”شوباز“ کے لئے واپسی کی دُعائیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بتایا گیا، یہ ایک ایسے شخص ہیں،جن کے گھر میں بجلی تک نہیں ہے، یہ سیاسی قابلیت یا نوحہ سننے کے بعد تو سوال بنتا تھا کہ ایک ایسا خاندان جو مجلس شوریٰ کا رکن، ایم پی اے اور تحصیل ناظم کے عہدے پر رہا ہو…… اگر اپنے گاؤں میں بجلی نہیں لگوا سکا تو یہ ان کی مظلومیت نہیں نالائقی ہے۔لوگ حیران ہیں کہ بنی گالہ کی پہاڑی پر بیٹھے نظر باز نے ڈیرہ غازی خان کے ایک گاؤں میں رہنے والے عثمان بزدار کی خوبیوں کو پہچانا تو کیسے پہچانا…… لوگ دماغ لڑاتے ہیں تو ایک ہی جواب ملتا ہے کہ یہ کوئی روحانی”واردات“ ہے۔ کوئی سیاسی طور پر بالغ آدمی تو اتنے بڑے صوبے کی ذمہ داری کسی ایک ایسے شخص کے کاندھوں پر نہیں ڈال سکتا…… جو اپنے پاؤں پر اپنا جسم نہیں سنبھال سکتا ہو۔عثمان بزدار نے وزیراعلیٰ پنجاب کا منصب سنبھالا تو لوگوں نے اعتراض اٹھایا کہ ایک ”شو باز“ کے متبادل کے طور پر تو کسی شہباز کی ضرورت تھی،جو پنجاب کی وادیوں میں پرواز کرے، یہ تو وزیراعلیٰ ہاؤس سے نکلنے کے بعد جب واپس آتے ہیں تو آوازِ بلند فرماتے ہیں،کوئی ہے جو مجھے وزیراعلیٰ ہاؤس کا راستہ دکھائے۔

”سرائیکی وسیب“ نے خوشی کے جشن منائے، کالم نگاروں نے لفظوں کے ایسے ایسے نذرانے پیش کئے کہ کوئی حسینہ کسی عاشق کو پھول کیا پیش کرے گی…… کہا گیا…… پنجابی مافیا نہیں چاہتا کہ تخت پنجاب پرکوئی سرائیکی چہرہ نظر آئے، بعض دوستوں نے کہا، چند دِنوں کی بات ہے انگلیوں میں گنے ہوئے سو دِنوں کی، علیحدہ جنوبی پنجاب صوبہ بن جائے گا۔ عثمان بزدار جنوبی پنجاب کے وزیراعلیٰ بن جائیں گے باقی ماندہ پنجاب جانے اور پنجاب کی حکمرانی کے دیگر خواہشمند، پھر جب جنوبی پنجاب میں وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے قیام کی آواز سنائی دی…… تو دوستوں نے ایک بار پھر خوشی کے ترانے گانے شروع کر دیئے، مگر کب تک؟

گزشتہ روز سجاد جہانیہ کی کتاب ”ادھوری کہانیاں“ کی تقریب رونمائی کے لئے ملتان گیا تو لوگ عثمان بزدار کا نام سنتے ہی منہ دوسری طرف پھیر لیتے تھے۔وہ جسے کل تک سرائیکی نمائندہ سمجھا جا رہا تھا،اب بتایا گیا کہ عثمان بزدار تو ”بلوچوں“ کے لئے کام کر ر ہے ہیں۔ان کا سرائیکی سے کیا لینا دینا…… ان کے کئی ہم جماعتوں نے بھی عثمان کے زمانہ طالب علمی کے واقعات سناتے ہوئے بتایا کہ موصوف اس زمانے میں بھی گم سم،اپنی دُنیا میں مست، رہا کرتے تھے، اب بھی ویسے ہی ہیں۔پورے پنجاب کی حالت خراب ہے، کسی بھی حوالے سے کہیں بھی کچھ حرکت نظر نہیں آتی۔ البتہ بعض محکموں کے ایسے لوگوں کو کنارے لگانے کا کام جاری ہے، جو دِن رات خدمت کر کے اپنے محکموں یا اداروں کو متحرک کئے ہوئے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کو ایسے لوگ ایک آنکھ نہیں بھاتے جو کسی بھی ادارے میں نمایاں خدمات سرانجام دے رہے۔

مثال کے طور پر ملتان آرٹس کونسل بہت اوپر جا رہی تھی، ملتان کے لوگ بہت خوش تھے۔آرٹسٹ خوش تھے، مگر وزیراعلیٰ پنجاب کو ”ملتان آرٹس کونسل“ کی یہ حرکت پسند نہ آئی اور اس کا سربراہ بدل دیا، پھر لوگوں نے احتجاج کیا تو دوبارہ واپس بھیج دیا،مگر پھر دوبارہ تبادلہ کر دیا اور اس وقت ملتان آرٹس کونسل ایک بار پھر ”بھوت بنگلہ“ بنی یا بنتی نظر آتی ہے۔یہی حال لاہور ”پلاک“ کے ساتھ کیا گیا، گزشتہ کئی سال سے یہ ادارہ بہت نمایاں کام کر رہا تھا۔لاہور کے لوگ اس ادارے کے کام سے بہت خوش تھے۔ دِن رات میلہ لگا رہتا تھا۔ ہر طرح کے پروگراموں سے لوگ لطف اندوز ہو رہے تھے،مگر وزیراعلیٰ پنجاب کو اس ادارے کا ”تحرک“ بھی پسند نہ آیا اور اب اچانک ایک تبدیلی کے قلم سے ادارے کی سربراہی ایسوں کے سپرد کر دی گئی،جن کے آتے ہی ادارہ ابتدائی دِنوں کے ”سکوت“ کا منظر پیش کر رہا ہے۔ادارے کی عوامی چہل پہل ختم ہو کے رہ گئی ہے۔البتہ جس طرح سرکاری اداروں میں افسر شاہی ہوتی ہے وہ نمایاں طور پر نظر آنے لگی ہے۔کوئی دن جاتا ہے کہ یہ ادارہ بھی ماضی کے مختلف اداروں کی طرح ”ہوا کرتا تھا“ کی لسٹ میں آ جائے گا۔

ان دو اداروں کو تو بطور مثال پیش اِس لئے کیا ہے کہ دونوں اداروں کے عروج اور اب زوال کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے،مگر اب پنجاب کے کسی بھی ادارے کے حوالے سے جاننے کی کوشش کریں تو حالت اس سے بھی گئی گذری نظر آئے گی۔گزشتہ روز پارک میں، مَیں نے مالی سے پوچھا کہ ڈینگی بے قابو ہوا جاتا ہے تو کوئی سپرے کا بندوبست ہوا کہ نہیں۔جواباً مالی نے کہا،حکومت کے پاس رقم نہیں ہے،ہم تو سپرے کرنے کے لئے تیار ہیں، حکومت سپرے کا سامان تو دے،مَیں نے کہا، ہم پارک والے احتجاج کریں گے شاید کوئی اثر ہو اور سپرے کا بندوبست ہو جائے،مالی نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا، ایسا ظلم نہ کیجئے گا،کیونکہ حکومت کی غریبی کا یہ عالم ہے کہ اگر آپ لوگوں نے سپرے کے لئے احتجاج کیا تو حکم آ جائے گا کہ مالیوں اور چوکیداروں سے ”چندہ“ جمع کر کے پارکوں میں سپرے کا بندوبست کیا جائے اور ممکن ہے ہماری آدھی تنخواہ سپرے کے نام پر کاٹ لی جائے۔

یہ حقیقت ہے کہ بعض ادارے اپنے کام انجام دینا چاہتے ہیں اور کوشش بھی کرتے ہیں،مگر حکومت پنجاب کی اپنی دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہے، پولیس سے لے کر صحت تک اور دیگر ایسے تمام محکمے جن سے عام لوگوں کو روزانہ واسطہ پڑتا ہے،ہاتھ پر ہاتھ رکھ کے بیٹھے ہیں،کیونکہ کسی بھی ادارے کو ضروری کام نبٹانے کے لئے فنڈ ہی نہیں دیا جا رہا اور اگر فنڈ دیا جا رہا ہے تو ان اداروں کوکوئی پوچھنے والا ہی نہیں ہے۔

لوگ اب”شو باز“ کو یاد کرتے ہیں،لوگوں کو اب”شو باز“ کی شو بازیاں یاد آتی ہیں۔وہ جو دن رات پنجاب کی وادیوں میں پرواز کرتا تھا، چُن چُن کے اعلیٰ افسران اور لوگوں کو مختلف اداروں کے لئے کام پر آمادہ کرتا تھا…… جس نے پولیس سے لے کر ہسپتال تک اور بازار سے لے کر گھر تک کے معاملات کو درست کرنے کے لئے خود کو ”محو ِ پرواز“ رکھا۔ یقینا وہ مکمل کامیاب نہیں تھا۔ اس کے جانے کے بعد پنجاب کے عوام خود کو ”لاوارث“ سمجھنے لگے ہیں،صرف لاہور ہی نہیں، ملتان کے لوگ بھی ”شو باز“ کی واپسی کی دُعائیں مانگ رہے ہیں۔

کم از کم پنجاب میں ”تبدیلی“کی توبہت دُعائیں مانگی جا رہی ہیں، مگر مجھے معلوم ہے کہ پنجاب میں تبدیلی ممکن نہیں …… کیونکہ وزیراعلیٰ پنجاب اس وقت سب کے منظورِ نظر ہیں، افواہ عام ہے کہ نواز شریف نے ”شو باز“ کو حکم دیا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کو ہٹانے کے کسی بھی ”جرم“ میں شریک نہ ہوا جائے اور کوشش کی جائے کہ وزیراعلیٰ پنجاب اپنے پانچ سال پورے کرے، تاکہ لوگوں کو ”شو باز“ کی اہمیت کا اندازہ ہو…… سو اِس وقت پنجاب کے وزیراعلیٰ کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن ایک ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب وزیراعظم کی ”شخصی اَنا“ کا مسئلہ ہیں، نواز شریف کی ”سیاسی بقا“ کا بھی مسئلہ ہیں۔ وزیراعظم کسی بھی قیمت پر وزیراعلیٰ کو ہٹانے کے لئے تیار نہیں ہیں اور چالیس کے قریب ترجمانوں کے کندھے پر سوار وزیراعلیٰ بھی کوئی بھی کام کرنے کو تیار نہیں ہیں، باوجود اس کے خود حکومت کے اندر کے لوگ جن میں صوبائی وزراء بھی شامل ہیں،وزیراعلیٰ پنجاب کے حوالے سے تبدیلی کے خواہشمند ہیں اور جان چکے ہیں ان کے ہوتے ہوئے پنجاب میں کسی بھی طرح کی تبدیلی ممکن نہیں ہے،مگر وہ خاموش ہیں کہ وزیراعلیٰ پنجاب وزیراعظم کی ”شخصی اَنا“ کا مسئلہ ہیں اور وہ ان کے ہاتھوں پنجاب کو تباہ تو کر سکتے ہیں،مگر اپنے ”وسیم اکرم“ کو گراؤنڈ سے باہر نہیں نکال سکتے، مگر شاید……؟ وزیراعظم کو گراؤنڈ سے باہر،”شو باز“ کو واپس لاؤ کے نعرے سنائی نہیں دے رہے، لوگ شہباز شریف کو واپس لانے کے لئے دُعائیں کر رہے ہیں،اور اگر مولانا فضل الرحمن دھرنے پر چلے گئے تو نواز شریف کی واپسی کی دُعائیں بھی شامل ہو جائیں گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •