تبدیلی کی چابی استاد کے پاس ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اقوام متحدہ اور دنیا ان تمام شخصیات کی یاد میں عا لمی دن مناتی ہے جنہوں نے دنیا اور اس میں رہنے والے بنی نوع انسان کی فلاح و بہبود کے لیے کوئی ناقابل فراموش کام کیا ہو۔ ان اہم واقعات کے تاریخی پس منظر اور وقوع ہونے کا زمانہ لوگوں کے ذہنوں میں زندہ رکھنے کے لیے ان واقعات سے وابستہ شخصیات کا دن منایا جاتا ہے جنہوں نے دنیا اور انسانوں کی زندگیوں پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔ اس انسانی گروپ اور افراد کا خصوصی دن بھی منایا جاتا ہے جن کے خاص حالات قابل توجہ ہوتے ہیں۔

مثلاً بچے، خواتین، بوڑھے، ماں باپ، اقلیتیں اور معذور۔ اس طرح مختلف سماجی اقدارمثلاً ثقافت اور زبان وغیرہ کا دن بھی منایا جاتا ہے تاکہ لوگ اپنی ثقافت اور زبان کو زندہ رکھیں اور دنیا میں تنوع (Diversification) برقرار رہے جس سے دنیا کی خوب صورتی قائم ہے۔ تمام اہم پیشوں اور ان سے وابستہ لوگوں کا دن بھی ہر سال منایا جاتا ہے تاکہ یہ پیشہ ور لوگ اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر ان پیشوں کو فعال رکھے۔

پوری دنیا 5 اکتوبر کو استاد کے عالمی دن کے طور پر مناتی ہے۔ یہ دن 1994 ء سے باقاعدگی سے منایا جاتا ہے۔ جس کا مقصد معاشرہ کے ان اہم افراد کو خراج تحسین پیش کرنا، ان کی کارکردگی کا جائزہ لینا اور ان کے کام میں بہتری لانا ہے۔ اقوام متحدہ اس دن کی وساطت سے یہ کوشش کرتی ہیں تاکہ لوگ اساتذہ اور ان کی تنظیموں کو سمجھے اور طلبا ؤ معاشرہ استاد کے کردار سے باخبر رہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ یونیسکو کا اس دن کو منانے میں دوسرا مقصد یہ بھی ہے کہ استاد اپنی کارکردگی کا جائزہ لے۔ اپنا محاسبہ کرے اور اپنے درس و تدریس کے طریقوں میں جدید دور کے نئے تقاضوں کے مطابق تبدیلی لاکر تعلیمی معیار کو بہتر بنائے اور اس طرح دنیا کی ترقی میں مثبت کردار ادا کرے۔

یوم استاد ہر سال منایا جاتا ہے کیونکہ استاد کا کام نہایت مقدس اور بہت اہم ہے۔ مقدس اس لیے کہ یہ کام سارے انبیاء علیہم السلام اور اولیائے کرام نے اللہ تعالی کی ہدایات کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے سرانجام دیا ہے۔ اہم اس لیے ہے اگر استاد کے کردار کو دنیا سے منفی کیا جائے تو پھر دنیا میں ترقی ہوگی اور نہ ہی کوئی نئی چیز دریافت ہوگی اور اس طرح زندگی مفلوج ہو کر رہ جائے گی۔ استاد کی مثال انسانی وجود میں دماغ جیسی ہے۔ اگر دماغ انسانی وجود سے نکال دیا جائے تو انسان شعور و آگہی سے بے بہرہ ہوجاتا ہے اور جب انسان کی سوچ اور سمجھ مفلوج ہوجاتی ہے تو اس میں اور حیوان میں فرق ختم ہو جاتاہے اور سب سے اہم بات جو استاد میں ہے وہ یہ کہ وہ انسانی دماغ کو آہستہ آہستہ کارآمد بناتا ہے۔

ہر ریفارمر، فلسفی اور مفکر بحیثیت استاد اپنے افکار لوگوں تک پہنچاتا ہے اور پھر ان پرعمل کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ تمام سیاستدان استاد ہوتے ہیں جو لوگوں کے مسائل کی نشاندہی کرکے مسائل کے حل کے لئے ان کی رہنمائی کرتے ہیں۔ تمام صحافی اور لکھاری استاد ہوتے ہیں جو اپنی تحقیق کی بنیاد پر اکٹھی کی گئی معلومات کے ذریعے سماجی مسائل کی نشاندہی کرکے ان کے لیے مناسب حل تجویز کرتے ہیں۔ ماں باپ کی حیثیت اس حوالے سے بہت بلند ہے کہ وہ اپنے بچوں کے ابتدائی استاد ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگوں میں اپنے والدین کی تعلیمات کی جھلک نظر آتی ہے۔

ہر کارآمد چیز اور اچھے کام کی ابتدا استاد سے ہوتی ہے۔ طب کے شعبے کے لیے قابل اور محنتی طلبا ء استاد فراہم کرتا ہے اور پھر یہی اساتذہ ان طلباء کو طب پڑھاکر ڈاکٹر بنا دیتے ہیں جو آگے جاکر انسانوں کی زندگی بچاتے ہیں۔ تمام بڑے بڑے انجنئیر استاد کی پیداوار ہیں جو اپنے علم کی بنیاد پر دنیا میں خوب صورتی بھر دیتے ہیں۔ عدالتوں میں بڑے بڑے فیصلے کرنے والے جج صاحبان اور ان کے سامنے بولنے والے معتبر وکیل استاد کے بنائے ہوئے ہوتے ہیں۔ سپاہی سے لے کر جرنیل تک سب کو سکیورٹی اور دشمن سے لڑنے کا ہنر استاد سکھاتا ہے۔

اگر استاد بچوں کی تعلیم و تربیت پر دل جمعی سے توجہ دے اور انہیں اعلا اخلاقیات کا درس دے تو معاشرے میں ڈاکوؤں، لٹیروں، رشوت خوروں اور مجرمانہ ذہن کے حامل لوگوں کی شرح بہت کم ہوجائے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خراب لوگ وہاں بھی پائے جاتے ہیں جہاں تعلیمی معیار مثالی ہے لیکن وہاں نسبتاً کم ہوتے ہیں۔

ہر سال اس دن کی مناسبت سے میں کچھ نہ کچھ لکھ کر اپنے مہربان اساتذہ کرام کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور اخباری مضمون کے ذریعے ان کے نام لکھ کران کے لیے نیک خواھشات کا اظہار کرتا ہوں۔ گذشتہ سال بھی میں نے اپنے ایک مضمون کے ذریعے اپنے تمام مہربان اساتذہ کو نیک خواھشات پہنچائے تھے لیکن میں اس وقت اپنے ایک بہت ہی شفیق اور ہر دلعزیز استاد، جناب خانزادگل صیب مرحوم کا نام لکھنا بھول گیا تھا جس کی نشاندہی میرے ایک بہت ہی محترم دوست نے بھی کی تھی۔ پورا سال میں نے اس دن کا بے تابی سے انتظار کیا تاکہ میں اپنے اگلے مضمون میں اپنے اس مہربان استاد کا ذکر کروں اور ان کے لئے عزت و احترام کا اظہار اور نیک دعائیں کرکے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرسکوں۔

آخر میں تمام اساتذہ کرام کو سلام پیش کرتاہوں اور ساتھ ہی یہ کہنا چاہوں گا کہ معاشرہ کو نہ عدالتیں، نہ نیب اور نہ ہی پولیس ٹھیک کرسکتے ہیں کیونکہ اگر عدالت اچھے فیصلے کریں، نیب بلا امتیاز کیسز بنائے اور پولیس صحیح تحقیقات کریں تو اس سے مجرموں اور ڈاکوؤں کی تعداد کم نہیں ہوسکتی بلکہ معاشرہ اس وقت ٹھیک ہوسکتا ہے جب اس میں استاد اپنا مثبت کردار ادا کرے کیوں کہ سماجی تبدیلی کا علم بردار استاد ہی ہے، اس کی چابی استاد کے پاس ہے۔ وہ ہی لوگوں کے ذہنوں کو تبدیل کرنے کی مہارت جانتا ہے اور معاشرتی اصلاح میں اس کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •