دیکھنا تقریر کی لذت!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب سے حضرت وزیراعظم نے اقوام متحدہ نے اپنی قادرالکلامی کے جوھر دکھا کے مسلم امہ کی قیادت کی باگ ڈور سنبھالی ہے، دل کے معاملات کے حالات بھی ”نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں“ والے چل رہے ہیں۔ ہمہ وقت ایک ہی ورد جاری ہے کہ

دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا
میں نے یہ مانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے

بہت سمجھاتا ہوں کہ جناب غالب نے اور بھی بہت کچھ کہہ رکھا ہیں، ان کی طرف بھی توجہ دے لو، مثلا
تیرے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

یا داغ دہلوی کو یاد کر لیجیے
تیرے وعدے پر ستمگر ابھی اور صبر کرے
ہمیں اپنی زندگی کا اگر اعتبار ہوتا

لیکن دل ہے کہ مانتا نہیں، اور حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں جب آدمی چلا اٹھتا ہے کہ ”نقص ہے کچھ میرے بیان میں کیا؟ “

اتنے دن گزرنے کے باوجود دل کا تقریر کا نشہ اتر نہیں رہا ہے۔ آج پھر دل کو جانے کیا سوجھی کہ وہی تقریر والا شعر لے میں گنگنانا شروع کر دیا جس پر دماغ نے بھنا کر کہا کہ حضرت جانے دیجیے ان قائدین کو جالب سے بڑھ کر کوئی نہیں جانتا وہ کہہ گئے ہیں

سر ممبر وہ خوابوں کے محل تعمیر کرتے ہیں
علاج غم نہیں کرتے فقط تقریر کرتے ہیں

جس پر دل نے کہا کہ کیا بات ہے ”جالب“ کی لیکن اس نے یہ شعر ان خود غرض لیڈروں کے لیے کہا تھا جن کا وجود آج بھی قوم کے لیے باعث شرمندگی، باعث درندگی، باعث برہنگی، باعث ندامت، باعث علالت، باعث خجالت، باعث غربت اور پتا نہیں باعث کیا کیا ہیں، اگر آج جالب زندہ ہوتے تو اس دیدہ ور کی مدح لکھتے نہ تھکتے جس کے لیے نرگس نے رو رو کر سحراؤں کو سمندر کر دیا تھا۔

اس پر دماغ نے کہا کہ اس ”دیدہ ور“ کے ماضی کا جائزہ لے لو آپ کو کچھ فرق نظر نہیں آئے گا باقی لیڈروں میں اور ان میں۔ بس اتنا سننا تھا کہ دل بگڑ بیٹھا اور تقریبا چلاتے ہوئے کہا منہ سنبھال کر بات کرو، تم ایک ایسے شخص کو جسے پوری مسلم امہ اپنے لیڈر کے طور پر تسلیم کر چکی ہے اور اپنے آپس کے مسائل حل کرنے کے لیے بطور ثالث انتخاب کر چکی ہے، ان للوؤں پنجوؤں کے ساتھ گروپ کر رہے ہو جنہوں نے اس مملکت خداد کو کہیں کا نہیں چھوڑا اورجن کی وجہ سے بیروں ملک مقیم پاکستانی بے عزتی کے ڈر سے منہہ اور پاسپورٹ دونوں چھپاتے پھرتے تھے۔

خان کو تو اس ٹرمپ نے بھی ایران کے ساتھ مسائل حل کروانے کی درخواست کی ہے جس کا ڈسا پانی نہیں مانگتا۔ ایک دنیا آپ کے وزیراعظم کی عظمت کے آگے سر تسلیم خم کر چکی ہے۔ تم نے تو کھوتے اور گھوڑے کو ایک ہی کھرلی پر باندھ دیا ہے، کجا خان خاناں، کجا زرداری و نواز۔ ہم تو سمجھے تھے کہ دماغ سوچنے سمجھنے کے کام کرتا ہے لیکن آپ کی بات سے تو ہمیں لگتا ہے کہ آپ کا اپنا دماغ چل گیا ہے، لا حول ولا قوت۔

اس پر دماغ نے کچھ کہنا چاہا کہ یہ وہی دیدہ ور ہے جو ماضی میں کہتا تھا کہ سارے سیاست دان کرپٹ ہیں اور اگر میرے بس میں ہو تو میں انہیں چپڑاسی تک نا رکھوں لیکن پھر جب ان میں سے کچھ نے ان کی پارٹی میں شمولیت اختیار کرنا چاہی تو یہ کہہ کر ان کو خوش آمدید کہا کہ ”فرشتے کہاں سے لاؤں، انہی لوگوں کے ساتھ ہی گزارا کرنا پڑے گا“۔ اور اب کہتا پھرتا ہے کہ جو بندہ یوٹرن نہ لے وہ بڑا لیڈر نہیں بن سکتا، مطلب بڑے لیڈر کی چیدہ چیدہ خصوصیات میں سے یوٹرن لینا سرفہرست ہے۔

اب اگر جو باتیں انہوں نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں کی ہیں مستقبل میں ان پر یوٹرن لے لیا تو کیا کرو گے۔ اسی طرح جب انہوں نے وزیراعظم کا حلف لیا تھا تو ان کی تقریر کا ایسے ہی چرچا تھا اور تم تھے کہ پھولے نہیں سما رہے تھے اور ہمارا ناک میں دم کر رکھا تھا، اب بتاؤ۔ ہمیں بچوں میں غذائیت کی کمی سے بہت ڈرایا تھا وزیراعظم نے اپنی اس شہرۃ آفاق تقریر میں اور ہمیں لگا تھا کہ یہ مسئلہ تو اب حل ہو ہی جائے گا، کیا بنا اس کا؟ تقریر پہ بڑی واہ واہ ہوئی، ہر بڑا اینکر بلے بلے کر رہا تھا، کیا تقریر تھی، ماشا ء اللہ، سبحان اللہ، ہے کوئی ایسا لیڈر، جو قوم کے مسائل کی اتنی سمجھ بوجھ رکھتا ہو لیکن ہوا کیا، چراغوغوں میں روشنی نہ رہی، میاں یہ سب گفتار کے غازی ہیں اس لیے خود بھی چین سے رہو اور ہمارا دماغ بھی خراب نہ کرو۔

اس دوران حضرت دل اپنے موبائل فون مگن رہے اور جیسے ہی دماغ کی تقریر ختم ہوئی دل پھر بول پڑا ”یار تم نے وہ انٹرویو سنا ہے جو وزیراعظم نے امریکی میڈیا کو دیا ہے، انہوں نے امریکی عوام کو چائینہ اور نیویارک کا موازنہ کر ک سمجھا دیا ہے کہ چائینہ نے کیسے انفراسٹرکچر پر توجہ دے کر ترقی کی ہے جبکہ نیویارک میں ابھی بھی سڑکوں پر گاڑی کو جمپ لگ رہے ہوتے ہیں، اب امریکہ کے عوام میں بھی شعور اجاگر ہوگا کہ کیسے ان کے لیڈروں نے ان کو الو بنایا ہے“

اس پر دماغ نے چاہا کہ پھٹ پڑے لیکن بیچ بچاؤ کیا کہ جانے دو دل تو آخر دل ہے، کچھ بھی کہہ سکتا ہے،

فائدہ کیا سوچ آخر تو بھی تو دانا ہے اسد
دوستی ناداں کی ہے جی کا زیاں ہو جائے گا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •