حساس اداروں کے واسطے بریگیڈیئر (ر) سید احمد ارشاد ترمذی کے مشورے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تیس سالہ عسکری زندگی کے دوران مختلف عہدوں پر خدمات سر انجام دینے والے سابق چیف آف اسٹاف ڈائر یکٹر یٹ جنرل آئی ایس آئی بریگیڈیئر (ر) سید احمد ارشاد ترمذی اپنی کتاب ”حساس ادارے“ (سنِ اشاعت: 2004 ) میں لکھتے ہیں : میرا مشاہدہ یہ ہے کہ یہ ادارہ (آئی ایس آئی) ایکسپرٹ افرادی قوت اور مادی وسائل کی کمی کا بری طرح شکار ہے (یاد رہے مصنف نے اپنے دور کا مشاہدہ لکھا ہے جو شاید آج کی حقیقت کے قریب تر نہ ہو) ، ہمیں پڑھے لکھے اور تجر بہ کار افراد کی ضرورت ہے۔

اس نوع کے اداروں کی اپنی ساخت، روایت اور کلچر ہونا چا ہیے۔ آج کل کا دور ما ئیکرو سپیشلا ئزیشن کا دور ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ بدلتے ہوئے حالات اور کرۂ ارض پر نمودار ہونے والے بعض حقائق کی روشنی میں ہم اپنے قومی تحفظات اور سلامتی کے پیش نظر ان اداروں کو صرف اور صرف قومی خدمت اور سلامتی کے جذبے کی اساس پر استوار کریں اور ان کے اہلکاروں کو تیزی سے بدلتے ہوئے سیا سی اور سماجی حالات میں جدید طریقہ کار، تربیت اور تکنیکی صلا حیتوں سے بہرہ ور کریں۔ اس کے بعد بریگیڈیئر صاحب اربابِ اختیار کی توجہ کے لیے چند مشورے لکھتے ہیں، وہ پیشِ خدمت ہیں۔

1 ) میرے نزدیک سب سے اہم بات موزوں اور صحیح اہلکاروں کا انتخاب ہے۔ اس کے لیے ایک واضح اور فول پروف طریقہ کار ہونا چاہیے۔ ان اداروں میں کام کرنے کے لیے منتخب کیے جا نے والوں کی تربیت بھی انتہائی اہم ہے۔ ان ایجنسیوں کے مختلف شعبوں کے لیے مختلف قسم کی شخصیت، تعلیمی قابلیت، بیک گراؤنڈ اور کردار کے حامل افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔ میرے مطالعے اور تجربے کے مطابق انتخاب کا بہترین طریقہ کار بر طانوی انٹیلی جینس سروس کا ہے اور تربیت کے معاملے میں اسرائیل سرِ فہرست ہے۔

2) سی آئی اے کی طرح ہر خفیہ ادارے میں احتساب اور چیک اینڈ بیلنس کا نظام موجود ہونا چاہیے۔

3) اس میں کوئی شک نہیں کہ آئینی طور پر یہ ادارے ملک کے چیف ایگزیکٹیو (وزیرِ اعظم) کو جواب دہ ہوتے ہیں مگر چیف ایگزیکٹیو کو ان اداروں کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں باقاعدہ قانون سازی ہونی چاہیے۔

4) ان اداروں میں تخریب کاری، دہشت گردی اور پراپیگنڈہ کے توڑ کے لیے شعبوں کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔

5) خفیہ اداروں کے کارکن نائب قاصد سے لے کر ڈی جی آئی تک غیر مر ئی ہونے چاہیے۔ ان اداروں کے دفاتر کے گرد اونچی دیواریں اور سرچ لائٹس اس وقت تک بے سود ہیں جب تک ان اداروں کے اندر کام کرنے والے افراد میں راز کو راز رکھنے کی خوبی نہ پیدا کی جائے۔ ایسے لوگ جن کے سیاسی مقاصد ہوں، جو دولت اور شہرت کے لا لچی اور معاشرے میں اعلی سماجی مقام کی خواہش رکھتے ہوں، خود نمائی اور خود پسندی جن کا ذوق ہو، ایسے افراد کو ان اداروں کے قریب بھی بھٹکنے نہیں دیا جانا چاہیے۔

6) آئی ایس آئی اور آئی بی کے دائرہ کار اور کردار کی وضاحت ہونی چاہیے۔ ایسا بھی ہوا ہے کہ جب آئی ایس آئی کو کسی مشن کی تکمیل پر شاباش ملی تو آئی بی میں اس سے بد دلی پھیلی۔ یہ دونوں ادارے اکثر اوقات ایک دوسرے کے فرائض میں دخل اندازی بھی کرتے ہیں۔

7) سب سے اہم اور بنیا دی نقطہ یہ ہے کہ ان اداروں میں صرف با کردار، مقصد کے ساتھ کومٹمینٹ رکھنے والے اور قابل افراد کو منتخب کیا جانا چاہیے۔ یعنی کریکٹر، کمپیٹینس اور کمٹمنٹ کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔

8) تمام انٹیلی جینس اداروں کو صرف اور صرف پاکستان کے وقار اور سلامتی کے لیے کام کرنا چاہیے اور کسی بھی سیاسی جماعت کی سیاسی بلیک میلنگ کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔

9) ان ایجنسیوں کے سربراہان کا انتخاب صرف اہل اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل افراد میں سے کیا جانا چاہیے، سیاسی بنیادوں پر یا ذاتی تر جیحات پر عہدے نہیں بانٹنے چاہیے۔

”ایک اصلی تے وڈے محب وطن“ کی کتاب سے مشورے نقل کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ آج کے اربابِ اختیار کو اپنے قیمتی وقت سے چند گھڑیاں نکال کے یہ مشورے بغور پڑھنے چاہیے، کیوں کہ ان میں سے کچھ مشورے تو ایسے بھی ہیں جو ”عمل داری“ کی صورت میں پاکستان کے بگڑے حالات کو سنوارنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •