لہوکی پکار کشمیر کس کا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کشمیر جسے پاکستان کی شہ رگ کہا جاتا ہے۔ بھارت نے اپنی نا پاک سازشوں کے ذریعے کشمیر پر قبضہ کیا۔ وادیِ کشمیر میں رہنے والے مسلمان آزادی کی جنگ لڑرہے ہیں۔ آزادی کی تحریک کئی سالوں سے جاری ہے۔ آزادی کی تحریک میں اب تک لاکھوں کشمیریوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اورابھی تک اپنی جان قربان کرنے کا سلسلہ کشمیر میں جاری ہے۔ اورتب تک کشمیر کے رہنے والے مسلمان اپنی جانوں کو قربان کرتے رہے گے جب تک کشمیر بھارت کے قبضے سے آزاد نہیں ہو جا تا۔

بھارتی فوج آئے دن کشمیر کے نوجوانوں، عورتوں، اور بچوں کا قتل عام کر رہی ہے۔ آئیے دن کشمیر کی سڑکیں لہو سے سرخ ہوئی ہوتی ہیں۔ کشمیر میں بھارتی فوج کی غنڈہ گردی عروج پر ہے۔ مگر کشمیر کی عوام کبھی بھی ان مظالم اور ظلم سے ڈر کر پیچھے نہیں ہٹے بلکہ آزادی کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ کشمیر کے نوجوانوں نے ہمیشہ آگے بڑھ کر آزادی کی تحریک میں حصہ لیا۔ اور بھارت کے مظالم کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ جن میں ایک نوجوان برہان وانی سر فہرست ہے۔

جس نے کشمیرکی آزادی کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا۔ اور نہ جانے اور کتنے برہان وانی ہیں جن کا لہو کشمیر کی مٹی میں شامل ہے کشمیر کی آزادی کے لئے۔ بھارت کے مظالم اپنے عروج پر ہیں۔ بھارت کی گورنمنٹ اورفوج نے وادی کشمیر جسے جنت کی نظیر کہا جاتاہے۔ لہو کی وادی بنایا ہواہے۔ کشمیر کے لوگوں کا لہو بہہ رہا ہے۔ صرف کشمیر کی آزادی کے لئے۔ سرسبزشاداب، پہاڑوں والی وادی کشمیر کو کو جنگ کا میدان بنایا ہواہے۔

پاکستان نے عالمی سطح پربھی کشمیر کی آزادی کے لئے آواز بلند کی مگر اقوام متحدہ کچھ نہ کر سکی۔ اور کشمیر کا معاملہ آج تک حل نہ ہو سکا۔ اور بھارت کے مظالم دن بدن بڑھ رہے ہیں۔ اور آفرین تویہ ہے کہ ان مظالم کے با وجود کشمیر ریوں کا حوصلہ پست نہیں ہوا۔ اور انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ آج بھی وہ بھارت کے مظالم کے آگے ڈٹ کر یہی نعرہ بلند کرتے ہیں کہ ”کشمیر بنے گا پاکستان“ اور یقیناً جب کشمیریوں کا لہو اپنی ہی وادی کشمیر میں بہتا ہو گا۔

تو لہو بھی پکارتا ہو گاکہ ”کشمیر پاکستان کا ہے“ ہاں لہو کی پکار بھی یہی ہے کہ کشمیر پاکستان کا ہے۔ اور انشاءاللہ وہ دن دور نہیں ہے جب کشمیر پاکستان کا حصہ ہو گا اور کشمیر بھارت کے قبضے سے آزاد ہو گا۔ اور دشمن کو عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کشمیر کبھی بھی بھارت کا حصہ نہیں بن سکتا۔ کیونکہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور جنت نظیر وادی ہے اور جنت کبھی کا فروں کو ملا نہیں کرتی۔ جب بھارت کے مظالم اور ان کی دہشتگردی کی وجہ سے اور ان کی گولیوں کی بو چھاڑ سے کشمیر ریوں کا لہو زمین پر گرتا ہو گاتب لہو کا ایک ایک قطرہ قطرے کی ایک ایک بوندیہی پکارتی ہو گی کہ کشمیر پاکستان کا ہے۔ اور انشاءاللہ کشمیر پاکستان کا حصہ بن کر رہے گا۔ ”خواب کو جاناہے آخر خواب کی تعبیر تک وادیِ کشمیر سے آزادی کشمیر تک کس طرح دشمن کو میں کشمیر اپنا سونپ دوں۔ میں نہ دوں اس کو کشمیر کی تصویر تک“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
حرا اجمل کی دیگر تحریریں
حرا اجمل کی دیگر تحریریں