پلاسٹک بیگز پر پابندی اور پاکستانی قوم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم پاکستانی ہیں، ہر اچھے کام میں کیڑے نکالنا اور ہر اچھے فیصلے پر عمل درآمد کی راہ میں روڑے اٹکانے پر جتنا ملکہ ہمیں حاصل ہے، روئے زمین پر شاید ہی اور کسی قوم کو ہو۔ یہ فیصلہ اگر ہمارے مخالف کی طرف سے سامنے آیا ہو پھر تو اسے دنیا کا سب سے نقصان دہ فیصلہ ثابت کرنا ہم پر جی جان سے فرض ہو جاتا ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ ماحول کی تباہی میں حصہ ڈالنے والے ایک بڑے عنصر یعنی پلاسٹک کی تھیلیوں پر پابندی کے بعد بھی دیکھنے میں آیا ہے۔ سوشل میڈیا پر دو چار روز سے ایک جیسی کچھ تحریریں شیئر کی جا رہی ہیں۔ ان تحریروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستانیوں کی اکثریت ماحول کی تباہی اور اس کی وجوہات سے کس حد تک لاعلم ہے۔ فیس بک پر شیئر کی گئی ایک تصویر میں لکھا ہے :

”شاپنگ بیگ کی طرح سگریٹ، چرس، شراب، نسوار اور آئس پر بھی پابندی لگنی چاہیے، شاپر ماحول کو تباہ کر رہا ہے، نشہ نسل کو“

گویا اس تحریر کے ”خالق“ کا یہ کہنا ہے کہ ملک میں چرس، شراب اور آئس کا استعمال باقاعدہ حکومتی اجازت سے ہو رہا ہے، اس لیے ہم تو شاپنگ بیگ پر پابندی کو اسی صورت برداشت کریں گے جب حکومت یہ نشے بھی استعمال کرنے کی اجازت واپس لے لے۔ اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ منشیات استعمال کرنے کے انفرادی فعل کو نسلوں کی بربادی کا سبب مانا جا رہا ہے لیکن شاپنگ بیگ کے استعمال کو صرف ماحول سے جوڑ دیا گیا۔ یعنی ماحول کی تباہی سے جو پوری نوع انسانی ہی خطرے سے دوچار ہے، اس کا ادراک شاید ابھی پوری طرح سے کیا ہی نہیں جا سکا۔

ایک زمانہ تھا جب ان پلاسٹک بیگز کا استعمال اتنا عام نہیں تھا۔ گھر سے دودھ دہی لینے نکلتے تو اسٹین لیس اسٹیل یا المونیم کا ڈول ہاتھ میں ہوتا تھا۔ بازار سے گرما گرم سالن لانا ہوتا تو ہاٹ پاٹ ساتھ رکھتے۔ تندور سے روٹی لانے کے لیے گھر سے کپڑا ساتھ لے جانا معمول تھا۔ کولڈ ڈرنک شیشے کی بوتلوں میں ملتی تھی۔ پینے کا پانی پلاسٹک بوتلوں میں فروخت ہونا شروع نہیں ہوا تھا۔ پھل سبزی اور راشن کے لیے کپڑے کے تھیلے یا کھجور کے پتوں سے بنی ٹوکریاں استعمال کی جاتی تھیں۔

پھر زمانہ بدلا اور صحت کی جگہ سہولت کو ترجیح دی جانے لگی۔ اب اسٹیل کی بجائے میلامائن کے ڈنر سیٹ میں کھانا مہذب ہونے کی نشانی ہے۔ یونیورسٹیوں، کالجوں، اسپتالوں اور ریسٹورینٹس میں چائے یا کافی اسٹائرو فوم کے ڈسپوزایبل کپس میں ملتی ہے۔ اسٹائروفوم کے کپ میں گرما گرم چائے سے کون کون سے کیمیکل اس کا حصہ بن جاتے ہیں، اس بارے میں سوچنے کی زحمت نہیں کی جاتی۔ اب چٹیاں، اچار، کولڈ ڈرنکس اور پینے کے پانی سے لے کر چپس، نمکو، بسٹک اور نہ جانے کون کون سی بیسیوں اشیا پلاسٹک کی بوتلوں اور ریپرز میں ملتی ہیں۔ اس خوراک سے ہمارے جسم میں روزانہ کتنے مائیکرو پلاسٹک کے ذرات داخل ہوتے ہیں، اس کا حساب بھی ابھی تک نہیں لگایا گیا۔

پلاسٹک کی بوتلوں میں مشروبات، پلاسٹک کے شاپنگ بیگز میں کھانے پینے کی اشیا کا استعمال اب اس قدر عام ہے کہ ان کے بغیر خوراک کی ترسیل ناممکن سی لگتی ہے۔ طبی ماہرین یہ بتا بتا کر تھک چکے ہیں کہ یہ پلاسٹک زہر ہے لیکن ان کی آواز میڈیا کے ذریعے عوام تک بمشکل ہی پہنچتی ہے کیوں کہ میڈیا کو ملنے والے اشتہارات میں 50 فیصد سے بھی زائد حصہ غذائی اشیا کا ہے۔ ٹی وی پر چلنے والے اشتہارات دیکھ لیں، شاید ہی کوئی کھانے پینے کی ایسی چیز ہو جسے خوشنما پلاسٹک ریپر میں پیش نہ کیا جاتا ہو۔

پھر ذرا تیزی سے پھیلتی بیماریوں کا جائزہ لیں۔ پولی ایتھائلین یا پولی پروپائلین کئی طرح کے کینسر کا باعث بن سکتے ہیں۔ گرم خوراک جب پلاسٹک کی ان تھیلیوں میں ڈالی جاتی ہے تو کیمیائی عمل سے کئی زہریلے مادے اس خوراک کا حصہ بنتے ہیں۔ ان سے سانس، گلے اور گردوں کی بیماریاں عام ہیں لیکن پھر بھی صحت پر سہولت کو ترجیح دینے کا سلسلہ جاری ہے۔

پاکستانی میڈیا کی بات کریں تو شاپنگ بیگز پر پابندی سے مسائل کے شکار شہریوں کا ذکر تو کیا جا رہا ہے، لیکن یہ شاپنگ بیگ صحت اور ماحول کی تباہی میں کس حد تک حصہ دار ہیں، اس بارے میں کوئی موثر رپورٹ نظر سے نہیں گزری۔ اگر شاپنگ بیگز پر پابندی کو سراہا بھی گیا تو اس تناظر میں، کہ ان سے نالیاں اور سیوریج سسٹم چوک ہو جاتا ہے اور یوں بارش کی صورت میں پانی کی نکاسی ممکن نہیں رہتی۔ عوام کو یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ پلاسٹک بیگ کس مادے سے بنتے ہیں، ان میں کھانے پینے کی اشیا کا استعمال کس حد تک نقصان دہ ہے۔ یہ مادے کون کون سے بیماریاں پھیلا سکتے ہیں۔

پولی ایتھائلین یا پولی تھین سے تیار کردہ پلاسٹک ماحول کی تباہی کا ایک بڑا سبب ہے۔ امریکی ڈیجیل میڈیا کمپنی دی آٓؤٹ لائن کے مطابق پولی تھین سے تیارہ کیے گئے پلاسٹک بیگ کو ڈی کمپوز ہونے میں 500 سے 1000 سال لگ سکتے ہیں۔ دنیا بھر میں ان بیگز پر پابندی لگا کر ان کی جگہ جلد ڈی کمپوز ہونے والے یا بائیو ڈی گریڈ ایبل بیگز کو متعارف کرایا گیا ہے۔ پاکستان میں بھی ایسے بیگز متعارف کرائے گئے ہیں، لیکن جب تک پولی تھین بیگز پر مکمل پابندی عائد نہیں کی جاتی، بائیو ڈی گریڈ ایبل یا ماحول دوست بیگز کے استعمال کو عام نہیں کیا جا سکتا۔ صرف ان پلاسٹک بیگز پر پابندی لگانا ہی کافی نہیں، عوام کو یہ سمجھانا بھی ضروری ہے کہ یہ پابندی ان کے اپنے فائدے میں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ریاض احمد نجم کی دیگر تحریریں
ریاض احمد نجم کی دیگر تحریریں