لیکن اس مرتبہ ٹیم پر غصہ نہیں آیا
ہر بڑی ہار کے بعد بچپن سے ہم یہی سنتے آئے ہیں کہ ہار جیت تو کھیل کا حصہ ہوتی ہے، کسی ایک ٹیم نے تو جیتنا ہی ہوتا ہے، جو اچھا کھیلے گا وہ جیتے گا، چلیں کوئی نہیں اگلی دفعہ انشاءاللہ ہم ضرور جیتیں گے وغیرہ۔ دیکھیے صاحب، یہ تمام باتیں طفل تسلیوں کے طور پر تو ٹھیک معلوم ہوتی ہیں لیکن سچی بات یہ ہے کہ ہار کا جو دکھ ہے وہ ایسا کوہ گراں ہے جو اٹھائے نہیں اٹھتا، ایسا تیر ہے جو جگر کے پار نہیں، جگر میں پیوست رہتا ہے، ایسا زخم ہے جو اندر مالی کے انتظار میں رستا رہتا ہے۔ مگر کیا کیجیے، انسان تو نام ہی اس مخلوق کا ہے جس کی زندگی کی بساط کے ہر خانے کو جبر و قدر کی کشمکش سے آراستہ کیا گیا ہے۔ تو بس لازم ہے کہ سیمی فائنل کی اس ہار کو بھی ہم گردش دوراں گردانتے ہوئے ایک بار پھر تم جیتو یا ہارو سنو، ہمیں تم سے پیار ہے گنگناتے رہیں۔
Read more

