مقبوضہ کشمیر کی حالت زار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوا تیرا ہزار مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلا جموں کشمیر کا خطہ 24 اکتوبر 1947 کو وجود میں آیا۔ کشمیر جو کہ ایک نیم خودمختار ریاست ہونے کے باوجود اقوام متحدہ ہ کا ممبر نہ بن سکا۔ پچھلے ساٹھ سالوں سے اس توقع پر بھارتی فوج کے ظلم و بربریت کا شکار ہو رہا ہے کہ کسی طرح خودمختار ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے میں ابھر کر سامنے آ سکے مگر گزشتہ 60 سالوں میں لڑی جانے والی جنگوں کا حاصل ناکامی کے سوا کچھ نہیں ہوا۔

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی جیسے لیڈر کا کشمیری عوام نے جس طرح استقبال کیا ایسے سیاہ استقبال کی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی مگر مودی اپنی حرکات اور پالیسیوں پر شرمندہ ہونے کے بجائے فخر کرتا ہے۔ جس نے گذشتہ چند ماہ کے دوران کشمیری لوگوں پر ظلم کی انتہا کرتے ہوئے ان لوگوں سے نہ صرف بنیادی شہری حقوق چھین لیے بلکہ اس کے احکامات اور انسان دشمن پالیسیوں کے نفاذ کی وجہ سے کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔

ہٹلر جیسے نظریات کا حامل سفاک انسان جس کے دامن پر لاکھوں بے گناہ کشمیریوں کے خون کے چھینٹے موجود ہیں اور اس کی اپنی جماعت عرصے سے بھارت میں اقلیتوں کو کسی بھی قسم کے حقوق اور تحفظ دینے سے انکاری ہیں تاریخ کے اوراق میں سیاہ حروف میں اپنی کارکردگی درج کروا رہی ہے۔ بھارتی فوج کے ظلم و بربریت کا شکار جنت نظیر خطہ جس کی چوتھی نسل کی آنکھیں موت کی دہشت اور خوف سے ماورا ہے امید کے دیے روشن کیے ایک آزادانہ ریاست کے قیام کے منتظر ہیں یہ وہی نسل ہے جنہوں نے ماں کی کوکھ میں ہی بارود کی بدبو گولیوں کی گڑگراہٹ اور کسی بھی لمحے موت کے آ جانے کی دہشت محسوس کر لی تھی۔ مسلی ہوئی کلیاں اور کملائے ہوئے پھولوں اس وقت کسی مسیحا کے منتظر ہیں جو ان کو دہشتوں سے نکال کر آزادانہ ہوا میں سانس لینے کے قابل بنا سکے۔

ایک ایسی فضا جس میں موت کے سناٹے ہر وقت پہرہ نہ دے رہے ہوں۔ ایک ایسا اطمینان جو گھر سے رخصت ہوتے ہوئے ہر ماں، بہن، بیوی، بیٹی کو پرسکون کرسکے جب وہ باہر رزق کمانے کی غرض سے جانے والے مرد کو رخصت کر رہی ہوں تو اس کے بروقت واپس آجانے کا یقین ان پر مسرتیں طاری کر سکے۔ ایک ایسا سکون جو گھر سے نکلتے وقت اس مرد کو محسوس ہو کہ واپسی پر گھر میں موجود عورتوں کی چادر اسی طرح سر پر قائم ملے گی جس حالت میں ان کو چھوڑ کر جا رہا ہے۔

بوڑھا علی گیلانی، فالج زدہ یاسین ملک اور بہادر میرواعظ اس خطے کے نڈر لیڈر ہیں جو پاکستان سے رشتہ کیا لا الہٰ الا اللہ کے نعرے لگاتے بدحالی کی آخری سیڑھی پر کھڑے ہیں مگر اپنا حق، اپنا مشن اپنی آزادی کی لگن سے ایک قدم بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کشمیریوں کے ایمان، جذبہ جنون، اور آزادانہ وطن کے قیام کی لگن محبت اور شدت ضرور انہیں ایک دن آزادی کی نعمت سے مالامال کر دے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
وجیہہ جاوید کی دیگر تحریریں
وجیہہ جاوید کی دیگر تحریریں