواز دے کر قریب بلایا اور پوچھا اب کہاں چل دیے؟

ہم نے انتہائی دکھی دل سے کہا کہاں جائیں گے بھیا، ہم بل کی قسط کروانے جارہے ہیں، اس ماہ پورے نو ہزار کا بل آگیا ہے۔ یکمشت تو ہم جمع کروا نہیں سکتے، اس لئے سوچا قسطیں ہی کروا لیں۔

ابھی رشید بھائی سے ہماری گفت و شنید جاری ہی تھی کہ ہمارے ایک اور پڑوسی زبیری صاحب بھی ہمارے پاس آکر کھڑے ہوگئے۔ السلام علیکم۔ کیسے ہیں زبیری صاحب؟ ہم نے ہاتھ بڑھاتے ہوئے ان سے پوچھا۔

الحمد اللہ آپ سنائیں کیا ہورہا ہے؟

بس جی فرسٹ کلاس، ہم نے مختصر سا جواب دیا اور فوراً ہی اپنا سوال داغ دیا۔ ارے زبیری صاحب ہم نے ان کو دوبارہ مخاطب کرتے ہوئے کہا۔

جی فرمائیے؟

آپ نے آج اقوام متحدہ میں وزیر اعظم کی تقریر سنی؟ اس سے پہلے زبیری صاحب جواب دیتے ہم نے دوبارہ تقریر کی شان میں قصیدے پڑھنے شروع کردیئے۔ کیا شاندار تقریر تھی۔ یقین کریں زبیری صاحب آج دل خوش کردیا وزیر اعظم نے۔ ایسی تقریر تھی جس کے سحر سے اب تک باہر نہیں نکل سکے ہم۔ آپ نے یقیناً سنی ہوگی؟

جی بالکل میں نے آج وزیر اعظم کی تقریر سنی۔ اور بہت غور سے سنی اور اس سے پہلے کنٹینر والی تقاریر بھی سنیں تھیں۔ میں نے وہ تقاریر بھی سنیں تھیں جب وہ اداروں کی بالا دستی اور فوج کے احتساب کے نعرے لگاتے تھے۔ جب اپنی تقاریر میں وہ حضرت عمر کا معاشی اور عدالتی ماڈل پاکستان میں نافذ کرنے کی باتیں کرتے تھے، میں نے وہ تقریر بھی سنی تھی جب موصوف اربوں ڈالر واپس لانے، مہنگائی کم کرنے، کاٹیج انڈسٹری لگانے، پچاس لاکھ گھر بنانے اور بیرون ملک پاکستانیوں کو واپس لا کر نوکریاں دینے اور عافیہ صدیقی کو واپس لانے کے دعوے کیا کرتے تھے۔

میں نے خان کی وہ پرجوش تقاریر بھی سنی تھیں جس میں وہ ہمیں بتایا کرتے تھے کہ ہالینڈ کا وزیر اعظم بنا پروٹوکول سائیکل پر دفتر جایا کرتا ہے۔ اور نواز شریف اور اس کے رفقاء بادشاہ سلامت کی طرح سینکڑوں لگژریز گاڑیوں کے قافلوں میں نکلتے ہیں۔ خان کی اس تقریر سے ہم نے امید باندھ لی کہ عمران اقتدار میں آگیا تو وہ سائیکل نہ سہی مگر کم از کم بنا پروٹوکول ہزار سی سی گاڑی پر دفتر جایا کرے گا۔

میں نے وہ تقریر بھی سنیں تھیں جب اس نے کہا تھا عمران خان خودکشی کرلے گا مگر آئی ایم ایف اور دنیا کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلائے گا۔ میں نے وہ تقریر بھی سنی تھی جس میں اس نے کہا تھا جب مہنگائی بڑھتی ہے ڈالر اوپر جاتا ہے تو سمجھ لو آپ کا وزیر اعظم چور ہے۔

میں نے خان کی وہ تقریر بھی سنی تھی جب اس نے کہا تھا اقتدار میں آکر میں وزیر اعظم ہاؤس اور سارے گورنرز ہاؤسیز پر بلڈوزر چلاؤں گا اور یہاں یونیورسٹیز اور پارکس تعمیر ہوں گے۔ میں نے وہ تقریر بھی سنی تھی جس میں بتایا جاتا تھا عالمی مارکیٹ میں پیٹرول کی قیمتیں کم ہوتی ہیں تو ہمارے یہاں بھی کم ہونی چاہیے۔ اور وہ تقریر بھی سنی تھی جس میں وہ موروثی و الیکٹیبلز کی سیاست کے خلاف بات کرتا تھا۔ وہ آزمائے ہوئے بدبودار چہروں کو بدل کر نئے صاف ستھرے چہرے سامنے لانے کی بات کرتا تھا۔ وہ آزاد امیدواروں کی لگائی گئی بولیوں کے خلاف گرجا کرتا تھا۔

اور ان تمام تقاریر نے میرے اوپر آپ سے زیادہ سحر طاری کردیا تھا۔ ایک ایسا جنون تھا اس کی تقاریر میں، جو میں بیان نہیں کرسکتا تھا۔ میں بھی ان تقاریر کے نشے میں مست رہتا تھا، آپ آج جس تقریر پر خوشی کے شادیانے بجا رہے ہیں ہم اس سے زیادہ شادیانے بجا چکے ہیں۔ مگر آج ایک سال سے زیادہ وقت گزر چکا ہے۔ ان تقاریر میں کیے گئے وعدے سرخ فیتے کی نذر ہوگئے۔

وہی الیکٹیبلز وہی موروثی سیاست وہی چور لٹیرے جو نصف صدی سے پارٹیاں بدل بدل کر اقتدار سے چمٹے پڑے ہیں۔ کل جس کو عمران اپنی تقاریر میں پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو قرار دیتا تھا۔ آج وہی ملک کے سب سے بڑے صوبے کی اسمبلی کا اسپیکر ہے۔ وہی آئی ایم ایف وہی کشکول۔ وہی پروٹوکول۔ وہی اقتدار کا نشہ۔ وہی پرائم مینسٹر و گورنرز ہاؤسیز۔ وہی غربت افلاس وہی پولیس کا نظام۔ سب کا سب وہی۔ تو پھر میں کس طرح وزیز اعظم کی آج کی گئی تقریر پر دھمال ڈالوں؟ کیسے یقین کروں اس کی سابقہ تقاریر میں کی گئیں وعدہ خلافیوں اور بڑکیوں پر؟ ان ہی تقاریر سے متاثر ہوکر قوم نے اس کو اقتدار تک پہنچایا۔ اور اقتدار میں آنے کے بعد صرف مسلسل یوٹرن اور وعدہ خلافیاں اور سب سے بڑھ کر اپنے انتخابی منشور سے منحرف ہونا ہے۔

جوں جوں زبیری صاحب بولے جارہے تھے ہمارا ذہن کھلتا جارہا تھا اور وزیر اعظم کی آج کی تقریر کا نشہ جو اب سے کچھ دیر پہلے تک ہم پر طاری تھا۔ وہ جھاگ کی طرح بیٹھتا جارہا تھا۔ اچانک ہماری نگاہ کلائی میں بندھی گھڑی پر پڑی تو ہمیں آحساس ہوا کہ زبیری صاحب کی باتوں میں وقت تیزی سے بیتے جارہا ہے اور ہمیں بجلی کے بل کی قسطیں بھی کروانی ہیں۔ لہذا ہم نے رشید بھیا اور زبیری صاحب سے اجازت طلب کی، اپنی پھٹ پھٹی کو کک مارکر اسٹارٹ کیا اور کے الیکٹرک کے زونل آفس کی سمت چل پڑے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •