مولانا کو کیا کہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابھی اتنی پرانی بات نہیں کہ ڈاکٹرطاہر القادری صاحب اتفاق مسجدسے ”کامیابی“ کے زینے پر قدم رنجہ ہوئے، پھر دیکھتے ہی دیکھتے کئی دیگر علماء پیچھے رہ گئے اور قادری صاحب اپنی پُر جوش تقریروں، شعلہ بیانیوں اور اپنے مخصوص ”انقلابی نعروں“ کی بدولت بہت آگے چلے گئے، مسجد، مدرسہ، شہر اعتکاف اور پھر یونیورسٹی بنا کر انہوں نے خود کو خاصامقبول بنا لیا اور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ دولت ”آپ“ پر ایسے عاشق ہوئی جس نے ڈاکٹر صاحب کو آبائی علاقے سے لاہور میں سیٹ ہونے اور پھر دیار غیر میں اپنا ”مقام“ بنانے میں اہم کردار ادا کیا، عقیدت مند آپ پر جان نچھاورکرتے ہیں، اسی گمان میں آپ نے پاکستان میں انقلاب لانے کے کئی بار دعوے کیے اورایسی کوشش میں سانحہ ماڈل ٹاؤن بھی رونما ہو گیا، اتنے بڑے واقعہ پر اپنے پرائے سب غمزدہ ہو گئے مگر انقلاب پھربھی نہ آیا، انقلاب کی تلاش میں ڈاکٹر صاحب نے اسلام آبادیوں کی زندگی بھی مفلوج کیے رکھی مگر لاحاصل اٹھناپڑگیا۔

وہ تو اب سیاست چھوڑ چھاڑ کر بیرون ملک ڈیرے جما بیٹھے ہیں مگر یہاں اب ایک بار پھر حکومتی تختہ الٹنے کے لیے ایک اور مولانا صاحب خاصے پُر جوش نظر آرہے ہیں جن کا نام عمران خان صاحب وزیراعظم بننے سے پہلے اپنے جلسوں میں لیتے تھے تو ہرطرف مخصوص آوازیں گونجتی تھیں، چلتے چلتے خان صاحب تو اپنے مقصد میں کامیاب ہو ہی گئے اور اب وہ اگلی منزل کی طرف گامزن ہیں، اگرپانچ سال میں عمران خان عوام سے کیے گئے وعدے پورے کر لیتے ہیں تو صورتحال بالکل مختلف ہو جانے کی امید ہے مگر یہ مولانا صاحب ایک سال بعد ہی حکومت کو گھربھیجنے کے دعوے کرتے کرتے شہر اقتدارکی طرف جانے کا ارادہ کیے بیٹھے ہیں، شاید اس سے قبل انہوں نے اتنی بڑی پلاننگ نہیں کی جتنی وہ اب کرتے نظرآتے ہیں حالانکہ پیپلز پارٹی اورنون لیگی رہنما کھل کر ان کے ساتھ دھرنے کے حق میں نظرنہیں آتے، پھربھی مولانا کادعویٰ ہے کہ یہ پارٹیاں ان کے ساتھ ہیں۔

اگر مولانا کے سیاسی ریکارڈ پرنظردوڑائیں تو وہ زیادہ تر بر سراقتدارپارٹیوں کے ساتھ ہی حکومت کاحصہ رہے، اس بار چونکہ ایسانہیں ہوسکا اور یہ تقسیم شاید مولانا کے مزاج پر خاصی گراں گزری ہے، اسے ہم سیاسی ”زیادتی“ بھی کہہ لیں توبات زیادہ واضح ہوسکتی ہے، وہ اب نہیں چاہتے کہ حکومت کچھ دن مزید کام کر سکے اورآپ چل نکلے ہیں اسی راہ پر جس پرکبھی طاہرالقادری صاحب چلے تھے، وہ بھی شہراقتدار سے خالی ہاتھ لوٹے تھے اور اب امکان یہی ہے کہ مولانا کو بھی شاید خالی جھولی ہی واپس مڑنا پڑے، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مولانا نے پہلے ناموس رسالت ایشو بنانے کے لیے تقریریں یادکر رکھی تھیں جو سب کی سب دھری کی دھری رہ گئیں کیوں کہ عمران خان نے دیار غیر میں جس اندازمیں تقریرکی اس کے بعد کوئی سمھدار بندہ نہ توعمران خان کے ایمان پرشک کر سکتا ہے، نہ یہ کہ وہ ناموس رسالت کے محافظ نہیں، جس انسان نے عالم کفر کو کھری کھری سنادیں اوربتادیا کہ اسلام ایک ہی ہے وہ کون سا ہے۔

جس طرح عمران خان نے پوری دنیا کے مسلمانوں کے دل میں اتر جانے والی تقریر کی شاید اس طرح کی تقریر کوئی مولوی بھی نہ کر سکے۔ اس لیے یہ کارڈ تو استعمال ہونے والا نہیں، اگرمولانا اسلام آباد میں اس حوالے سے کوئی نعرہ لگاتے ہیں تو شاید شرکاء ہی دل ہی دل میں جناب کا مذاق اڑا دیں، پوری قوم تو ویسے ہی جان چکی ہے کہ مولانا کے دل میں کیا کیا خواب تھے جو تحریک انصاف کے برسرا قتدارآنے کے بعد چکنا چور ہو گئے۔ پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ پورے ملک سے انسانوں کا سیلاب آرہا ہے، حکومت تنکوں کی طرح بہہ جائے گی۔

قوم قادری صاحب کے دھرنے سے بھی خاصی مایوس اورپریشان ہوئی تھی، سوچیں ایک مریض جو تکلیف سے قریب المرگ ہو اور دھرنے کی وجہ سے اسے بروقت دوا نہ ملے تو وہ دھرنے دینے والے کے بارے میں کیاکہے گا؟ ایک شخص جو بیروزگار ہو اور وہ انٹرویو میں احتجاج کی وجہ سے لیٹ پہنچے، تب تک کوئی دوسرا امیدوار سلیکٹ کرلیاجائے تو وہ مظاہرین کے بارے میں کیا الفاظ کہے گا؟ ذرا سوچیں کہ ایک مزدور جسے مارکیٹ بندہونے کی وجہ سے کام نہ ملے اور وہ دھرنے کی وجہ سے فاقہ کشی پر مجبورہو تو وہ مولاناکے حق میں نعرے لگائے گا یاپھر کچھ ایسا جسے یہاں لکھانہیں جاسکتا۔ جب انسان انتہائی تکلیف میں ہوتاہے تو پھر وہ وہی الفاظ بولتاہے جو علامہ خادم رضوی کے ساتھ منسوب کیے جاتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •