2019ء میں ادب کا نوبل انعام غیر معمولی کیوں ہوگا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگلے ہفتے جب معمول کے مطابق سال 2019 کے لئے نوبل انعام جیتنے والوں کے ناموں کا اعلان کیا جائے گا تو ادب کا نوبل انعام بالخصوص دنیا کی توجہ کا مرکز ہوگا۔ اس کی دو وجوہات ہیں، پہلی یہ کہ اس مرتبہ ایک کے بجائے ادب کے دو نوبل انعامات دیے جائیں گے اور دوسری وجہ کا تعلق ایک ایسے واقعے سے ہے جس نے نہ صرف پوری دنیا کوانگُشتِ بہ دنداں کردیا تھا بلکہ جس کی وجہ سے ادبی انعام کا فیصلہ کرنے والی اعلٰی حیثیت کی حامِل سوئیڈش اکیڈمی کی ساکھ بذاتِ خود ایک سوالیہ نشان بن گئی تھی۔

نومبر 2017 میں سوئیڈن کے روزنامہ داگنز نیہیتر (Dagens Nyheter) میں ایک تہلکہ خیز خبر شائع ہوئی جس نے جنسی ہراسانی کے ایک بہت بڑے اسکینڈل کو بے نقاب کیا۔ اس اسکینڈل کا مرکزی کردار اور ملزم سوئیڈش اشرافیہ کا اہم فرد جِین کلاڈ آہُنو (Jean Claude Arnault) تھا۔ فرانسیسی نژاد جِین کلاڈ آہنُو ایک مشہورفوٹوگرافر، سوئیڈن کے ادبی اور ثقافتی حلقوں کا ایک جانا پہچانا نام اور سوئیڈش اکیڈمی کی مستقل رُکن، شاعرہ و مصنفہ کترینا فروسٹینسن (Katarina Frostensen) کا شوہر ہے۔

جِین پر پچھلے بیس برس سے مسلسل جنسی ہراسانی حتیٰ کہ جنسی زیادتی کا مرتکب ہونے کا الزام لگایا گیا۔ ان الزامات کو منظرِعام پر لانے والی خواتین کی کُل تعداد اٹھارہ تھی۔ ان الزامات کے سامنے آنے کے بعد اُنہی دنوں سوئیڈن کے کچھ اخبارات نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جِین نے 2006 میں ایک محفل میں سوئیڈن کی شہزادی وکٹوریا (Viktoria) کو بھی جنسی طور پر ہراساں کیا تھا۔ اس اسکینڈل کے حوالے سے جو بات نہایت اہم تھی وہ یہ کہ جسنی ہراسانی کے یہ واقعات اسٹاک ہوم اور پیرِس کے اُن لگژری ہوٹلوں اور اپارٹمینٹس میں پیش آئے جو سوئیڈش اکیڈمی کی ملکیت ہیں۔

اسکے علاوہ وہ بات جس نے سوئیڈش اکیڈمی کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا اس کا تعلق جِین اور اُسکی اہلیہ کترینا کے مالی بدعنوانیوں میں ملوث ہونے سے تھا۔ کترینہ پر الزام تھا کہ اُس نے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے اکیڈمی کی طرف سے فورَم نامی آرٹس کلب، جو کہ خود جِین اور کترینا کی ملکیت ہے، کو فنڈز کا اجراء ممکن بنایا تھا۔ مزید یہ کہ کترینا کے توسط سے جِین نے پچھلے کئی سالوں میں نوبل انعام جیتنے والے سات ناموں کو وقت سے پیشتر لِیک کرکے مالی فوائد حاصل کیے تھے۔

ان تمام الزامات نے مجموعی طور پر نوبل فاؤنڈیشن بالخصوص سوئیڈش اکیڈمی کو ہِلا کر رکھ دیا۔ اس کے بعد اکیڈمی کے کچھ ممبران کی جانب سے یکے با دیگرے استعفوں نے معاملات کو سنگینی کی اُس سطح پر پہنچا دیا کہ اکیڈمی کی ساکھ کو مزید زِک پہنچنے سے روکنے اور عوام میں بڑھتے ہوئے غصے اور بے چینی کا تدارک کرنے کے لئے سوئیڈن کے بادشاہ کارل گُستاف (Carl XVI Gustaf) کو خود میدان میں آنا پڑا۔ بعد کے واقعات مِی ٹُو تحریک کی روایتی طرز پر آگے بڑھے جو کہ پچھلے سال معمول کی عدالتی کارروائیوں اور پیشیوں کے بعد بالآخر جِین کی سزا پر منتج ہوئے۔

اِس واقعہ کے نتیجے میں ایک بڑا نقصان یہ ہُوا کہ مئی 2018 میں نوبل فاؤنڈیشن نے سال 2018 میں ادب کا نوبل انعام نہ دینے کا اعلان کیا جو کہ دنیا بھر کے ادیبوں اور ادب کے شائقین کے لئے مایوسی کا سبب بنا۔ لیکن جو خوش آئند پہلو سامنے آیا وہ یہ کہ بادشاہ گُستاف اور نوبل فاؤنڈیشن نے اکیڈمی کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی کا فیصلہ کِیا۔ اِس سے پہلے اکیڈمی کے تمام اٹھارہ ممبران مستقل بنیادوں پر منتخب ہوتے تھے۔

ممبران کی رکنیت تاحیات ہوا کرتی تھی اور کسی بھی ممبر کو استعفٰی دینے کی اجازت نہیں تھی۔ تاہم اکیڈمی کے سرپرست کی حیثیت سے بادشاہ کو حق حاصل تھا کہ وہ بشمول مبمران کے، کوئی بھی تبدیلی کرسکتا ہے۔ نئی ترمیم کے مطابق نہ صرف ممبران استعفٰی دینے کا حق رکھتے ہیں بلکہ دو سال کے عرصے تک غیر فعال ممبران کی رُکنیت کو ختم بھی کیا جا سکتا ہے۔

2018 کے ادب کے نوبل انعام کے ملتوی ہونے کے بعد ایک اور غیر معمولی واقعہ رونُما ہُوا۔ سوئیڈن کے سو سے زائد دانشوروں، ادیبوں اور صحافیوں نے مِل کر سال 2018 کے لئے ادب کے متبادل نوبل انعام کا اعلان کیا۔ اس مقصد کے لئے ایک نئی اکیڈمی قائم کی گئی جِس کو دی نِیو اکیڈمی (The New Academy) کا نام دیا گیا۔ نِیو اکیڈمی کے چارٹر میں جن چیزوں کو مرکزی اہمیت دی گئی اُن میں آزادئی رائے، سوچ کی کُشادگی، انسانی ہمدردی اور باہمی عزت جیسی اقدار شامل تھیں۔

متبادل نوبل انعام کے امیدواروں کی نامزدگی کی ذمہ داری عوامی لائیبریریوں کے ناظموں کو سونپی گئی اور اُن سے ایسے ادیبوں اور مصنفین کو نامزد کرنے کا کہا گیا جنہوں نے ادب کی کسی بھی صِنف و جہت میں انسان کی کہانی پیش کی ہو۔ ان ناظموں نے کُل 47 امیدواروں کے نام پیش کیے جن میں کچھ ایسے نئے نام سامنے آئے جِن کا سوئیڈش اکیڈمی کے روایتی طرزِ انتخاب کے ذریعے منتخب ہونا بظاہر ممکن نظر نہیں آتا تھا۔ اِن میں سوفی اوکسانین (Sofie Oksanen) ، زادی اسمِتھ (Zadie Smith) ، اولگا توکارزُک (Olga Tokarczuk) وغیرہ کے نام شامل تھے۔

انعام کے لئے امیدواروں کو عوامی ووٹ کے ذریعے شارٹ لِسٹ کیا گیا اور شارٹ لِسٹ ہونے والے امیدواروں کے لئے مساوی بنیادوں پر صنفی کوٹہ بھی متعارف کروایا گیا۔ جن ادیبوں کے نام حتمی لِسٹ میں شامل تھے اُن میں دو مرد، جاپانی مصنف ہرُوکی مُراکامی (Haruki Murakami) اور برطانوی ناول نگار نِیل گائمن (Neil Gaiman) اور دو خواتین، ویت نامی مصنف کِم تھُوئے (Kim Thuy) اور کیریبین سے تعلق رکھنے والی مشہور مصنف میریزے کونڈے (Maryse Conde) تھیں۔ انعام کا حتمی فیصلہ ایڈیٹرز اور پبلشرز پر مبنی ماہرینِ ادب کی کمیٹی نے کِیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کمیٹی میں ایک لائبریری کی خاتون صدر بھی شامل تھیں۔ بالآخر 12 اکتوبر کو میریزے کونڈے اس متبادل نوبل انعام کی حقدارقرار دی گئیں۔

2019 میں دیے جانے والے دو ادبی نوبل انعامات کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ ان میں سے ایک انعام سال 2018 کے لئے دیا جائے گا۔ جہاں یہ بات خوشی کا باعث ہے کہ 2018 میں رونُما ہونے والے تمام ناخوشگوار واقعات کے باوجود، نوبل انعام جیسے بڑے اعزاز کے ذریعے ادب کو سراہے جانے کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگا اور کسی ادیب کو ادب کے لئے اُسکی خدمت کا جائز حق بھی دیا جائے گا، وہاں یہ بھی بعید از قیاس نہیں کہ 2018 کا ادب کا نوبل انعام جیتنے والے کا نام تمام عمر کسی نہ کسی طور جنسی ہراسانی اسکینڈل کے ساتھ نتھی ہوجائے گا۔ اور اگر ایسا ہُوا تو کیا یہ اُس ادیب کے ساتھ زیادتی نہ ہوگی؟

یہ اسکینڈل اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات جن اہم پہلوؤں کی طرف اشارہ کرتے ہیں اُن میں سب سے زیادہ توجہ طلب یہ ہے کہ مغربی دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں کہ جہاں عوام کی سطح پر انسانی حقوق کی حفاظت کا خاطر خواہ انتظام ہے، وہاں بھی اشرافیہ اپنے اثرورسوخ، رُتبے اور دوسروں کی کمزوری کا استعمال کرتے ہوئے سنگین جرائم میں ملوث پائے جا سکتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی عیاں ہے کہ ان معاشروں میں انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے متعلقہ ادارے نہ مصلحت پسندی سے کام لیتے ہیں اور نہ ہی کوئی دباؤ قبول کرتے ہیں۔

اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ قوموں کی مجموعی طور پر مادی اور شعوری ترقی افراد کے برائی پر آمادہ کرنے والے بشری سرشتِ خمیر کو تو مکمل تبدیل نہیں کرسکتے لیکن ایک مضبوط نظام کی موجودگی انصاف کی فراہمی کے ذریعے عوام میں اداروں پر اعتماد، کسی بھی بڑے بحران سے نکل آنے کا یقین اور سب سے بڑھ کر اچھائی کی امید کو ختم نہیں ہونے دیتی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ڈاکٹر عاصم اعجاز، سویڈن کی دیگر تحریریں
ڈاکٹر عاصم اعجاز، سویڈن کی دیگر تحریریں