مولانا فضل الرحمٰن کی گیارہویں تیاری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مولانا فضل الرحمان ایک جہاں دیدہ اور تجربہ کار سیاست دان ہیں وہ ماضی کی کئی سیاسی تحریکوں میں حصہ لے چکے ہیں۔ مولانا اس سے قبل جنرل ضیاء الحق کی حکومت کے خلاف اپوزیشن کی تحریک ایم آر ڈی ( تحریک بحالی جمہوریت) میں فعال کردار کر چکے ہیں۔ یہ اسی کی دہائی کی بات ہے اس وقت مولانا جمعیت علماء اسلام کے جواں سال لیڈر تھے۔ اب تو ان کی داڑھی اور سر کے بال سفید ہو چکے ہیں۔ البتہ ان کا حوصلہ اور سیاسی عزم بدستور جواں ہے۔ اس عمر میں وہ بہت متحرک ہیں۔ طویل عرصہ کے بعد قومی اسمبلی کے الیکشن میں شکست نے انہیں اور بھی متحرک بنا دیا ہے۔

جنرل ضیاء الحق کی حکومت کے خلاف ایم آر ڈی کی تحریک میں مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں جمعیت علماء اسلام نے فعال کردار ادا کیا۔ ایم آر ڈی تحریک میں جمیعت علماء اسلام کے علاوہ ا جس میں جمہوری پارٹی، تحریک استقلال، عوامی نیشنل پارٹی، پاکستان پیپلز پارٹی، قومی محاذآزادی، مسلم لیگ قاسم گروپ اور مزدور کسان پارٹی شامل تھے۔

ایم آر ڈی نے 14 اگست 1983 سے باقاعدہ تحریک چلاتے ہوئے گرفتاریاں دینے کا اعلان کیا تو حکومت نے 10 اگست کو مولانا فضل الرحمن کو پشاور سے گرفتار کرلیا اور ہری پور جیل میں رکھا فروری 1984 ء تک قید رہے پھر گھر پر عبدالخیل میں نظر بند کیا اور مارچ 1984 میں رہا ہوئے۔

دسمبر 1984 ء میں جب ضیاء نے ریفرنڈم کا اعلان کیا تو اسی روز پشاور میں ناصر خان چوک میں جلسہ ہوا۔ جس میں مولانا فضل الرحمن نے ریفرنڈم کو مسترد کیا۔ ان دنوں جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا اسد مدنی پاکستان کے دورے پر آئے تھے۔ اور مولانا مفتی محمود کی تعزیت کے لئے عبدالخیل تشریف لائے۔ انہیں رخصت کرنے ڈیرہ جاتے ہوئے راستے میں مولانا فضل الرحمن کو گرفتار کرلیاگیا۔ ضیاء کے مارشل لاء کے خلاف واحد مذہبی جماعت جمیعت علماء تھی جس کے سبب مولانا کو گرفتار کیا گیا۔

یاد رہے مولنا 1974 سے لے کر 2001 تک مختلف سیاسی تحریکوں کے دوران دس بار گرفتار و نظربند ہوچکے۔ اس کے علاوہ قاتلانہ حملوں کا بھی نشانہ بنے لیکن قدرت نے محفوظ رکھا۔ مولنا کی سیاست مذہبی انتہاپسندی کی بجائے سیکولر مذہبی سیاست رہی ہے۔ کہیں مولانا اس بار گیارہویں گرفتاری کی تیاری میں ہیں یا پھر کسی غائبانہ معاونت کے ساتھ میدان میں آتے ہیں کہ نہیں لیکن لگ ایسا رہا ہے کہ 27 اکتوبر کو اس بار ڈی چوک دوبارہ آباد ہونے والا ہے۔

ناقص سی ذاتی گزارش یہ ہے کہ معاملات اگر بہتر طریقے سے نمٹ جائیں تو ملک کے لیے بہتر رہے گا۔ حکومت کو عوام کا اعتماد تقریروں سے نہیں عملی اقدامات سے بحال کرنا ہوگا۔ عام فرد سے لے کر تاجر تک اس وقت شدید مہنگائی، بدمعاشی، لاقانونیت کی وجہ سے ڈپریشن میں ہے وگرنہ تاجروں کو چیف آف آرمی سٹاف کے پاس جانے کی ضرورت نہ پڑتی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •