لیکن اس مرتبہ ٹیم پر غصہ نہیں آیا

ہر بڑی ہار کے بعد بچپن سے ہم یہی سنتے آئے ہیں کہ ہار جیت تو کھیل کا حصہ ہوتی ہے، کسی ایک ٹیم نے تو جیتنا ہی ہوتا ہے، جو اچھا کھیلے گا وہ جیتے گا، چلیں کوئی نہیں اگلی دفعہ انشاءاللہ ہم ضرور جیتیں گے وغیرہ۔ دیکھیے صاحب، یہ تمام باتیں طفل تسلیوں کے طور پر تو ٹھیک معلوم ہوتی ہیں لیکن سچی بات یہ ہے کہ ہار کا جو دکھ ہے وہ ایسا کوہ گراں ہے جو اٹھائے نہیں اٹھتا، ایسا تیر ہے جو جگر کے پار نہیں، جگر میں پیوست رہتا ہے، ایسا زخم ہے جو اندر مالی کے انتظار میں رستا رہتا ہے۔ مگر کیا کیجیے، انسان تو نام ہی اس مخلوق کا ہے جس کی زندگی کی بساط کے ہر خانے کو جبر و قدر کی کشمکش سے آراستہ کیا گیا ہے۔ تو بس لازم ہے کہ سیمی فائنل کی اس ہار کو بھی ہم گردش دوراں گردانتے ہوئے ایک بار پھر تم جیتو یا ہارو سنو، ہمیں تم سے پیار ہے گنگناتے رہیں۔

Read more

جا چھوڑ دے میری وادی

پچھلے سال ہندوستا ن نے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے ذریعے مقبوضہ کشمیمر کو باقاعدہ ہندوستان میں شامل کرنے کے دیرینہ خواب کی تکمیل کے لیے انتہائی جارحانہ قدم آٹھایا۔ بعد ازاں، طویل لاک ڈاؤن اور جبر کی جو نئی داستانیں رقم ہوئیں وہ سب کے سامنے ہیں۔ پانچ اگست کو اس جارحیت اور بربریت کا ایک سال مکمل ہو جائے گا۔ اقوام متحدہ اور باقی دنیا کا اس معاملہ میں کردار خلاف توقع نہیں تھا۔ لہٰذا ایک سال مکمل

Read more

اُنّیس سال کی امُولیا، سو سال کے شیخ مجیب اور چار ماہ کا کرونا

پاکستان زندہ باد۔ ہندوستان زندہ باد۔ کیا آپ نے کبھی کِسی شخص کو یہ دونوں نعرے ایک ساتھ لگاتے سُنا ہے؟ قوی امکان ہے کہ نہیں۔ اور اگر سُنا ہے تو اُس شخص کی مخبوط الحواسی پر آپ کو ہرگز شک نہیں گُزرا ہوگا۔ کیونکہ ہندوستان ہو یا پاکستان، اِن دونوں نعروں کا ایک ہی زبان سے اَدا ہونے کا مطلب آشُفتہ سَری کے سِوا کُچھ اور نہیں۔ اور کوئی بھی صاحبِ فراسَت خُود کو اِن القابات سے نوازے جانے

Read more

میلکم ایکس۔ ایک شدّت پسند باغی یا صاحبِ بصیرت رہنما؟

یہ آج سے 55 سال پہلے فروری 1965 کا ایک دن ہے، نیویارک کے مین ہیٹن علاقے میں آرگنائزیشن آف ایفرو امریکن یونیٹی (OAAU) کی طرف سے منعقدہ ریلی کی قیادت کرتے میلکم ایکس، ایڈابان بال رُوم خطاب کے لیے پہنچتے ہیں۔ خطاب کی ابتداء السلام علیکم سے ہوتی ہے۔ اُسی اثنا میں اگلی صفوں میں بے چینی پیدا ہوتی ہے اور شور کی آواز آتی ہے۔ میلکم ایکس خطاب روک کر اُس طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اچانک گولیاں

Read more

پانچ فروری، چُھٹّی، مُودی اور ہم

ہر قوم کی زندگی میں قومی، ثقافتی یا مذہبی حوالے سے کُچھ دِن بہت خاص اہمیت کے حامِل ہوتے ہیں۔ یہ اہمیت ماضی کے کسی اہم واقعہ کے سبب ہوسکتی ہے، کسی رسم و روایت کی تاسیس یا اِحیا کی مرہونِ منّت، یا پھر کسی خاص شخصیت سے مُنسلِک۔ وجہ چاہے جو بھی ہو، اِن دِنوں کے منائے جانے میں جو ایک اہم نُکتہ پیشِ نظر رہنا چاہیے وہ ہے اُس مقصد کا حصول کہ جس کی بنیاد پر وہ

Read more

اویغور باشندے اور دو کشتی کے سوار لوگ

چند دن پہلے نیویارک ٹائمز میں اویغور باشندوں کے حوالے سے لِیک شُدہ دستاویزات کے شائع ہونے سے چینی حکومت کا اُن سے روا رکھّے جانے والا سلوک ایک مرتبہ پھر زیرِ بحث ہے۔ ان دستاویزات سے یہ بات سامنے آئی کہ تقریباً ایک ملین کے قریب اویغور اور دیگر مسلم اقلیتی گروہ نام نہاد تربیتی کیمپس میں مقیّد ہیں۔ ان کیمپس میں چینی حکومت کی طرف سے اویغور مسلمانوں کے خلاف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کی جارہی

Read more

2019ء میں ادب کا نوبل انعام غیر معمولی کیوں ہوگا؟

اگلے ہفتے جب معمول کے مطابق سال 2019 کے لئے نوبل انعام جیتنے والوں کے ناموں کا اعلان کیا جائے گا تو ادب کا نوبل انعام بالخصوص دنیا کی توجہ کا مرکز ہوگا۔ اس کی دو وجوہات ہیں، پہلی یہ کہ اس مرتبہ ایک کے بجائے ادب کے دو نوبل انعامات دیے جائیں گے اور دوسری وجہ کا تعلق ایک ایسے واقعے سے ہے جس نے نہ صرف پوری دنیا کوانگُشتِ بہ دنداں کردیا تھا بلکہ جس کی وجہ سے

Read more

خان صاحب کی تقریر اور مسئلہ کشمیر کے قد میں کمی

سیانے کہتے ہیں کہ کسی شخص سے اس کے غم کی انتہا اور خوشی کی ابتداء کے وقت کوئی ایسی بات نہ کہو جو اُن جذبات کے برخلاف ہو جس سے اُس کا دل لبریز ہو۔ پھر جب بات ہوجذبہ حب الوطنی اور جوشِ ایمانی کی اور وقت ہو خان صاحب کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کی گئی دھواں دار تقریر کے جشن منانے کا، تو ایسے میں کوئی سوال اُٹھانے کی کم سے کم سزا، ہم وطن فرزندانِ

Read more