لڑو اپنے حق کے لئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اُس وقت میری عمر اتنی زیادہ نہ تھی، لڑکا تھا، اور پہلی بار حالات کے جبر سے ٹکر لے رہا تھا۔ گھر کے لیے بجلی کا کنکشن منظور کروانا تھا، ایس ڈی او واپڈا غلام نبی ملک سے ملا انہوں نے حسب دستور ہیڈ کلرک سندر کمار کھتری کی طرف بھیجا، اس نے کہا کہ سر آٹھ ہزار خرچہ آئے گا۔

میں حیسکو کی نیو کنیکشن پالیسی کا پرنٹ لے کر گیا تھا، اسے دکھایا جس میں تین سو روپے لکھے ہوئے تھے۔ اس نے کہا کہ پھر آپ جا کر حیسکو سے لے لیں۔

خیر میں نے ایس ڈی او کو درخواست دی اس نے ردی کی ٹوکری میں پھینک دی، ایکسین سانگھڑ کے پاس کمپلنٹ لے کر گیا اس نے فوراً ایس ڈی او سے بات کی، فون رکھ کر بولا آپ ملک صاحب سے مل لیں وہی کام کر سکتے ہیں۔

واپس آیا تو اس فرعون کے چہرے پر وہی مکروہ مسکراہٹ کہ جاؤ کلرک سے ملو۔ اور فخر سے سینہ چوڑا جیسے کشمیر فتح کر کے آیا ہے۔

لیکن میں نے حوصلہ نہیں ہارا، یہ اس وقت کی بات ہے جب واپڈا سفید ہاتھی کہلاتا تھا، کوئی ان سے پوچھنے والا ہی نہ تھا، اب تو شکر ہے سٹیزن پورٹل جیسے کمپلنٹ سیل اور ظفریاب صاحب جیسے نمائندے چوبیس گھنٹے کمپلین سننے کے لئے بیٹھے ہیں، اور فوراً اسی ڈسک کے سی ای او کو ایک عام شہری کی شکایت پر پکڑتے ہیں۔

خیر میں کلرک کے پاس گیا، اس نے کہا جناب آٹھ ہزار۔ واپس آتے ہی ایس ای نوابشاہ، حیسکو چیف تک کو کمپلنٹ کی لیکن کوئی تدارک نہ ہوا۔ ایک دن اسی پریشانی میں تھا تو اندر سے آواز آئی، مایوسی کفر ہے، ان ظالموں کے آگے جھکنا نہیں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسا رکھیں۔

اور یوں میں نے سانگھڑ سیشن جج کے پاس ہیومن رائٹس پٹیشن فائل کی جس میں ایس ڈی او باقی اس کے چیلوں کو پارٹی بنایا، اس وقت سانگھڑ میں سیشن جج زیدی صاحب تھے، جن کے ایمانداری کے چرچے تھے ان کے رعب و دبدبے سے افسر شاہی کانپتی تھی۔

نوٹسز جاری ہوئے مجھے دھمکایا گیا، ہر طرح سے دباؤ ڈالا گیا کہ لڑکے تجھے جھوٹے کیس میں جیل بھیجیں گے وغیرہ وغیرہ، لیکن میں نے عہد کیا تھا کہ کمپرومائز نہیں کروں گا اور نہ ہی بھتہ دے کر جیوں گا۔

اللہ اللہ کر کے پیشی ہوئی جج نے بغیر کچھ سنے اس کی ماں بہن ایک کر دی (زیدی صاحب بلڈ پریشر کے مریض تھے تو اکثر گالیاں بھی بول جاتے تھے ) ، ایس ڈی او ملک کی منتیں کہ سر سر سر سر میں ابھی دیتا ہوں۔

اور دوسرے دن بلا کسی معاوضہ میٹرلگا کر گئے، اگرچہ ان کی ڈمانڈ آٹھ ہزار کی تھی میں نے بیس ہزار خرچ کیے، لیکن ان کو بھتہ نہ دیا۔

ہر محکمے میں یہی سسٹم ہے نیچے سے اوپر تک ایک چین ہے سب آپس میں ملے ہوئے ہیں، کِس کی شکایت کس سے کریں؟ اس طرح زندگی امتحان لیتی رہی لیکن الحمد للہ میں نے کبھی سرینڈر نہ کیا۔ اور سول سروینٹس کی چادر میں چھپے حکمرانوں کا مقابلہ کرتا رہا۔

پچھلے کچھ دنوں سے سوچنے لگا یار اگر سکون کی زندگی جینا ہے تو ان کو ہڈی ڈال دو، آپ کس کس کے خلاف کورٹ جائیں گے۔سندھ میں رہنا ہے تو ان کو پیسے دو اور کام لو۔ پیسوں کی خاطر یہ سب کچھ کرنے کو تیار ہو جائیں گے۔

اور اپنی زندگی کا یہ تجربہ دوستوں سے شیئر کرنے والا تھا کہ یار ہم ان مافیاؤں سے لڑ نہیں سکتے ہیں، منسٹر تک سب کی منتھلی فکس ہیں، اس لیے ڈھیٹ بنیں اور گردن جھکا کر غلاموں کی طرح وائسرائے کے کارندوں کو بھتہ دیں کیونکہ ہم نے انگریزوں کی غلامی سے نجات حاصل کی ہے لیکن ان کے غلاموں (سول سروینٹس) سے آزاد نہیں ہوئے ہیں۔

دو دن سے اسی پر لکھنے کا سوچ رہا تھا تو اللہ تعالیٰ نے ایک دوست کے ذریعے رہنمائی فرمائی، نصیحت کرنے لگے مسعود بھائی یہ مشکل وقت سب پر آتا ہے، مجھے بہت تکالیف دیکھنی پڑیں لیکن میں نے کبھی ان سے ہار نہیں مانی، اپنے حق کے لیے ڈٹے رہیں، دنیا کی کوئی طاقت آپ کو مغلوب نہیں کرسکتی ہے۔

صرف ایک شرط ہے آپ نے خود ہتھیار نہیں ڈالنے ہیں، اندر کے خوف پر قابو پانا ہے، پھر دیکھنا آگِ نمرود کس طرح آپ کے لیے گلزار بن جاتی ہے، کس طرح آپ پر من و سلویٰ کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور فرشتے آپ کی مدد کو اتارے جاتے ہیں۔

ان الفاظ نے مجھے نئی انرجی فراہم کی، نیا حوصلہ اور توانائی بخشی اور نوجوانوں کو بزدلی اور غلامی کا مشورہ دینے کا ارادہ ترک کر کے انہیں ٹیپو سلطان کا قول یاد دلاؤں گا:

گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے۔ اللہ رب العزت ظفر الاسلام صاحب اور ہم سب کو باطل قوتوں کے مقابلے میں سرخرو فرمائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •