پانچ سال میں لاڑکانہ میں کتوں کے کاٹنے کہ کیس ایک لاکھ سے تجاوز کر گئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کا صوبہ سندھ جہاں نمرتا قتل کیس اور کاروکاری جیسے بے شمار واقعات کا سلسلہ جاری ہے وہیں اس صوبے کے شہر لاڑکانہ میں سگ گزیدگی کے واقعات میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے اور کتوں کے کاٹنے کی ویکسین نہ ملنے کے سبب لوگوں کی ہلاکت بھی ہو رہی ہیں۔

کچھ دن قبل شکار پور کے 10 سالہ بچے کو کتے کے کاٹنے پر لاڑکانہ کے سول ہسپتال پہنچا مگر کتوں کے کاٹنے کی ویکسین نہ ملنے سے معصوم تڑپ تڑپ کر اپنی ماں کی گود میں دم توڑ گیا۔ بچے کی ہلاکت پر اسپتال انتظامیہ نے روایتی نواب دیتے ہوئے کتوں کے کاٹنے کی ویکسن کی عدم دستیابی کا عذر پیش کیا اور ہم اس سلسلے میں کچھ نہیں کر سکتے کہہ کر اپنی جان خلاصی کروائی۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر لاڑکانہ کے ایم این اے اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی بہن آصفہ بھٹو کی اپنے کتے کے ساتھ تصویر وائیرل ہونے پر سوشل میڈیا کے صارفین نے تبصرے کرتے ہوئے کہا کہ کتوں پر خرچ کرنے کے لئے ماہانہ لاکھوں کا بجٹ استعمال ہوتا ہے لیکن سندھ کے عوام کو کتے کے کاٹنے کی ویکسن تک فراہم نہیں کی جاتی۔

جبکہ محکمہ صحت لاڑکانہ نے کتوں کے کاٹنے سے متعلق ایک رپورٹ بھی جاری کی ہے جس میں 2015 سے رواں سال ستمبر تک کتوں کے کاٹنے سے متاثرہ لوگوں کے اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں۔ لاڑکانہ میں سن 2015 میں سب گزیدگی کے 18 ہزار 22 کیس رپورٹ ہوئے جبکہ 2016 میں 19 ہزار تین سو، 2017 میں 19 ہزار 925 اور 2018 میں سب سے زیادہ 32 ہزار 790 کیسز ریکاڈ پر ائے۔

رواں سال میں بھی 20 ہزار 190 سے زائد کتے کہ کاٹنے کہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں ”لاڑکانہ میں کتے کے کاٹنے سے ہلاکت کا واقعہ رونما ہوئے کہ بعد بھی ہفتوں تک ویکسن فراہم نہیں کی گئی۔ کتوں کے کاٹنے کی خبر پر محکمہ صحت سندھ کی وزیر عذرا پیچوہو کا کہنا ہے کہ ہر کتے کے کاٹنے پر ویکسن کا استعمال ضروری نہیں ویکسن بہت مہنگی ہے لہذا کتے کی نوعیت دیکھ کر ویکسن کا استعمال کریں، اگر وہ پاگل ہے تو اے آر او ویکسن کا استعمال کیا جائے ۔

دوسری جانب سندھ ہائیکورٹ میں سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں کتے کے کاٹنے کی ویکسین کی فراہمی کے خلاف دائر درخواست میں قومی ادارہ برائے صحت نے کتے کے کاٹنے کی ویکسین سے متعلق رپورٹ پیش کی جس میں بتایا گیا کہ سندھ حکومت کو جنوری 2019 سے اب تک 6 ہزار ویکسین فراہم کی جاچکی تھی مگر موجودہ صورت حال کے پیش نظر فوری طور پر مزید 2500 ویکسین دی گئی ہے۔ رواں سال ہر صوبے کو دو لاکھ ویکسین فراہم کی گئی ہے، دسمبر 2019 تک مزید تین لاکھ ویکسینز تیار کی جائیں گی جو تمام صوبوں کے سرکاری اسپتال میں فراہم کر دی جائے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •