طاق حجت میں جلانے کو چراغ اتمام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جمعیت علماء اسلام ہند کے مطابق کشمیر، بھارت کا قانونی حصہ ہے اور جو بھارتی سرکار نے ابھی آرٹیکل 370 کا خاتمہ کیا ہے اس میں بھارتی سرکار حق بجانب ہے جبکہ جمعیت علماء سندھ اور مولانا فضل الرحمن کے مطابق آزادی مارچ کے لئے ستائیس اکتوبر کی تاریخ کشمیر پر بھارتی استحصال کی وجہ سے رکھی گئی ہے اور پاکستانی جمعیت کشمیر کی آزادی کی حامی ہے۔ اگر آپ یہ پڑھ کر پریشان نہیں ہوئے تو یقیناً یہ پڑھ کر ہو سکتے ہیں کہ جمعیت کے علم دوست رہنماؤں کے مطابق دونوں مؤقف درست ہیں کیونکہ دونوں جماعتیں اپنی اپنی ریاستوں کی وفادار ہیں جو کہ فقہی اصولوں پہ منطبق ہے۔

ایک رہنما کے مطابق جمعیت ہند کی رائے ان کے لئے اتمام حجت ہے جبکہ جمعیت پاکستان کی رائے ہماری حجت ہے۔ قلمکار کو بھی حجت کے لفظ کی صحیح طور سمجھ نہ تھی مگر اس قضیہ نے یہ مسئلہ بھی اسی طرح حل کر دیا جسطرح دو متضاد موقف لے کر جمعیت نے دونوں جگہ مسئلہ کشمیر میں مقدور بھر حصہ ڈال رکھا ہے۔ حضرت جوش کے مطابق

طاق حجت میں جلانے کو چراغ اتمام
اس تمنا میں کہ ڈس لیں نہ یقیں کو اوہام

اب اگر چند لمحات رک کے سوچا جائے تو مسئلہ یہ بھی ہے کہ اسلام کے مذہبی علما تاریخی طور پہ ظالم و جابر حکمرانوں کی حمایت کرتے آئے ہیں اور ان کے ہر ظلم وجبر کو مذہبی توثیق و تصدیق مہیا کرتے آئے ہیں۔ یہاں تک کہ اکثرو بیشتر فتاویٰ کے پیش منظر بھی یہی اصول کارفرما رہا۔ ’ملت اسلامیہ‘ کی تاریخ دیکھیں تو کوئی اکا دکا مذہبی رہنما ہی ظالم حکمران کے خلاف کھڑا ہوا اور پھر اس کے ساتھ وہی کیا گیا جو عباسی خلفاء نے امام جعفر صادق یا امام ابو حنیفہ کے ساتھ کیا تھا، ایک کا گھر جلا دیا اور دوسرے کو تاعمر زندان میں ڈال رکھا۔

باقی علماء بھی ممکن ہے یہی سوچتے ہوں کہ بہتر ہے دنیا بچا لیں، دین کی حفاظت کا ذمہ خدا نے لیا ہی ہوا ہے۔ اور شاید یہی وجہ ٹھہری کہ برصغیر میں مسلمانوں کے زیادہ تر مذہبی رہنما انگریزوں کے نمک خوا ر رہے۔ شاہ عبدالعزیز نے سامراجی انگریز کی نوکری کے حق میں بلکہ انگریزی زبان کے جواز میں فتوی دیا۔ شاہ اسمائیل اور سید احمد بریلوی بھی انگریزوں سے جہاد کے خلاف تھے۔ دور جدید دیکھیں تو جنرل ضیا کو بھی تمام ہی قابل ذکر مذہبی رہنما امیر المومنین ہی مانتے رہے، محترم فرنود عالم نے چند روز قبل اس معاملہ پہ تفصیلی روشنی ڈالی ہے اسپر کچھ لکھنا تو چراغ کو روشنی دکھانے کے مترادف ہو گا۔

اسی طور جمعیت ہند، ہندوستان میں ایک سیکولر قوم پرستانہ نظام کی بھرپور حمایت کرتی آئی ہے، مگر پاکستان کی سرحد عبور کرتے ہی جمعیت کو ایک مکمل اسلامی نظام چاہییے کیونکہ سیکولر نظام کفر کے برابر ہوتا ہے اور اس کے ماننے والے بھی کافر ہوتے ہیں خصوصا اگر اتمام حجت نہ ہوا ہو۔ اگر تھوڑا مزید پیچھے جائیں تو معلوم پڑتا ہے کہ جمعیت علما اسلام خلافت عثمانیہ کی تو پرزور حمایت کیا کرتی تھی مگر مولانا حسین احمد مدنی کے خیال میں تقسیم ہند سراسر غلط تھی۔

جناب ابوالحسن اصفہانی لکھتے ہیں کہ مولانا حسین احمد مدنی نے محترم جناح سے پاکستان کے مطالبہ کی حمایت کے عوض مبلغ پچاس ہزار روپیہ نصف جس کے پچیس ہزار ہوتے ہیں، طلب کیا تاکہ کسی حجت کا احتمال کیا جا سکے۔ جناح نے جب فرمایا کہ اتنی رقم ہمارے پاس نہیں تو مولانا مدنی کانگریس کے ساتھ مل کر سیکولر قوم پرستی کے راستے چل دیے، جناح صاحب کی مرحومہ منکوحہ تک کو کافرہ کہا گیا، یہاں تک کہ پاکستان کے حامی علما جیسے اشرف علی تھانوی اور شبیر احمد عثمانی تک کو دیوبند کے طلبا کافر کہتے رہے۔

اگر پچاس ہزار مل جاتا تو شاید تاریخ اور فتاوی کچھ محفوظ رہتے۔ اسی طرح ہندوستانی آئین ایک ’معاہدے‘ کا ذکر کرتا ہے جو بالکل ویسا ہی ہے جیسا ریاست مدینہ میں مدینے کے یہودیوں نے مسلمان حکمرانوں کے ساتھ کیا تھا، دلچسپ بات یہ ہے کہ اس معاہدے کی رو سے ہندوؤں کو کافر بھی نہیں کہا جا سکتا کہ ان کی دل آزاری نہیں کی جا سکتی ہاں ان کو غیر مسلم کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اسی طرح سے جمعیت کے رہنما عیسائیوں کو بھی کبھی تو ہندوؤں کے ساتھ ملا کر اکٹھا گن لیا کرتے تھا، کبھی اہل کتاب بنا کر ان کا شمار کسی تیسری کیٹیگری میں کر لیا جاتا تھا۔

الفاظ کی جادوگری کچھ بھی کہیں بھی کرا سکتی ہے، اب اتنا فالتو وقت کسے کہ گہرائی میں اترے اور سوچے کہ اس سے وقتی فائدہ زیادہ ہوا یا دائمی نقصان اور یہ سوچنا تو بالکل ہی منع ہے کہ اگر بت پرستوں کی دل آزاری کے ڈر سے انہیں کافر نہیں کہہ سکتے تو آئے دن اپنے سیاسی مخالفین کو کافر کہنے سے کیوں نہیں رکتے؟ یہودی ایجنٹ تو خیر ایک بے ضرر سا الزام ہوا۔

پاکستان میں جمعیت علما اسلام کی تاریخ دلچسپ تضادات سے بھرپور رہی ہے، غلام محمد نے جب ناظم الدین صاحب کو برطرف کیا تو جمعیت کی طرف سے اس عمل کی توثیق کی گئی، جبکہ فاطمہ جناح کے خلاف مولانا ہزاروی اس ہراول دستے کا حصہ رہے کہ عورت کی حکمرانی اسلام میں کسی طور جائز نہیں اور شاید یہی وجہ تھی کہ بینظیر بھٹو کے خلاف عورت کی حکمرانی کی دینی مخالفت مولانا فضل الرحمان نے بھی کی مگر بعد ازاں شاید کسی حجت کو پورا کیا گیا اور آپ محترمہ بینظیر بھٹو کے شانہ بشانہ الیکشن لڑتے رہے اور بعد ازاں جامعہ بنوریہ کے ذریعہ سے طالبان کی حکومت بنوانے میں بھی کافی مدد فراہم کی۔

مولانا خیر جنرل مشرف کے بھی مخالف تھے اس لیے گھر میں نظر بند بھی رہے مگر جلد ہی ایسے رہا ہوئے کہ نہ کیس بچے نہ مخالفت بلکہ سیدھا اسمبلی جا پہنچے اور صوبائی اسمبلی میں اپنا امیدوار چیف منسٹر بھی بنوا گئے۔ اسی طرح آپ امریکہ کی بھی دل و جان و زباں سے مخالفت کرتے تھے مگر امریکی سفیر کو مدعو کر کے امریکہ یاترا کی خواہش اور وزیر اعظم بننے کے لیے مدد کی درخواست بھی کرتے رہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اکتوبر کے آخری ہفتہ کیا ملتا ہے، کوئی حجت پورا ہوتی ہے یا مقصد ملتا ہے۔ میر انیس کی زبانی

اسرار جو مخفی ہیں وہ اب ہوئیں گے ظاہر
یہ آیتِ ایماں ہے یا ہے حجتِ باہِر

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •