اقوام متحدہ میں سولہ ووٹوں کی کہانی دردناک ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کشمیریوں کی مایوسی کا احساس چین میں بھی موجود ہے۔ عمران خان کی جنرل اسمبلی کی تقریر کا اگر جائزہ لیا جائے تو صاف محسوس ہو گا کہ ان کی گفتگو ان کے کیے گئے اقدامات سے مطابقت نہیں رکھتی۔ جب آسیہ بی بی کے معاملے پر ملک میں ہیجان برپا ہو گیا تو حکومت نے ان مظاہرین سے معاہدہ کیا۔ یہ معاملہ مذہبی تھا، سیاسی تھا یا قانونی تھا؟ یقینی طور پر مذہبی تھا جس کو قانونی فریم ورک میں حل کرنے پر اتفاق کیا گیا مگر ہوا کیا؟

معاہدے پر سرے سے کوئی عمل نہیں کیا گیا حالانکہ قانونی اعتبار سے یہ ممکن تھا۔ مگر بین الاقوامی دباؤ کو برداشت نہ کیا جا سکا۔ جو اپنے دور حکومت میں اپنے کیے گئے معاہدے کو دباؤ کی وجہ سے عمل میں نہ لا سکے۔ اس کی اس موضوع پر تقریر ماسوائے اپنے ملک میں مذہبی جذبات سے کھیلنے کی اور کیا ہو سکتا ہے۔ کشمیر پر گفتگو؟ وزیر اعظم آزاد کشمیر فاروق حیدر کے خطاب تک کو براہ راست نشر ہوتے ہوئے کاٹ دیا گیا اس کے بعد کیا رہ جاتا ہے۔

پھر مودی پر تنقید اس پس منظر کے ساتھ کی گئی کہ بھارتی انتخابات سے قبل مودی کی کامیابی کو مسئلہ کشمیر کے حل سے جوڑ دیا گیا۔ کیا اس وقت یہ نہیں جانتے تھے کہ مودی آر ایس ایس سے وابستہ ہے؟ مودی کا بھارتی ریاست گجرات میں کیا کردار رہا تھا؟ کیا ڈھکا چھپا تھا؟ پھر سونے پر سہاگہ ابھینندن کو فوراً رہا کر کے مودی کی کامیابی کے لئے مضبوط سہارا فراہم کر دیا گیا۔ پھر مودی کے خلاف تقریر، قومی یادداشت اتنی بھی کمزور نہیں ہوتی کہ چند ماہ پرانی باتیں بھی یاد نہ رکھ سکے۔

ایٹمی جنگ کے حوالے سے گفتگو کرنا، معاملات کو جنگ کے دہانے پر بیان کرنا، شیر آیا، شیر آیا کے مصداق ہے۔ اگر کشمیر میں کرفیو کے ہٹنے کے بعد بھارتی مظالم کے جواب میں امن کا پرچار شروع ہو گیا تو ایٹمی اثاثوں کا خوف بھی روانا ہو جائے گا اور کشمیریوں کی ہم سے مایوسی انہیں کچھ بھی سوچنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ کبھی کسی ذمہ دار رہنماء نے بھی ایٹمی جنگ پر اس طرح بات کی ہے؟

اگر صرف اپنے حامیوں کو تقریر کے سہارے خوش رکھنا ہے تو اور بات ہے۔ بات ان ممالک کی سنی جاتی ہے جن کی پشت پر ان کی پوری قوم اس مسئلے پر کھڑی ہو۔ جو بات طے کر لی جائے اس پر عمل درآمد کیا جائے۔ نا کہ کسی کو خوش کرنے کے لئے سی پیک پر سست روی کر لی جائے یا کسی کو پھنسانے کے لئے قطر سے ایل این جی معاہدے کرنے پر کسی کو گرفتار کر لیا جائے۔ حالانکہ یہ قطر کی ریاست سے براہ راست معاہدہ ہے۔ یہی حکمت عملی رہی تو پھر جہاں مرضی چلے جائیں 16 ووٹ بھی نہیں مل سکیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •