مصلحت کی سرحد کے اس پار

آمنہ مفتی - مصنفہ و کالم نگار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں آج کرفیو کو دو ماہ ہو گئے۔ انٹرنیٹ اور موبائل فون سروسز بھی معطل ہیں۔ گاہے گاہے جو خبریں کان میں پڑتی ہیں وہ کچھ اچھی نہیں۔ عالمی ضمیر نامی وہم بھی خیر سے دور ہوا۔

پاکستان جس حد تک احتجاج کر سکتا تھا کر لیا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھی وزیر اعظم عمران خان نے نہایت درد مندی سے حالات بیان کیے اور عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا مگر بات یہ ہے کہ جو عالمی ضمیر دنیا کے دیگر معاملات پہ کنبھ کرن کا روپ دھارے خراٹے لے رہا ہے وہ کشمیر کے لیے کیسے لنکا ڈھانے کھڑا ہو جائے گا؟

وزیر اعظم عمران خان بار بار فرماتے ہیں کہ ہمیں لڑنے نہ دینا ورنہ ہم بم چلا دیں گے۔ عالمی ضمیر اس بیان پہ اتنا بڑا منھ پھاڑ کے جمائی لیتا ہے اور پھر سے سو جاتا ہے۔

پچھلے ہفتے ایک رپورٹ پڑھی جس میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ سے ہونے والے نقصانات کا بڑے ٹھنڈے دل و دماغ سے جائزہ لیا گیا تھا۔ رپورٹ پڑھ کر مجھے یوں لگا کہ یہ رپورٹ نہیں، آنے والے حالات کا وہ نقشہ ہے جو پہلے ہی سے تیار کر لیا گیا ہے۔

جو قدم مودی سرکار نے آج اٹھایا وہ انڈیا پاکستان کے درمیان ہونے والی جنگوں تک کے دوران نہ اٹھایا گیا حالانکہ یہ جنگیں اسی مسئلے پر لڑی گئی تھیں۔

انڈیا دنیا کی ایک بڑی جمہوریت ہے وہاں اس قسم کے غیر انسانی اور غیر جمہوری فیصلے کا ہونا کسی اور ہی طرف اشارہ کرتا ہے۔

دنیا کی بڑی طاقتیں، جنگ عظیم اول اور دوئم، اپنے اپنے آنگنوں میں لڑ کے بھر پائیں۔ کچھ تجزیہ کار تو یہ تک کہتے ہیں کہ اگر جنگ عظیم دوئم میں برطانیہ کی بنیادیں نہ ہل جاتیں تو انڈیا شاید اگلے پانچ سو برس آزاد نہ ہوتا۔ خیر تجزیہ کاروں کا کیا؟ وہ تو ہر وقت کچھ نہ کچھ کہا ہی کرتے ہیں۔

مگر ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ جنگ سے بڑی منڈی کوئی نہیں۔ یہ بڑا منافع بخش کاروبار ہے۔ صنعتی انقلاب کے بعد اپنے مال کی کھپت کے لیے منڈیاں ڈھونڈنے کی جنگ شروع ہوئی جو کالونیل دور پہ منتج ہوئی۔ لیکن مال کی کھپت تو اب بھی ہونی ہے، خام مال تو اب بھی چاہیے۔

کہنے کو مہذب دنیا نے جنگ سے توبہ کر لی۔ وزیر جنگ کو وزیر دفاع بنا دیا لیکن کیا دنیا سے جنگوں کا خاتمہ ہوا؟

بالکل بھی نہیں۔ بس اتنا ہوا کہ اب جنگیں کسی اور کے گھر میں لڑی جاتی ہیں۔ معاشرے بھی وہیں کے برباد ہوتے ہیں اور لوگ بھی ان ہی کے مرتے ہیں۔ جنگ یورپ اور امریکہ کی گلی سے اٹھ کر ایشیا، وسط ایشیا، مشرق بعید اور افریقہ میں ڈیرے لگا بیٹھی۔

جنگ عظیم دوئم کے بعد، کوریا کی جنگ، ویت نام کی جنگ، افغانستان اور روس کی جنگ، ایران عراق جنگ، کویت کی جنگ، بوسنیا کی جنگ، امریکہ افغانستان کی جنگ، امریکہ عراق کی جنگ، لیبیا پر امریکی حملہ، شام اور یمن کی جنگیں، نام لیتے ہوئے دم اکھڑتا ہے اور کتنے ہی واقعات ذہن سے اتر جاتے ہیں۔

دنیا نے پچھلے 70 برسوں میں کتنا امن دیکھا؟ کیا یہ جنگیں واقعی ان علاقوں کے لوگوں کی خواہش تھیں؟ کیا ویت نام والے امریکہ سے ٹکر لینا چاہتے تھے؟ کیا کویت میں بیٹھے لوگ یا عراق کے لوگ یہ جنگیں چاہتے تھے؟

میرا خیال ہے کہ جنگ ان میں سے کسی کا انتخاب نہیں تھی۔ جیسے کالونیل عہد میں انڈیا کا قصور اس کی خوش حالی تھی۔ اسی عہد میں کیا، ہر عہد میں مفتوح اقوام کا قصور یہ ہی ہوتا ہے کہ ان کے پاس وسائل ہوتے ہیں۔

آج ہی خبر سنی کہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے کارکن ایل او سی عبور کر کے سری نگر جانا چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کا بیان بھی نظر سے گزرا کہ جو ایل او سی عبور کرے گا وہ انڈین بیانیے کے ہاتھوں میں کھیلے گا۔

اب صورت حال یہ ہے کہ پاکستان ساری دنیا میں خوب شور مچا چکا ہے کہ ہم جنگ نہیں چاہتے اور فی الحال ہمارا مطالبہ صرف وادی سے کرفیو ہٹانے کا ہے۔ ایسے وقت میں اگر جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے کارکنوں کو سرحد عبور کرنے دی جاتی ہے تو انڈیا نہ صرف ان سے برسر پیکار ہو گا بلکہ سرحد عبور کر کے کشمیر کے پاکستان کے زیر انتظام حصے میں بھی آنے کی کوشش کرے گا۔ ظاہر ہے یہ کھلی جنگ ہو گی۔

دوسری صورت میں اگر جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کو سرحد عبور کرنے سے روکا جائے گا تو یہ پاکستان کی طرف سے کشمیریوں پر زیادتی ہو گی۔

کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ سری نگر میں عورتیں روز دروازہ کھول کے دیکھتی ہیں کہ پاکستانی فوج وادی میں آ گئی؟

ان باتوں پر نرم دل لوگ رو پڑتے ہیں اگر رونے سے کچھ ہوتا تو ہم روتے رہتے لیکن معاملات بری طرح الجھ چکے ہیں۔دونوں ملک جو ہر وقت اپنے عوام کو ایک دوسرے سے ڈرا کے رکھتے تھے کہ دیکھنا جنگ ہو جائے گی، آج ایل او سی پر آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑے ہیں۔

لڑنا نہ وہ چاہتے ہیں نہ ہم مگر یوں نظر آتا ہے کہ کہیں دور اس جنگ کا بگل بج چکا ہے۔ مودی نے یہ قدم جن کے ایماء پر اٹھایا انھیں ڈل جھیل کے بجروں اور نیلم کے سنگریزوں سے کوئی لگاو نہیں۔ نہ ان کو سری نگر کی ان دلہنوں سے دلچسپی ہے جن کی شادیاں کرفیو میں چپ چپاتے کی جا رہی ہیں اور نہ ہی ان کو راجہ فاروق حیدر کے جذباتی بیان رلاتے ہیں۔

وہ چیل کوے جو مجھے دو ماہ پہلے ہمالیہ کی چوٹیوں پر بیٹھے نظر آ رہے تھے اب وادی گنگا اور سندھ کے میدانوں کی طرف مائل بہ پرواز نظر آتے ہیں۔ ایک کڑا وقت سامنے کھڑا ہے۔

مصلحت کی سرحد کے اس پار بھی تباہی ہے اور اس پار بھی۔ نو مینز لینڈ پر آج بھی ٹوبہ ٹیک سنگھ کھڑا ہے۔ ’اوپڑ دی گڑ گڑ دی آف دی انیکس دی آف دی بے دھیاناں دی۔۔۔۔۔۔‘ مگر آج وہ ’انڈیا تے پاکستان گورنمنٹ دی درفٹے منھ‘ کہنے کی بجائے سوچ میں پڑ جاتا ہے۔

ہائے وہ بد نصیب خطہ، جس میں امن کے لیے سوچنے کی ذمہ داری بھی ٹوبہ ٹیک سنگھ جیسے پاگلوں کے کندھوں پر آ پڑی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •