آخری لمحے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ بڑا سا کمرہ جس کی سفید دیواریں جیسے کوئی قید خانہ ہو جہاں انسان آتا اپنی مرضی سے ہے لیکن گھر جائے گا یا قبرستان یہ وہ خود بھی نہیں جانتا اس کمرے میں بڑے بڑے بیڈ جن پر بچھی سفید چادریں جیسے یاد دہانی کروا رہی ہوں کہ صفِ ماتم کبھی بھی بچھ سکتا ہے اس کمرے میں نوجوان بوڑھے بچے سب موجود ہیں کچھ صحت یاب ہو کر گھر کو روانہ ہوتے ہیں کچھ تنہا اپنی تکلیف میں کراہ رہے ہوتے ہیں اور ان کے پاس ان کا کوئی محبت کرنے والا رشتہ موجود نہیں سوائے اللہ کی ذات کے اور وہ اسی کو یاد کرتے ہیں۔

کچھ کی سانس کسی کی دید کی طلبگار ہوتی ہیں اور ان۔ کی نگاہ صرف اس در کو تک رہی ہوتی ہیں کہ کسی طرح وہ اپنے اس پیارے کو ایک نظر دیکھ لیں اور موت کی آغوش میں پُر سکون سر رکھ لیں۔ یہاں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بنا کچھ کہے یوں ہی اپنے پیاروں کو رب کے آسرے پر چھوڑ جاتے ہیں اور ان کے پیارے غم سے نڈھال ہو جاتے ہیں لیکن جانے والے کا صبر آہی جاتا ہے وقت کے ساتھ کیونکہ وقت کی تو فطرت میں ہی گزر جانا ہے اور زخموں کو بھر کے درد کی شدت کو کم کرنا ہے بس جو پیچھے رہ جاتی ہے وہ یادیں ہیں۔

انہی لوگوں میں ایسے بوڑھے مرد و عورتیں ہوتی ہیں جو والدین کہلاتے ہیں لیکن یہ لقب دے کر انہیں گھر کے ایک کمرے میں بٹھا دیا جاتا ہے ان۔ کو اپنی رائے دینے اور معاملات میں کچھ بھی کہنے کا عہدہ واپس لے لیا جاتا ہے اور ان کی شفقت بھلا دی جاتی ہے ان کی قربانیوں کو بھی نظر انداز کیا جاتا ہے کیونکہ اولاد کے مطابق ان کے والدین نے وہ ہی کیا جو دنیا کے والدین کرتے ہیں وہ بھول جاتے ہیں کہ انہی والدین نے ان کی بیماری کی خاطر اپنی راتوں کی نیند کو منہ پر پانی کے چھپکے مار کر اُڑایا ہے۔ اولاد کی ضرورت اور خواہش کی خاطر اپنی صحت اور سکون کو نظر انداز کیا ہے اپناہر لمحہ اپنی اولاد کے لئے وقف کرنے والے والدین جب اپنی عمر کو پہنچتے ہیں توان کی اولاد کے پاس اپنے مصروف وقت میں سے کچھ لمحے بھی نہیں ہوتے۔

افسوس جو والدین کے لئے لڑا کرتے تھے کہ آپ ہمارے ہو آج ان کا تعلق صرف ضرورت کا رہ گیا ہے۔

لیکن جب والدین میں سے کوئی ایک بھی لمحہ ِمرگ کے قریب ہو تو یک دم اولاد کو سارا خلوص اور محبت یاد آجاتے ہیں جس کے لئے والدین ترس رہے تھے وہ یک لخت روتے ہیں کہ ہمیں معاف کر دیں ہم آپ سے محبت کرتے ہیں ان لمحات میں جب وقتِ نزع قریب ہو تا ہے اب ان کو اپنی اولاد کی یہ محبت کیا اپنی تکلیف بھی محسوس نہیں ہو رہی ہوتی ہے درد سے ان کے دل کمزور سانسیں بوجھل ہو چکی ہوتی ہیں گویا بس رکنے کا انتظار ہو۔ وہ آخری چند لمحے جب موت قریب اور زندگی خیر آباد کہنے کو تیار ہوتی ہے آپ کے اپنے آپ کو سمیٹتے اور محبت کا اظہار کرتے ہیں۔

یہ دنیا فانی ہے سب جانتے ہیں تو پھر بھی یہ کوئی نہیں سوچتاکہ زندگی کا ہر لمحہ محبت کے اظہار کے لئے ہے آخر کیوں آخری لمحات میں ہی سب کو قول و قرار یاد آ جاتے ہیں جن احساسات کو اپنے ترستے چلے جاتے ہیں وہ ان لمحوں میں ہی کیوں یاد آتے ہیں جو ساری عمر نصیب نہیں ہوتی ان محبتوں کو محسوس کرنے کے لئے پیاروں کو زندگی کو خیر آباد کہنا پڑتا ہے۔

ہائے افسوس! انسان کتنا بے قدرا ہے جیتے جی یاد نہیں کرتا اور لحد میں اترتے ہی اپنے پیاروں کے نام کی تسبیح شروع کر دیتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سدرہ محسن کی دیگر تحریریں
سدرہ محسن کی دیگر تحریریں