’نئی‘ ٹیم میں عمر اکمل، احمد شہزاد کا کیا کام؟

سمیع چوہدری - کرکٹ تجزیہ کار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمر اکمل

خبر یہ نہیں کہ پاکستان سری لنکا سے ہار گیا۔ خبر یہ ہے کہ پاکستان اپنے اندازوں سے ہار گیا۔ نمبر ون ٹیم کا کپتان اپنی فارم سے ہار گیا اور پاکستان دو ’سینئرز‘ کے ’کم بیک‘ سے ہار گیا۔

پہلے پاور پلے میں پاکستان کی بولنگ یقین سے عاری نظر آئی اور ایک بار پھر دنشکا گوناتھیلکا کی جارحیت کے رحم و کرم پہ دکھائی دی۔ حالانکہ تیسرے ون ڈے میں گونا تھیلکا کی سینچری اس قدر حیران کن تھی کہ پاکستانی بولنگ کنفیوز سی ہی رہی۔ بیچ کے تین دن کے وقفے میں تھنک ٹینک کو اتنا تو کر لینا چاہیے تھا کہ گونا تھیلکا کی تکنیک پر ہی تھوڑا بہت ہوم ورک کر لیتے۔ ماڈرن کرکٹ میں آدھی لڑائی لیپ ٹاپ پر لڑی جاتی ہے۔ ایک ایک پلئیر کے پچھلے کئی میچز کی ویڈیوز موجود ہوتی ہیں، خامیوں کا تجزیہ کرنے کے لیے بے تحاشا ڈیٹا ہوتا ہے اور سٹریٹیجی بنانے کے لیے ایک لمبا چوڑا سپورٹ سٹاف بھی۔

کرکٹ

مگر سپورٹ سٹاف شاید یہ سوچ کر ہی مطمین ہو گیا تھا کہ اب عمر اکمل اور احمد شہزاد جیسے تجربہ کار سینئرز واپس آ گئے ہیں لہٰذا گھبرانے کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے۔

ہم نے میچ سے پہلے تجزئیے میں بھی عرض کیا تھا کہ نجانے کیوں سلیکشن کے ہنگام صرف ڈومیسٹک کرکٹ کے اعداد و شمار پر ہی فیصلہ کر لیا جاتا ہے۔ دیکھا تو یہ بھی جانا چاہیے کہ متعلقہ کھلاڑی پریشر کو کیسے ہینڈل کرتا ہے، میچ کو کیسے لے کے چلتا ہے اور ماضی میں اس کی پاکستان کے لیے کیا خدمات رہی ہیں۔

مصباح الحق نے مگر صرف ڈومیسٹک سیزن کی کارکردگی پر ہی دونوں بزرجمہروں پہ نگاہِ انتخاب جما لی۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جس بولنگ کے سامنے یہ دونوں ’سینئرز‘ بے بس نظر آئے، وہ بلاشبہ بہت اچھی تھی مگر ایسی تباہ کن بھی نہیں تھی کہ نمبر ون ٹیم کو اتنے بڑے مارجن سے ہرا سکتی۔

احمد شہزاد نے حسبِ ماضی اننگز کو ’بِلڈ‘ کرنے میں کئی آسان گیندوں کو بھی بھرپور عزت دی اور یہ ممکن بنایا کہ دو وکٹیں گرنے کے بعد ہی تمام امیدیں پاکستان کے ڈریسنگ روم سے کوچ کر جائیں۔

موصوف کو ایک بھرپور چانس بھی ملا کہ ان کی ’مِس ہٹ‘ قدرت کے کرم سے ایسی جگہ گری جہاں کوئی اسے کیچ کرنے کے لیے موجود نہیں تھا۔ ایسے چانس ملنے کے بعد اگر کوئی اچھا پلئیر ہو تو کم از کم ففٹی تو کرتا ہی ہے۔

عمر شہزاد

اور پھر عمر اکمل۔۔۔ کہ جن کی تکنیک کی جس قدر داد دی جائے کم ہے۔ موصوف اتنے دور اندیش ثابت ہوئے کہ ڈریسنگ روم سے ہی طے کر کے آئے تھے کہ گیند جہاں بھی پڑے، بلا لیگ کی طرف گھومے گا۔

مصباح کی سلیکشن کا یہ دوہرا معیار فی الوقت مجھ سمیت کئی لوگوں کے فہم سے بالاتر ہے کہ جہاں ایک طرف شعیب ملک اور محمد حفیظ سے صرفِ نظر اس لیے کیا گیا کہ آئندہ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے لیے نئی ٹیم تیار کرنا ہے، وہیں اس نئی ٹیم میں پتا نہیں کیوں عمر اکمل اور احمد شہزاد جیسے نابغوں کی ضرورت پڑ گئی جو سالہا سال انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کے بعد بھی پریشر سے نمٹنا نہیں سیکھ پائے۔

عین ممکن ہے کہ اگلے دونوں میچز ہی نہیں، سیریز بھی پاکستان جیت جائے اور عمر اکمل اور احمد شہزاد دونوں سینچریاں بھی کر جائیں لیکن یہ سوال تب بھی رہے گا کہ اس ’نئی‘ ٹیم میں پرانے عمر اکمل اور احمد شہزاد کیا کر رہے ہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •