ڈینگی بخار ہوجائیں ہوشیار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان بھر میں ڈینگی تشویشناک حد تک بڑھ چکا ہے اس مرض کا علاج کیا ہے کسی کو کچھ نہیں پتا۔ اس مرض سے بچنے کے لئے ویکسین ہی موجود نہیں  اس لئے مچھروں سے بچاؤ کی تدابیر کرکے اس سے بچا جاسکتا ہے۔ ڈینگی مچھر آخر اتنا خطرناک کیوں ہے کچھ ہی وقت میں ایک انسان موت کی جانب بڑھنا شروع ہوجاتا ہے اور بروقت علاج نا ہونے کی وجہ سے زندگی ختم ہوسکتی ہے۔ ڈینگی تو مچھر ہے پر اقسام کافی ہیں دنیا بھر کے ممالک میں ڈینگی وائرس پھیلانے والے اڑتیس اقسام کے مچھر ہیں، پاکستان میں ان میں سے صرف ایک قسم کا مچھر پایا جاتا ہے ڈینگی دراصل ایک وائرس کا نام ہے جس کا تعلق وائرس کے Flaviviridae  خاندان سے ہے۔

اس وائرس کی 4 اقسام ہیں جن کو DEN۔ 1، DEN۔ 2، DEN۔ 3 اور DEN۔ 4 کہا جاتا ہے۔ جو پوری دنیا میں موجود ہے۔ ڈینگی بخار ایک انفیکشن ہے جو مچھر کے کاٹنے سے ہوتا ہے پر اسے پھیلانے کی خاصیت ہر مچھر میں نہیں ہوتی ایک خاص قسم کی مادہ مچھر اس کو پھیلاسکتی ہے اس کی ٹانگیں عام مچھر کی نسبت ذرا لمبی ہوتی ہیں جن پر سفید رنگ کے دھبے ہوتے ہیں اگر یہ کسی جگہ انڈے دیں اور وہاں سے پانی ختم ہو جائے تو ان کے انڈے 1 سال تک کار آمد ہوتے ہیں۔

جیسے ہی ان کو پانی دستیاب ہوجاتا ہے، ان سے بچے نکل آتے ہیں۔ ڈینگی مچھر زیادہ تر طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت زیادہ حرکت میں آتا ہے اس مچھر کی اڑان زیادہ نہیں تو یہ زیادہ تر پاؤں میں کاٹتا ہے اس وجہ سے شام کے اوقات میں گھاس پر ننگے پاؤں چلنے یا کھینلنے سے گریز کیا جائے اور مچھر سے بچاؤ کے لئے کوئی بھی لوشن استعمال کیا جائے یا پھر موزے استعمال کرنا لازمی ہے ڈینگی مچھر کا تعلق افریقہ سے ہے پر اب یہ پوری دنیا میں ایک وبا کی طرح پھیل چکا ہے یہ مچھر صاف پانی میں پرورش پاتا ہے گھروں آفیسز یا مختلف جگاؤں پر صاف پانی ٹینکی گملوں پینے کے پانی اور بارش کے ٹھرے ہوئے پانی میں یہ مچھر پرورش پاتا ہے یہ مچھر جہاں ڈینگی پھیلانے کی صلاحیت رکھتا ہے وہاں پر اس مچھر کے کاٹنے سے یرقان ہونے کے چانس بھی بڑھ جاتے ہیں۔

ڈینگی متاثرہ مچھر کے کاٹنے کے تقریباً 4 سے دو ہفتوں کے بعد علامات شروع ہو جاتے ہیں۔ ڈینگی بخار کے سب سے بنیادی علامات میں بہت تیز بخار ( 104 تک) ، شدید سر درد، آنکھوں کے پیچھے درد، دل کا خراب ہونا، الٹی کرنا، پٹھوں اور جوڑوں کا درد اور جسم پر خارش جیسے سرخ دانوں کا نمودار ہونا ہے۔ یہ شروع کے علامات ہیں جو 3 دنوں سے لے کر ایک ہفتہ تک رہتے ہیں۔ ڈینگی جب شدت اختیار کر لے تو ابتدائی علامات کے بعد جسم کا درجہ حرارت یعنی بخار کم ہو جاتا ہے اور پھر مسلسل الٹی شروع ہو جاتی ہے اور الٹیوں میں خون آنا شروع ہو جاتا ہے، پیٹ میں شدید درد، تھکاوٹ، بے سکونی، سانس کا پھولنا، مسوڑوں سے خون آنا شامل ہے۔

یہ تب ہوتا ہے جب خون میں سفید خلیوں کی تعداد بہت گر جاتی ہے اور اندرونی اعضاء سے خون جسم کے اندر رسنے لگتا ہے۔ یہ انتہائی خطر ناک علامات ہیں جو ایک سے دو دن تک رہتی ہیں اور جان لیوا ہیں مگر بر وقت طبی امداد سے بچ جانے کے امکانات ہیں۔ رواں سال پاکستان میں ڈینگی وائرس نے بیسیوں جانیں لیں جبکہ ہزاروں افراد اس کا نشانہ بنے جس کی بڑی وجہ حکومتی اداروں اور ادارہ صحت کی جانب سے بروقت اقدامات نہ اٹھانا تھا جس کی وجہ سے اموات کے ساتھ آئے روز سینکڑوں افراد اس کا شکار ہو رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •