سومناتھ پر رومیلا تھاپر کی کتاب کا جائزہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پانچویں باب میں زبانی روایت اور شاعرانہ قصوں کو موضوع بحث بنایا گیا ہے۔ محمود کا ہم عصر اور مالوہ ریاست کا درباری شاعر دھن پال اپنی نظم میں محمود کے گجرات پر حملے اور راستے میں آنے والے شہروں کی لوٹ مار کو بیان کرتا ہے۔ وہ سرسری انداز میں سومنات کے بت کو توڑنے کا بھی ذکر کرتا ہے۔ چونکہ اس دور میں شیو کے ماننے والوں اور جینیوں کے مابین کشمکش جاری تھی اس لیے وہ جنوبی راجستھان میں ستیاپور کے مقام پر جین مندر کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ محمود تمام تر کوشش کے باوجود اس مندر میں پائے جانے والے کو توڑنے میں ناکام رہا۔ اس طرح وہ جینیوں کے بت کی دوسرے بتوں پر برتری ثابت کرتا ہے۔ لہٰذا یہ بات بھی درست نہیں کہ سنسکرت ماخذوں میں محمود کے حملے کا ذکر سے سرے سے ناپید ہے۔

ہندووں کے نزدیک یہ کل یگ کا زمانہ تھا اس لیے اس میں ایسے واقعات کا پیش آنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں تھی بلکہ ان کا ہونا لازم تھا۔ کسی بھی مذہب کے ماننے والے ہوں ان کے پاس مصائب کی بہت عمدہ توجیہات ہوتی ہیں۔ اگر مسلمان حملہ آور ان کے دیوتاوں کے بتوں کو توڑ کر چلے جاتے تھے تو اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ ان کے دیوتا کمزور تھے۔ بلکہ اس تباہی میں ان دیوتاوں کی منشا شامل ہوتی ہے کیونکہ وہ اپنے ماننے والوں کو ان کی بد اعمالیوں کی سزا دینا چاہ رہے ہوتے ہیں۔

مسلمانوں کے لیے یہ توجیہ اجنبی نہیں ہو سکتی۔ مثلاً طبقات ناصری میں جوزجانی نے لکھا ہے کہ ”علاؤ الدین محمد خوارزم شاہ نے قوت حاصل کر لی اور [عباسی خلیفہ] امام ناصرکی مخالفت شروع کر دی۔ اس نحوست کا وبال اس پر بھی نازل ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے چنگیز خان ملعون کو بھیجا، خوارزم کی سلطنت کا تختہ الٹ گیا۔ حضرت ناصر لدین اللہ نے بغاوت کے ننگ سے نجات پائی“۔

پروفیسر رومیلا تھاپر ایک بہت عمدہ اور متوازن کتاب لکھنے پر یقینا مبارک باد ہیں لیکن بعض مقامات پر احساس ہوتا ہے کہ انھوں نے خواہ مخواہ پر کا کوا بنانے کی کوشش کی ہے۔ مثلاً مسلمانوں اور ہندووں کے بجائے اس کو ترکوں اور راجپوتوں کی کش مکش قرار دینا، یا ترکوں اور مسلمانوں میں فرق کرنا۔ اسی طرح ہندوستان کے مغربی ساحل پر آنے والے عرب تاجروں اور افغانستان کی طرف سے آنے والے حملہ آوروں کے رویوں میں فرق کرنا۔ یہ بدیہی سی بات ہے کہ تاجر اور حملہ آور کے مقاصد مختلف ہیں اور ان کے رویے کا تعین بھی اسی بنا پر ہو گا۔

عرب تاجروں اور مقامی ہندووں میں دوستانہ تعلقات کو بیان کرنے کے لیے انھوں نے اس دستاویز کو بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے جس میں مسلمان تاجر نور الدین فیروز کو سومناتھ کے علاقے میں مسجد بنانے کے لیے زمین دی گئی تھی۔ یہ دستاویز سنسکرت اور عربی دونوں زبانوں میں لکھی گئی تھی۔ سنسکرت کے برعکس اس کے عربی متن میں ایک ایسا جملہ موجود ہے جو مسلم ذہن کی بہت عمدہ غمازی کرتا ہے۔ اس میں وہ تاجر صاحب اس خواہش کا اظہار کرتے ہیں کہ سومنات پٹن کا علاقہ اسلام کا شہر بن جائے اور یہاں نہ کوئی کافر رہے نہ کوئی بت۔ (ص 94 )

تھاپر کا یہ بھی کہنا ہے کہ سومناتھ پر حملے کا مقصد صرف بت شکنی نہیں تھا، نہ صرف مال غنیمت کا حصول تھا بلکہ سومناتھ کے ذریعے عربوں کی گھوڑوں کی تجارت کو مغربی ہندوستان میں روکنا تھا جو غزنی کے راستے ہونے والی گھوڑوں کی تجارت کے لیے خطرہ تھی۔ ( 51 )

یہ بات درست ہے کہ تاریخی واقعات کا کوئی ایک سبب نہیں ہوتا لیکن پھر بھی تیسری وجہ کو قبول کرنا کافی مشکل ہے۔ ایک حملے سے گھوڑوں کی تجارت یا اس بندرگاہ کی تجارتی سرگرمیوں پر کیا اثر پڑنا تھا۔ ہاں اگر سلطان محمود وہاں اپنا کوئی گورنر مقرر کر دیتا اور اس بندرگاہ کو بند کر دیتا تو پھر یہ بات قابل قبول ہو سکتی تھی۔

نوجوان رومیلا تھاپر برٹرینڈ رسل کے ہمراہ

ویسے بھی جنگ اور تجارت ایک دوسرے کے نقیض نہیں۔ جنگوں کے درمیان حکومتوں کے مابین سفارتی وفودکا تبادلہ بھی ہوتا رہتا تھا اور تجارتی سرگرمیاں بھی جاری رہتی تھیں بلکہ جنگ بجائے خود ایک تجارتی سرگرمی بھی ہوتی تھی۔ 635 ء سے مسلمان رومی سلطنت سے آٹھ صدیوں تک مسلسل حالت جنگ میں رہے ہیں۔ اس کے باوجود اموی خلیفہ عبد الملک کے عہد میں جب قبة الصخرہ کی تعمیر کی گئی تو اس کا سامان اور کاریگر رومی سلطنت سے ہی منگوائے گئے تھے کیونکہ عربوں کوعمارتیں بنانے میں کوئی مہارت حاصل نہیں تھی۔ اسی طرح اسی خلیفہ کے عہد میں جو پہلا سکہ جاری کیا گیا وہ بھی رومیوں سے بنوایا گیا تھا اور اس پر خلیفہ کی تصویر بھی تھی۔

88 ہ میں خلیفہ ولید بن عبد الملک نے بادشاہ روم کو لکھا کہ میرا ارادہ مسجد نبوی کی تعمیر کا ہے۔ پس اس نے ایک لاکھ مثقال سونا، اور ایک سو نامور کاریگر، اور چالیس اونٹ فسیفار (رنگین پتھر) روانہ کیا۔ یہ واقعہ طبری سے لے کر ابن خلدون تک سبھی مورخین نے بیان کیا ہے۔

1027 ءمیں بازنطینی شہنشاہ اور فاطمی خلیفہ کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا جس میں رومیوں نے وعدہ کیا کہ وہ قسطنطنیہ میں موجودمسجد کی تعمیر نو اوراس میں موذن کے تقرر اور نماز کی ادائیگی کی اجازت دیں گے، اس کے بدلے میں نصرانی یروشلم میں کنیسہءقیامہ کی مرمت، بحالی اور تزئین کریں گے۔ اس معاہدے کی بعد میں کئی بار تجدید ہوئی۔ معاہدے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قسطنطنیہ میں مسجد پہلے سے موجود تھی جو ظاہر ہے وہاں جانے والے مسلمان تاجروں کے لیے تعمیر کی گئی ہو گی۔

ہندوستان میں سلطان محمود کی تاخت و تاراج کا کیا مقصد تھا؟ مسلمان، بالخصوص برصغیر کے مورخین نے اس کو اتنا بڑا ہیرو بنا کر پیش کرنے کے اسباب کیا ہیں؟ فارسی شعرا نے محمود کا مقام و مرتبہ اتنا بڑھا چڑھا کر کیوں بیان کیا ہے؟ اس سوالات کا جواب آئندہ قسط میں پیش کروں گا۔

یہ بھی پڑھیے

رومیلا تھاپر، سومنات اور محمود غزنوی

https://www.humsub.com.pk/21437/sajid-ali-12/

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •