کیا دانشوری کے لیے تنقید لازمی ہے؟!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمران خان نے اسلامو فوبیا پر بات کی، وہ بھی اس انداز بیان سے جوکہ مدبرانہ ہے۔ اس سے پہلے پاکستان تو کیا دنیا کے کسی حکمران نے بھی اسلام کے متعلق مغربی غلط فھمیوں اور دنیا کے دوہرے معیارات پر اتنے بڑے فورم پر اس طرح بات نہیں کی۔

عمران خان نے مغرب کو یاد دلایا کہ آپ نے جانوروں کے حقوق کے لیے تنظیمیں بنا رکھی ہیں مگر میانمار اور کشمیر میں انسانی حقوق پر آپ خاموش کیوں ہیں! ؟ اہل مغرب نے جدت کے نام پر خواتین سے لباس کے انتخاب کا حق بھی چھین لیا ہے! جیسے برقعہ کوئی ہتھیار ہے؟! یہ سوچ کتنی غیر منصفانہ ہے کہ آٹھ ہزار یہودیوں کو اگر تکلیف پہنچے تو دنیا چیخ اٹھتی ہے۔ مگر میانمار میں روہنگیہ مسلمز سے بدتر سلوک ہو تو دنیا کا ضمیر نہیں جاگتا۔

دنیا دو ارب کی مارکیٹ کو انسانیت اور انصاف پر کب تک ترجیح دیتی رہے گی۔ عمران نے ایک مدبر، انصاف پسند اور انسان دوست رہنما کی زبان میں انقلابی باتیں کیں، جن میں مذہب سے ہسٹری تک بہت سارے علمی اور عقلی نکات موجود تھے۔ عمران کی شخصیت اور سوچ نے دنیا کے ایک بڑے طبقے کے موقف کو اثر انگیز طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا ہے اور ایک حلقہ اسے سنجیدگی سے سن بھی رہا ہے، جوکہ پاکستان کے لیے اچھا شگون ہے۔ مودی کو کوئی ڈنڈا نہیں مارے گا مگر سفارتی اور عالمی سطح پر اخلاقی طور مودی بہت کمزور پوزیشن پر آگیا ہے۔

مستقبل میں اس کے اثرات مزید گہرے ہوں گے۔ مگر ہمارے ہاں بدنصیبی یہ ہے کہ باتوں کو میرٹ کے بجائے اپنے طبقاتی اور جذباتی مفادات پر دیکھا جاتا ہے، چنانچہ عمران خان کی اچھی باتوں پر بھی طنز کی جاتی ہے، قوم کو استدلال کے بجائے غیر سنجیدگیوں میں الجھایا جاتا ہے۔ کوئی ان سے یہ نہیں پوچھتا کہ چلو عمران نے آپ کے خیال میں اقوام متحدھ میں بے اثر تقریر کی، تو کیا آپ کے منظور نظر حکرانوں نے سفارتی طور پر کون سے کھلائے تھے؟

تب تو آمریکا ڈو مور کہتا اور کوئی بات نہیں سنتا تھا۔ مگر معاملات کا ایمانداری سے موازنہ کرنے کی بجائے، مکھیوں کی طرح جگہہ پر گند ڈھونڈا جارہا ہے۔ یہ کام دانشوروں اور صحافیوں نے اٹھا رکھا ہے۔ یہ نہیں بتایا جاتا کہ اقوام متحدھ میں عمران نے کون سی بات غلط کی؟! اگر اس نے دو ائٹمی طاقت ممالک مین ممکنہ جنگ پر خبردار کرتے ہوئے آخری دم تک لڑنے کی بات کی تو یہ غلط کیونکر ہوئی! کیا گارنٹی ہے کہ پاک انڈیا جنگ نہیں ہوگی؟ اور اگر ہوئی تو ائٹم بم کا استعمال نئیں ہوگا! ؟

بدقسمتی سے ہمارے دانشور اتنے غیر منصف، غیر سنجیدھ اور مبھم ہیں کہ اچھی باتوں پر تنقید کرنے کی خاطر باتون کو گھما پھراکر اپنی پسند اور طبقاتی مفادات پر لے آتے ہیں۔ دانشور کو غیر جانبدار اور میرٹ پسند ہونا چاہیے مگر بدقسمتی سے مجھے ایسا کوئی دانشور نظر نہیں آیا جو کسی کا نقاد ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی خوبیوں کا معترف بھی ہو، کیا دانشوری کے لیے محض تنقید لازمی ہے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •