سلام، استاد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کوئی دو ہفتے پہلے مجھے میرے چھٹی جماعت کے استاد صاحب کا فون آیا۔ کبھی مجھے ”محمود بیٹا“ کہہ کر مخاطب کرتے اور کبھی میرے بچپن کے عرف ”مودی“ سے۔ میرے کانوں میں ان کی آواز کا رس تو سالوں سے گھُلا ہوا ہے مگر سالوں بعد انہوں نے میرا فون نمبر حاصل کر کے مجھے فون کیا، اس کی اپنی ہی قدر و قیمت اور اپنا ہی سرور ہے۔ یہ وہ استاد ہیں جن کی کلاس میں اے بی سی لکھنا سیکھنے والا اپنے بَیچ کا میں پہلا طالب علم تھا۔ میں نے کئی سال اپنی چھٹی کی انگریزی کی کتاب سنبھال رکھی اور پھر ایک ایسے دوست کو دی جو انگریزی سیکھنا چاہتا تھا۔ یہ اعتماد مجھے میرے استاد نے دیا کہ چھٹی جماعت کی کتاب سے بندہ انگریزی سیکھنا شروع کر دیتا ہے۔ ہمارے دور میں یہ انگریزی کی پہلی کتاب ہوا کرتی تھی۔

اپنے اس استاد کو اور بھی کئی حوالوں سے میں یاد کرتا ہوں۔ ہمارے چھٹی کے امتحانات ہوئے، نتائج کا اعلان ہوا تو ایک روز انہوں نے مجھے کہا کہ ہفتہ وار چھٹی کے دن اپنے ابو کو ساتھ لے کر ان کے گھر انہیں ملوانے لاؤں۔ والد صاحب کو چائے وغیرہ پلا کر انہوں نے بات شروع کی کہ آپ کا بچہ بہت لائق ہے۔ صرف دس نمبروں سے اس کی پوزیشن رہی ہے۔ میں نے خود اس کا ریاضی کا پرچہ دیکھا ہے۔ اس نے جیومیٹری کے ایک سوال کی پوری شکل ٹھیک بنائی ہے، عمل بھی درست لکھا ہے مگر ایک قوس کھینچنا بھول گیا ہے۔

آپ اس پر تھوڑا دھیان دیں تو یہ بچہ بہت آگے نکل سکتا ہے۔ میں کتنا آگے نکلا، اس پر بات تھوڑی دیر بعد کرتے ہیں۔ یہاں اتنا کہنا ہے کہ میرے والد کو اس کے بعد میری علمی صلاحیتوں پر انتہائی پختہ بھروسا سا آ گیا تھا۔ میری عزت میرے والد صاحب کی نظر میں کہیں بڑھ گئی تھی۔ مجھے یہ عزت اور میرے والد کو میری ذات پر یہ مان اور اعتماد دیا تھا میرے استاد نے۔

استاد جی کو ہماری پڑھائی سے بہت لگاؤ تھا۔ ایک بار لاہور آئے تو جانے کہاں پھرتے پھراتے ہمارے لئے اچھی سی کتاب کی تلاش میں لگے رہے۔ واپسی پر معاشرتی علوم کی ایک کتاب کا ایک نسخہ اپنے پیسوں سے خرید لائے۔ ہمیں کہا کہ اس کی فوٹو کاپی کروا لیں اور اسے پڑھا کریں اور اسی سے امتحان کی تیاری کریں۔ فوٹو سٹیٹ کرانے کے بعد میں نے اپنا چچا کو اپنا پہلا خط لکھ کر اپنی دادی کے ہاتھ اس کتاب کا ایک نسخہ منگوایا۔

میں سکول آتے جاتے ان کی گلی کے متوازی ایک گلی سے گزر کر جاتا تھا۔ دونوں گلیاں ایک تیسری گلی سے ملی ہوئی تھیں۔ ہمارے شہر میں تب پتلون کوئی نہیں پہنتا تھا۔ صبح کو جب میں گزرا تو دیکھا کہ شاہد راشد صاحب اپنی پتلون کی زپ کستے ہوئے چلے آ رہے ہیں۔ میں بڑا خوش کہ آج تو سر جی خوب ”ٹَوہر“ نکال کے آ رہے ہیں۔ میں نے ساری جماعت میں بات کی دھوم مچا دی۔ مگر جب سر جی کمرہ جماعت میں آئے تو شلوار قمیض میں تھے۔ ہماری تو حیرت ہی جانے کا نام نہ لے کہ یا خدا ہم نے اچھی طرح دیکھا پہچانا کہ شاہد راشد صاحب ہیں مگر یہ کیا؟

سر نے مجھے بلایا اور کہتے تم سوچتے تو ہو گے کہ کیا دیکھ کر آ رہا ہوں اور نکلا کیا۔ ہم نے کہا کہ جی بالکل، مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔ بتایا کہ یار پینٹ تنگ تھی، تھوڑا چلتا تو زپ کھُل جاتی۔ میں پھر گھر لوٹ کے کپڑے بدل آیا ہوں۔ میں جب بھی یہ واقعہ یاد کرتا ہوں تو میرے لبوں پر مسکراہٹ پھیل جاتی ہے جو گھنٹوں باقی رہتی ہے۔

میں ساتویں جماعت میں تھا تو انہوں نے کلاس کے طلبہ کو معمولی معاوضے پر ٹیوشن پڑھانا شروع کر دی اور انتخاب تھے کلاس کے ذہین اور نالائق طلبہ۔ انہوں نے خود نام منتخب کر کے طلبہ کو چھٹی کے بعد ٹیوشن کے لئے اپنے گھر آنے کو کہا۔ مہینے بعد سو روپیہ فیس دینے کا دن آیا۔ میرے والد صاحب خود پرائمری سکول میں استاد تھے۔ سو روپیہ ان کے لئے مشکل نہ سہی، آسان بھی نہ تھا۔ میں دو روپے روزانہ لے جانے والا بچہ سو روپے کو بہت بڑی رقم سمجھتا تھا۔

خیر، اتفاق ایسا ہوا کہ فیس وصولی کے دن استاد جی کو دیر ہو گئی۔ میں خوددار اتنا تھا کہ ان سے کہہ نہیں سکتا تھا کہ ہمارے لئے فیس دینا مشکل ہے، یا شاید کہنا آتا ہی نہیں تھا، بارہ سال کا بچہ ادب آداب کیا جانے؟ میں تو پیسے ایک ہم جماعت کو تھما کر یہ کہہ کر بھاگ آیا کہ سر جی سے کہنا میں کل سے ٹیوشن پڑھنے نہیں آؤں گا۔ پر واقعی میں میرا دل نہیں تھا کہ آن سے چھٹی کے بعد پڑھنا چھوڑوں۔ اپنی کم عقلی کے باعث میں شاید ان ساری باتوں کو ملا کر اپنے استاد سے کہہ نہیں سکتا تھا۔

مجھے لگا کہ بس اب سر جی (ہم انہیں سر جی ہی پکارتے تھے، اب شاید معیوب سمجھا جاتا ہو) کے پیسے پورے ادا کر دیے، حساب ختم۔ مگر ہماری اظہار کی بے بسی کے باوجود بھی سر جی کہیں بھانپ گئے تھے ہماری پوری حالت کو۔ اگلے دن کلاس میں سب کے سامنے بلا لیا اور چپکے چپکے بات کی کہ یہ بھلا کیا طریقہ ہوا کہ پیسے پھینک کر چلتے بنے! اور پھر سو روپے میری جیب میں ڈال دیے کہ یہ جا کر گھر دے دینا اور تم نے ٹیوشن پڑھنے آتے رہنا ہے۔

اس کی اہمیت کا اندازہ ذہنی پختگی نہ ہونے کے باعث ہمیں تب نہیں ہوا مگر اس کے بعد ہمیشہ رہا۔ اگر ہمارے پیسے واپس کر دیے تھے تو جو دس بارہ پڑھتے تھے ان میں ہم جیسے اور کتنے ہوں گے جن سے دو آنے بھی وصول نہیں کیے جاتے ہوں گے؟ اور صاحب، معاملہ پیسوں کا تو تھا ہی نہیں۔ ہمارے بعد ہمارے دیکھتے انہوں نے ٹیوشن نہیں پڑھائی کیوں کہ اس کے بعد بھی ہم نے چند سال اسی سکول اور پھر اسی شہر میں پڑھا۔ ہمیں لگتا ہے ہم ان کا بہترین بَیچ تھے۔

یہ درست ہے کہ ملک میں لکھنے پڑھنے سے وابستہ لوگوں کی قدر دانی نہ ہونے کے باعث میں نے بہت کمایا نہیں مگر مجھے یہ تسلی ہے کہ نصابی کتابوں کے مصنف سے لے کر ان کا مدیر ہونے تک میں قوم کی وہ خدمت کر آیا ہوں جس پر میرا ضمیر مطمئن ہے۔ اور یہ سب ممکن ہوا میرے اساتذہ کی وجہ سے۔ اس میں اور بھی لوگوں کے نام آتے ہیں مگر شاہد راشد صاحب آج میں جو بھی ہوں اس کا پہلا سبق پڑھانے والے ہیں۔

معلوم ہوا ہے کہ شاہد راشد صاحب ریٹائر ہو گئے ہیں۔ حیران ہوا کہ ان کی اتنی عمر تو نہیں۔ در اصل انہوں نے دس سال پہلے ریٹائرمنٹ لے لی ہے۔ میری ساری دعائیں اپنی کامیابیوں کے اس منبع کے نام۔ سر جی کو میرے سارے سلام! آج کے دن اور ہر دن ”سلام، استاد! “

پس نوشت: شاہد راشد صاحب کا تعلق پاک پتن سے ہے۔ اور بیان کردہ تمام باتیں حقائق ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •