غلام حسین گوندل اور گجرات کا پہلا سیاسی قتل


نیویارک کے بہترین ہسپتال ”این وائی یو“ میں کئی ماہ قابل ڈاکٹروں کی زیرِ نگرانی ان کا علاج چلتا رہا۔ مرض کے تدارک کے لیے دو درجن کے قریب کیمو تھراپی کے شاٹس لگائے گئے۔ ڈاکٹر امید دلاتے رہے مگر دن بدن ان کے مرض کی شدت میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ کنسر کا موذی مرض انہیں اندر ہی کھاتا رہا۔ کمزوری اور نقاہت ان کے چہرے سے عیاں ہوتی مگر وہ پھر مایوس نہیں ہوئے، طبیعت کا پوچھنے والے ہر ایک سے یہی کہتے کہ بس دعا کیجئے کہ اللہ آسانیاں فرمائے۔

اب وہ گھر سے کم نکلتے تھے۔ میرا بھی زیادہ تر ان سے رابطہ اب فون یا واٹس اپ میسجز کے ذریعے ہوتا تھا۔ چند مہینے پہلے نیویارک میں ان کے قریبی دوست راجہ اظہر کی زبانی پتہ چلا کہ وہ کیمو تھراپی کے ری ایکشن اور طبیعت میں گھبراہٹ کے باعث پاکستان چلے گئے ہیں۔ شروع ہی سے گجرات میں ان کی رہائش نئی آبادی محلہ پڈھے میں رہی۔

ملازمت کے دوران اور اس کے بعد بھی ان کا ایک ہی شوق رہا۔ لیری (سجری سوئی) بھینس ہمہ وقت ان کے گھر بندھی رہتی۔ اس کی ٹہل سیوا اور خالص دودھ اور لسی پینا ان کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔

گجرات میں اپنے آخری قیام کے دوران وہ علاج کی غرض سے کچھ عرصہ لاہور اور سی ایم ایچ کھاریاں میں داخل رہے۔ گزشتہ دنوں راجہ اظہر صاحب کے ذریعے ہی پتہ چلا کہ غلام حسین گوندل کا سفرِ زندگی اختتام پذیر ہو گیا ہے۔ انتقال کے وقت ان کی عمر 68 برس تھی۔ ان کی اہلیہ بھی کچھ سال پہلے وفات پا گئی تھیں۔

ڈپٹی کمشنر آفس گجرات کے سابق ملازم اور دیگر کئی محکموں سے بطور اسٹینو گرافر رئٹائرڈ ہونے والے غلام حسین گوندل کا تعلق ضلع منڈی بہاؤ الدین کی تحصیل ملکوال کے گاؤں ہریہ سے تھا۔ وہ 1951 ء میں ہریہ کی ایک زمیندار فیملی میں پیدا ہوئے۔

مرحوم غلام حسین گوندل نے 1970 ء کے وسط میں گورنمنٹ سر سید ڈگری کالج گجرات سے انٹرمیڈیٹ کرنے کے بعد ڈپٹی کمشنر آفس گجرات میں بطور ریڈر اپنی ملازمت کا آغاز کیا۔ اس دوران ان کی ملازمت کا زیادہ عرصہ بطور ریڈر، اہلمند، سنئر کلرک اور سٹینو گرافر اے سی آفس اور اے ڈی سی (جی) آفس گجرات میں گزرا۔

بعدازاں وہ ڈپٹی کمشنر آفس گجرات کی سروس چھوڑ کر سے وفاقی محکمہ انکم ٹیکس میں بطور سٹینو گرافر منسلک ہو گئے۔ اور یہیں سے اپنی مدت ملازمت پوری کرنے کے بعد ریٹائرڈ ہوئے۔ وہ کچھ عرصہ فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن اور ڈیپوٹیشن پر ملٹری کنٹونمنٹ بورڈ کھاریاں میں بطور سٹینو گرافر بھی تعینات رہے۔

مرحوم غلام حسین گوندل کی نماز جنازہ گجرات کے محلہ پڈھے اور موضع میں ادا کی گئی۔ نماز جنازہ میں ان کے عزیز واقارب سمیت علاقہ بھر کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ بعدازاں انہیں ان کے آبائی گاؤں ہریہ تحصیل ملکوال ضلع منڈی بہاؤ الدین میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

نایاب ہوتی نسل اور دوستی تو دوستی، دشمنی میں بھی رواداری کا قائل ایک اور ”گوندل“ سپوت اب ہم میں نہیں رہا۔
اٹھ گئی ہیں سامنے سے کیسی کیسی صورتیں
رویئے کس کے لیے کس کس کا ماتم کیجئے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2