ابصار عالم! اب بھی وقت ہے، سدھر جائیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں ہمیشہ کہتا رہا کہ تمھاری ایمانداری اور اُصول پسندی تمھارے لیے مسائل پیدا کرے گی لیکن مطیع اللّہ جان نے کب بات مانی تھی جو ابصار عالم بھی مان لیتا۔ سو اس کی پیمرا چئیرمین تعیناتی پہلے دن سے منسوخ کردی گئی بلکہ تمام تنخواہیں واپس جمع کرانے کا حکم بھی جاری کردیا گیا کیونکہ ہم ایک ابصار عالم کی خاطر اپنی ان “شاندار روایتوں“ کو نہیں توڑ سکتے جو ہم نے ملک کو فائدہ پہنچانے اور ایماندای کے ساتھ اپنا کام کرنے والوں کے سلسلے میں قائم کی ہیں ۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا حشر دُنیا کے سامنے ہے۔ ایل این جی معاہدے سے ملک کو اربوں کا فائدہ پہنچانے والے شاہد خاقان عباسی ھتکڑیوں سے کھیل رہا ہے۔ ملک کو ایٹمی قوت بنانے اور سی پیک اور موٹرویز جیسے میگا پراجیکٹس کے خالق اور معاشی اُڑان کے منصوبہ ساز کو ہم جیلوں میں ٹھونس چکے ہیں۔ سو ابصار عالم ایک پاگل تھا جس کے سر پر بھی ایمانداری اور اُصول پسندی سوار ہوگئی اس لئے جب گزشتہ حکومت میں وہ پیمرا چئیرمین بنا تو اس کے ساتھ زمانہ طالبعلمی سے چلے آتے تعلق کی بنا پر جانتا تھا اور مجھے اندیشہ بھی تھا کہ یہاں بھی وہ ایمانداری اور اُصول پسندی سے باز نہیں آئے گا اور اپنے اور اپنے مختصر سے خاندان کے لئے مسائل پیدا کرےگا اور اس نے حسب توقع ایسا ہی کیا کیونکہ جب وہ پیمرا کا چیئرمین بنا تو ڈی ٹی ایچ کے تین لائسنس چودہ ارب انہتر کروڑ چالیس لاکھ میں فروخت ہوئے جو ایک ریکارڈ ہے ۔

اس پاگل آدمی نے صرف اس پر اکتفا نہیں کیا بلکہ میڈیا میں پھیلے “گند“ کو صاف کرنے کا تہیہ بھی کیا اور پھر وہ ویڈیو تو آپ نے دیکھی ہوگی جب صحافتی تاریخ کا بدنام ترین صحافی اسے فون پر دھمکیاں دیتا رہا۔

چیئرمین پیمرا کی حیثیت سے اس نے میڈیا ورکرز کے لیے پالیسیز بنانے کے علاوہ اپنے آفس کے ملازمین کے کام کو دیکھ کر انہیں ان کا مکمل حصہ دینا بھی شروع کیا اور یہی وہ “جرائم ہیں جس نے اس کا رزق حلال بھی چھینا اور اس پر خُدا کی زمین بھی تنگ کر دی لیکن ہمارے یہاں رائج دستور بھی یہی ہے کہ

کاغذ کے پھول سر پہ سجا کے چلی حیات

نکلی برون شہر تو بارش نے آ لیا

پتہ نہیں اس پاگل آدمی کو اس ایمانداری اور اصول پسندی میں کیا نظرآتا ہے کہ اپنے لئے مسائل بھی پیدا کرتا ہے اور اپنے دوستوں کے لیے پریشانی بھی ورنہ کسی ٹیلیوژن چینل پر بیٹھ جاتا اور طعنہ زنی، منفافقت، کذب بیانی، ڈس انفارمیشن اور مسلسل جھوٹ سے نہ صرف رائج صحافت کا حصہ بن کر غلاظت بانٹتا پھرتا بلکہ محفوظ و مامون رہ کر بہت سارے پیسے بھی کما لیتا۔ وٹس اپ پر میسج موصول ہوتے ہی سکرین کے سامنے خوف خدا سے بے نیاز اور انسانیت سے بے پرواہ رہ کر جو منہ میں آتا کہہ دیتا، صرف زبان کو “غلط سمت” میں پھلسن سے بچائے رکھتا۔ صورت حال یہ ہے کہ اس طرح کی غلیظ صحافت کی نہ بلائیں لینے والوں کی کمی ھے نہ اس پر یقین کرنے والوں کی۔

سو یہی اس بد نصیب وطن کا رائج بیانیہ ہے اور اس کو لےکر چلنا ہی کامیابی کا راستہ ہے، تبھی تو تیس ارب روپے ڈکارنے والے باعزت رہتے ہیں۔ ساٹھ ہزار جعلی ووٹوں سمیت رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والے معتبر ٹھہرتے ہیں۔ اور ڈیم فنڈز ہڑپ کرنے والے ہیرو گردانے جاتے ہیں لیکن وہ لوگ مجرم اور گردن زدنی ٹھہرائے جاتے ہیں جو لگے بندھے رستوں کی مخالف سمت میں چلنا تو درکنار اس سے معمولی سے انحراف کا بھی سوچنے لگیں ۔

اس لئے اس پاگل آدمی ابصار عالم سے ایک بار پھر گزارش ہے بلکہ مفت مشورہ ہے کہ جذباتی تسکین کے حصول کی بجائے عقل و خرد کا راستہ لیں اور اس بیانیے کا علم اُٹھائیں جس نے اس ملک کے ہر ضمیر فروش کو اس کے اوقات اور ذہن سے بڑھ کر دیا۔ ایمانداری، اُصول پسندی اور خیر خواہی تو اس دیس کے متروک سکے ہیں آپ آخر کیوں اس سے باز نہیں آتے کہ کھوٹے سکوں کی قدر و منزلت کا انکار کرتے رھتے ہیں۔

اور اگر آپ ایسے ھی ہیں تو پھر بھگتیں بھی اور برداشت بھی کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •