غلام حسین گوندل اور گجرات کا پہلا سیاسی قتل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ان کا پورا نام تو غلام حسین گوندل تھا مگر وہ اپنے قریبی دوستوں اور حلقہ احباب میں ”گوندل صاب“ کے نام سے مشہور تھے۔ میری ان سے شناسائی کوئی دو سال پہلے نیویارک میں اپنے رہائشی علاقے ”فریش میڈوز“ کی مقامی مسجد میں ایک دن جمعہ کی نماز کے بعد ہوئی تھی۔ نماز کی ادائیگی کے بعد حسبِ معمول اس دن بھی ہم چند دوست بشمول راجہ اظہر، عبدالقدوس میاں، شکیل میر، احمد یونس اور جواد بٹ مسجد کے باہر کھڑے ایک دوسرے کا حال احوال پوچھ رہے تھے کہ اتنے میں قریب آتے کسی شخص کے متعلق ”آئیے آئیے گوندل صاب“ کی آواز بلند کی۔

اور پھر ان کا آپس میں ملنا ملانا شروع ہو گیا۔ منڈی وال میٹھے لبُ و لہجے، گندمی رنگت، لمبے قد کاٹھ، کلین شیو اور سمارٹ بدن کے ادھیڑ عمر اس اجنبی سے میرا تعارف بھی ایک دوست نے ”اے اپنے گوندل صاحب نے منڈی بہاؤ الدین توں“ کہہ کر کرایا۔ وہ مجھے بھی دوسروں کی طرح جپھا مار کر اُسی گرم جوشی اور اپنائیت سے ملے۔

بعدازاں ہر جمعہ کو خصوصاً اور اکثر راہ چلتے یا پھر قریب ہی فون سٹور جہاں وہ کام کرتے تھے، ان سے ملاقاتیں ہونے لگیں۔ باہم کئی قدریں مشترک ہونے، خصوصاً گجرات اور منڈی بہاؤ الدین کی سیاسی تاریخ سے دلچسپی نے ہمارے درمیان ایک طرح سے دوستی اور ذہنی ہم آہنگی پیدا کر دی تھی۔ اور اس طرح ان کی شخصیت سے مجھے آگاہی ہوتی چلی گئی۔

وہ گجرات میں رونما ہونے والے کئی اہم واقعات کے عینی شاہد تھے۔ انہی واقعات میں 1975 ء ء میں ”گجرات کا پہلا سیاسی قتل“ کہلایا جانے والے مشہور واقعہ بھی تھا۔ یہ گجرات سے تعلق رکھنے والے معروف قانون دان اور اس وقت پنجاب کے وزیر مال چوہدری انور سماں کے قتل کا سانحہ تھا۔ جو ضلع کچہری گجرات میں واقع ”ایک مجسٹریٹ کی گول عدالت“ میں رونما ہوا تھا۔

غلام حسین گوندل نے مجھے اس واقعہ تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”ان دنوں یعنی مارچ 1975 ء میں وہ اسسٹنٹ کمشنر گجرات کے آفس میں ریڈر تعینات تھے۔ جس دن چوہدری انور سماں کا قتل ہوا۔ وہ حسبِ معمول اپنے دفتری امور نمٹا رہے تھے کہ اچانک انہوں اپنے ہمسایہ میں قائم مجسٹریٹ کی عدالت ( گول عدالت) کی جانب سے گولیاں چلنے آواز سنی تو وہ فوری طور پر اس جانب دوڑے۔ عدالت کے باہر لگے بوہڑ کے درخت پاس پہنچ کر انہوں ایک شخص کو ہاتھ میں پستول پکڑے باہر سڑک کی جانب بھاگتے دیکھا۔

جونہی برآمدے کی سیڑھیاں چڑ کر وہ اوپر پہنچے تو عدالت کے دروازے پاس انہوں خون لت پت پڑے چوہدری انور سماں کو دیکھا۔ وہ ابتدائی طور وقوعہ پر پہنچنے والے پہلے چند افراد میں شامل تھے۔ اس اثناء میں ایس ایس پی آفس سے ایک ڈی ایس پی بھی موقع پر پہنچ گئے۔ وہی انہیں اپنی گاڑی میں ڈال کر عزیز بھٹی شہید ہسپتال لے کر گئے۔ تاہم چوہدری انور سماں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے ”۔

بعدازاں چوہدری اعتزاز احسن نے مرحوم چوہدری انور سماں کی وفات سے خالی ہونے والی پنجاب اسمبلی کی اس نشست سے بلامقابلہ کامیاب ہو کر اپنی سیاست کا آغاز کیا۔ اور انہیں پنجاب میں اطلاعات، پلاننگ اور ڈویلپمنبٹ کی وزارتیں دی گئیں۔ اس طرح مرحوم انور سماں کا قتل ایک لحاظ سے چوہدری اعتزاز احسن کی سیاست کا آغاز ثابت ہوا۔

غلام حسین گوندل کے بقول ”ان دنوں گجرات میں سیاسی لیڈروں میں نوابزادہ ظفر مہدی اور میاں مشتاق حسین پگانوالہ کا طوطی بولتا تھا۔ فون تو ان دنوں خال خال ہی ہوتے تھے۔ لوگوں کے کام کاج کے لیے انہی سیاسی رہنماؤں کی چٹییں چلتی تھیں۔ اور خاتون سنئٹر بیگم سمیعہ عثمان فتح تو اکثر لوگوں کے کاموں کے لیے ان کے ہاں اور دیگر سرکاری دفاتر میں خود جایا کرتی تھیں“۔ دبلے پتلے اعتزاز احسن بھی ان دنوں اپنے والد مرحوم چوہدری احسن کے ہمراہ ان کے دفتر آیا کرتے تھے۔

غلام حسین گوندل کا کہنا تھا کہ ان کے علاقے میں بھی خاندانی دشمنیاں عام تھیں۔ ان کے والد کو بھی خاندانی دشمنی کے نتیجے میں مخالفوں نے قتل کر دیا تھا۔ وہ بچپن سے ہی اپنے اور دیگر خاندانوں کے درمیان دشمنیوں کے اس سلسلے کو دیکھتے آئے تھے۔ کئی قتلوں کے بعد کورٹ کچہری میں تاریخوں پر بھی چھوٹی عمر ہی سے اپنے والد کے ساتھ جایا کرتے تھے۔

اپنے بچپن کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے گوندل صاحب نے بتایا تھا کہ، ”گجرات میں ان دنوں، خصوصاً 60 ء اور 70 ء کی دہائی میں چوٹی کے دیگر کئی وکلاء کے ساتھ ساتھ تحریک پاکستان کے رہنما اور چوٹی کے وکیل حکیم چراغ علی ایڈووکیٹ کا بڑا چرچا تھا۔ ان کی اسی مشہوری کو دیکھتے ہوئے میرے والد نے اپنے عزیزوں کے ایک مقدمے میں حکیم صاحب کو اپنا وکیل مقرر کیا۔

حکیم صاحب سرخ رنگ کی پھمن والی مخصوص ترکی ٹوپی پہنا کرتے تھے۔ اور دور سے پہچانے جاتے تھے۔

مقدمے کی ایک تاریخ والے دن وہ اپنے والد کے ہمراہ سالم ٹانگہ لے کر حکیم صاحب کی کوٹھی واقع جیل روڈ گجرات پہنچے۔ حکیم صاحب کے ملازموں نے قانون کی بڑی بڑی کتابوں سے لدی دو گٹھڑیاں ٹانگے کے پیچھے رکھیں اور اس کے بعد حکیم صاحب تشریف لائے اور تانگے کی اگلی سیٹ پر بیٹھ کر سیشن کورٹ روانہ ہو گئے۔ جبکہ وہ اپنے والد کے ساتھ پیدل زمینوں کے بیچوں بیچ سے ہوتے ہوئے احاطہ سیشن کورٹ تاریخ پہنچے ”۔

غلام حسین گوندل کے بقول حکیم صاحب ہمارے عزیزوں کا وہ مقدمہ ہار گئے اور سیشن کورٹ سے ہمارے چار بندوں کو سزائے موت ہو گئی۔ تاہم لاہور ہائی کورٹ میں میرے والد نے لاہور میں اپنے وقت کے معروف وکیل ایم انور بارایٹ لاء کی خدمات حاصل کیں۔ لاہور ہائی کورٹ میں اپیل میں جا کر فیصلہ ہمارے حق میں آیا۔

اس زمانے اکثر وکلاء اپنے کلائنٹس کو مطمئن رکھنے کے لیے اپنے ساتھ کتابوں کے بڑے گٹھڑ لے کر عدالت میں جایا کرتے تھے۔ ہمارے علاقے میں روایت تھی کہ جب کوئی اپنا یا عزیزوں مقدمہ ہار جاتا تو لوگ گاؤں میں قائم داروں میں اظہارِ افسوس کے لیے آیا کرتے تھے۔ بعض افسوس کرنے کے ساتھ ساتھ مقدمہ ہارنے والے وکیلوں کی بھی لعنت ملامت کیا کرتے تھے۔ تاہم مقدمہ ہارنے والوں کے ورثاء جو وکلاء کی زیادہ کتابیں عدالت میں لا کر دلائل دینے سے متاثر ہوئے ہوتے تھے وکیل کی حمایت کرتے ہوئے اکثر منڈی وال لہجے میں کہتے، ”وکیل شودھا تے بوں لڑیا اے۔ پر۔ جج ای بھئیڑا سی“۔ (جج کے لیے استعمال ہونے والی ہلکی پھلکی گالی حذف کر دی گئی ہے )

غلام حسین گوندل گورنمنٹ سر سید ڈگری کالج گجرات میں 70 ء کی دھائی میں اپنے زمانہ طالب علمی کے واقعات اکثر سنایا کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنے علاقے میں دشمنی کی وجہ سے وہ گھر آتے جاتے وقت پکی رائفل (تھری نٹ تھری) ہمہ وقت اپنے ساتھ رکھتے تھے۔ مخصوص حالات میں اس مقصد کے لیے کالج پرنسپل سے انہوں نے اور ان کے کزن اشرف گوندل نے اپنی اپنی رائفلیں ہاسٹل میں رکھنے کے لیے پرنسپل سے خصوصی طور پر اجازت لی ہوئی تھی۔ ان دنوں کالج کے پرنسپل انعام اللہ شیخ ہوتے تھے۔

ضلع گجرات کے گاؤں شیر گڑھ سے تعلق رکھنے والے کبڈی کے معروف کھلاڑی اور نیشنل چمپئن مرحوم چوہدری جاوید المعروف ”جیدا شیر گڑھیا“ کالج میں میرے کلاس فیلو تھے۔ وہ صبح صبح کالج گراؤنڈ تیل مار کر کشتی کا زور کیا کرتے۔ کیا گبرو اور جیدار آدمی تھا مرحوم ”جیدا شیر گڑھیا“۔

چوہدری جاوید بعد ازاں کبڈی کے شہ کار کھلاڑی کے طور پر پنجاب پولیس میں چلے گئے، کبڈی کے نیشنل چمپئن اور پاکستان کبڈی ٹیم کے کپتان رہے۔ پولیس ڈیپارٹمنٹ سے ڈی ایس پی ہو کر رئٹائرڈ ہوئے۔

ہم تین چار لڑکوں سے وہ کہتا کہ آؤ، کوئی میرے دونوں ہاتھ اور کوئی دونوں ٹانگوں کو زور سے پکڑ لے، اور مجھے ہلنے نہ دے، ہم ایسا ہی کرتے مگر جیدا اتنا زور آور پہلوان تھا کہ وہ چند سیکنڈ میں ہی ہم چاروں کو پچھاڑ دیتا۔ اور ہماری مضبوط گرفت سے نکل جاتا۔

ہر بار جب بھی گوندل صاحب سے ملاقات ہوتی ان کے پاس سنانے کو درجنوں واقعات تیار ملتے۔ بس انہیں کوئی سننے والا چاہیے ہوتا۔ امریکہ میں رہتے ہوئے گزشتہ کئی سالوں سے ان کا معمول تھا کہ وہ ہر سال کچھ ماہ پاکستان میں گزارتے۔ کوئی ڈیڑھ سال پہلے نیویارک واپس پہنچے، تو معمول کے میڈیکل چیک اپ کے دوران ان کے ڈاکٹر کو شک گزرا تو ان کے مزید بلڈ ٹیسٹ کروائے گئے جن کی رپورٹس میں انہیں معدے کی بڑی آنت کا کنسر تشخیص ہوا۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کے بٹن پر کلک کریں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •