پی ایس 11 لاڑکانہ: اثاثے چھپانے والوں اور جنازے اٹھانے والوں میں معرکہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پی ایس 11 لاڑکانہ پہ جی ڈی اے کے معظم عباسی کی نا اہلی کے بعد 17 اکتوبر کو ضمنی انتخاب کا معاملہ حق و باطل کی جنگ کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ مرحومہ ڈاکٹر بیگم عشرت عباسی اور ان کے خاندان کا شہید بھٹو سے وفاداری، محبت و ایثار والا رشتہ شہید بینظیر بھٹو کی جانثاری تک بڑے پرجوش و پرعزم انداز میں سچائی اور مخلصی کے ساتھ قائم رہا مگر 27 دسمبر کو شہید بینظیر بھٹو کی شہادت سے اس انتہائی مضبوط و اٹوٹ رشتے میں دراڑیں پڑنا شروع ہوئیں جو بالآخر پیپلز پارٹی سے علیحدگی پر منتج ہوئیں۔

مرحومہ بیگم اشرف عباسی پارٹی کی بانی اراکین میں سے ایک تھیں، پارٹی کی وجہ سے ان کو اور ان کے خاندان کو کارزارِ سیاست میں وہ بیش بہا شہرت، عزت و دولت نصیب ہوئی جو بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔ ڈاکٹر صفدر عباسی اور ان کی اہلیہ ناہید عباسی المعروف ناہید باجی شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے معتمدین خاص تھے، دونوں میاں بیوی پیپلز پارٹی کے کرتا دھرتاؤں میں سے ایک تھے۔

محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد وفادارانِ پیپلز پارٹی اور جانثارانِ بینظیر بھٹو عباسی خاندان آہستہ آہستہ پیپلز پارٹی سے دوری اختیار کرتے گئے اور پھر انہوں نے اپنی جماعت ورکرز پیپلز پارٹی قائم کرلی۔ جولائی 2018 کے عام انتخابات میں اسی ورکرز پیپلز پارٹی کے سابقہ جانثارانِ بینظیر بھٹو نے ہمیشہ سے شہید بھٹو اور پیپلز پارٹی کے بغض میں جکڑے، بھٹو شہید اور بی بی شہید کی جانوں کے درپے رہنے والے دشمنانِ بھٹو سے اتحاد کر کے پیپلز پارٹی کے خلاف انتخابات میں حصہ لیا۔

لاڑکانہ سمیت پورے سندھ اور جہاں جہاں سے امیدوار کھڑے کیے سوائے پی ایس 11 لاڑکانہ کے اپنی ضمانتیں ضبط کروا بیٹھے۔ پی ایس 11 لاڑکانہ پہ بھی شکست ان کا مقدر ہی بنتی مگر عین وقت پہ پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو کے کاغذات نامزدگی مسترد ہو گئے جس کے بعد ان کی صاحبزادی ندا کھوڑو نے انتخاب لڑا اور وہ قریباً دس ہزار ووٹوں سے انتخاب ہار گئیں۔ شومئی قسمت کہ سپریم کورٹ میں اثاثے چھپانے کی پاداش میں معظم عباسی کے حلقے میں انتخاب کالعدم قرار پایا اور اب وہی معرکہ 17 اکتوبر کو ہونے جا رہا ہے۔ اس بار پیپلز پارٹی نے اپنے ایک انتہائی پرانے شہید بینظیر بھٹو کے ساتھی اور نظریاتی کارکن جمیل احمد سومرو کو انتخابی اکھاڑے میں اتارا ہے جبکہ جی ڈی اے کی طرف سے ایک بار پھر معظم عباسی پنجہ آزمائی کے لئے تیار ہیں۔

لاڑکانہ کے معرکے کا سب اہم اور غور طلب پہلو یہ ہے کہ اثاثے چھپانے کی پاداش میں لوگ تاحیات نا اہل ہوتے ہیں مگر معظم عباسی کو تاحیات نا اہل قرار نہیں دیا گیا جو کہ پیپلز پارٹی سے امتیازی سلوک کی نشاندہی کرتا ہے، دوسرے جی ڈی اے کے ساتھ پیپلز پارٹی کے ذاتی، سیاسی نظریاتی مخالف ایک چھتری تلے اس کا مقابلہ کر رہے ہیں اور اس میں جے یو آئی (ف) بھی شامل ہے جس کی انتہائی محترم و مکرم قیادت بشمول محترم مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے خلاف اس مفادات کے غلام اتحاد کی ایک جماعت پی ٹی آئی کے لیڈر عمران خان اور اس کے تمام اکابرین انتہائی غلیظ اور نازیبا زبان استعمال کرتے رہتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن پاکستان کی سیاست کے ایک انتہائی محترم اور قابلِ احترام دینی رہنما ہیں مگر تحریک انصاف کی قیادت ان کے خلاف اخلاق سے گری رکیک زبان استعمال کرتی ہے اور جے یو آئی کے ووٹرز اور ہمدرد پی ٹی آئی کے اتحادی بن کر لاڑکانہ میں مولانا فضل الرحمان کی ہم رکاب جماعت کے خلاف انتخاب لڑ رہے ہیں۔ اس انتخاب میں جمیل سومرو صاحب جو پیپلز پارٹی کے بڑے قابلِ اعتماد اور مخلص سیاسی کارکن ہیں ان لوگوں کے خلاف انتخاب لڑ رہے ہیں جو شہید بھٹو اور ان کے خاندان کی وجہ سے سیاست میں پہچانے جاتے رہے ہیں، آج تک بہت سے جیالے ڈاکٹر صفدر عباسی اور ان کی اہلیہ کو شہید بی بی کے ساتھیوں میں شمار کرتے رہے ہیں لیکن جولائی کے عام انتخابات کے بعد 17 اکتوبر کے ان ضمنی انتخابات میں پارٹی، شہید بھٹو اور بی بی کے وارثوں کے خلاف بھٹو دشمنوں کے آلہِ کار بن کر استعمال ہونے کے بعد پارٹی کے اکثر جیالے اور لاڑکانہ شہر کے عوام اس خاندان سے متنفر ہو چکے ہیں۔

اس حلقے میں جے یو آئی کا ایک مستحکم ووٹ بینک ہے جس کی بنا پہ معظم عباسی کامیاب ہوئے تھے مگر وہی ووٹر اس بار عمران نیازی اور ان کے اکابرین کی جانب سے اپنی محترم قیادت کے خلاف نازیبا زبان اور ہرزہ سرائی پہ سخت ناراض ہے، اس کے علاوہ لاڑکانہ کے عوام سندھ کی تقسیم کے فتنے کو ایک بار پھر نئے روپ سے ہوا دینے والی ایم کیو ایم کی اتحادی جی ڈی اے کو سندھ سے غداری کا مرتکب سمجھتے ہوئے بھی سخت اشتعال میں ہیں۔

اس انتخابی معرکے کو حق و باطل کا معرکہ اس لئے کہا جا رہا ہے کہ ساری زندگی شہید بھٹو اور ان کی بیٹی کے نام پر مراعات حاصل کرنے عزت نام شہرت و دولت حاصل کرنے والے عباسی خاندان نے اپنی اس لیڈر کی اولاد سے محاذ آرائی، احسان فراموشی کا ارتکاب کیا ہے جس کو انہوں نے اپنی گود میں کھلا کر بڑا کیا اور آج ڈاکٹر صفدر عباسی ناہید عباسی اور منور عباسی دشمنانِ بینظیر کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بن کر باطل کے گماشتوں والا کردار ادا کر رہے ہیں۔ لاڑکانہ کے اس حلقے پر اس وقت پورے ملک کی نظریں گڑی ہوئی ہیں ایک طرف جیالے ہیں جو حق کا پرچم تھامے اپنی قیادت سے وفاداری کا عہد نبھا رہے ہیں تو دوسری جانب شہیدوں کے خون سے بیوفائی کرنے والے شہیدوں کے دشمنان کے ہم رکاب بنے بیوفائی و احسان فراموشی کی ایک اور تاریخ رقم کرنے جا رہے ہیں۔

لاڑکانہ کے صوبائی حلقے سے کس کے نصیب میں سرخروئی لکھی ہے اور کس کے نصیب میں شکست، اس سے قطع نظر ایک حقیقت بڑی واضح ہے کہ حق و باطل کی اس جنگ میں فتح ہمیشہ حق و سچ کی ہی ہوئی ہے۔ میدانِ کربلا میں شہادتیں پانے والے حسین علیہ السلام اور ان کے ساتھی آج بھی قربانیوں کی لازوال علامت ہیں اور ان کے رہزن قاتل باطل کی علامت بن کر آج تک ذلت و رسوائی کا شکار ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •