کراچی کے سوتیلے عوام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ماضی میں روشنیوں کا شہر کہلانے والا کراچی جہاں وفاق اور صوبائی حکومت کی مسلسل معاشی نا انصافیوں کی وجہ سے گندگی کا ڈھیر بتا جارہا ہے۔ اور کچی آبادی میں تبدیل ہوتا جارہا ہے۔ وہاں پاکستان کو 70 فیصد ریونیو دینے بوالے شہر کراچی کے شہری ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید احساس محرومیوں کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔

اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ آخر کیا وجہ ہے جو ان کے ساتھ سوتیلی ماں والا سلوک کیوں روا رکھا جارہا ہے۔ کراچی کے ساتھ سب سے پہلی نا انصافی 1959 میں ہوئی جب پاکستان کا دار الحکومت کراچی سے اسلام آباد منتقل کردیا گیا۔

وفاقی دارالحکومت کی تبدیلی کے بعد ساٹھ کی دہائی میں اردو اسپیکنگ طبقے میں ”احساس محرومی“ کی پہلی لہر نے جنم لیا۔ اِ س احساس محرومی کو ایوب خان کا مارشل لا ختم کرسکا نہ ہی سندھی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں یہ احساس مٹ سکا۔ ملازمتوں میں شہری اور دیہی کوٹہ سسٹم کے ذریعے میرٹ کا خاتمہ کیا گیا تو محرومی کا احساس مزید پروان چڑھا جو آج تک قائم ہے۔

دوسری طرف ملک بھر کو پالنے والا شہر کراچی آج بنیادی سہولیات سے محروم ہوتا جارہا ہے۔ ٹوٹی پھوٹی شاہراہیں، گرد و غبار، اور ابلتی ہوئی گٹر لائنیں دیکھ کر واقعی یہ سوال ذہن میں آتا ہے کیا کسی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت روشنیوں کے شہر کراچی کو کچی آبادی میں تبدیل کیا جارہا ہے۔

اردو اسپیکینگ طبقے کے احساس محرومی اور بے روزگاری کی بڑی وجہ سندھ میں تعلیم اور روزگار کے لئے بنایا جانے والا دیہی و شہری کوٹا سسٹم ہے۔

ظلم و نا انصافی کی ایک یہ مثال دیکھ لیں وقاقی و صوبائی بجٹ میں ملک بھر کے سرکاری ملازمین بجٹ میں بڑھائی جانے والی 15 فیصد اضافی تنخواہوں سے فائدہ اٹھاچکے ہیں۔ مگر کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن بلدیہ عظمی کراچی کے ملازمین آج 5 ماہ گزرنے کے باوجود سال 2019 بجٹ میں 15 فیصد بڑھائی جانے والی تنخواہوں سے محروم ہیں۔

یاد رہے کہ بجٹ مالیاتی سال 2019 میں سندھ حکومت کی جانب سے صوبے بھر کے سرکاری ملازمین اور پینشنرز کی تنخواہوں اور پینشنز میں 15 فیصد اضافہ کیا گیا تھا۔ مگر بدقسمتی سے 5 ماہ گزرنے کے باوجود بلدیہ عظمی کراچی کے ملازمین اس اضافی تنخواہوں اور پینشنز سے محروم ہیں۔ جس کی وجہ سے ملازمین میں بے چینی پائی جاتی ہے۔

دوسری طرف میئر کراچی وسیم اختر کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے ملنے والی گرانٹ تنخواہوں میں ہی چلی جاتی ہے۔ دوسری طرف ہر سال سالانہ بجٹ میں ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا اعلان تو کردیا جاتا ہے مگر ہم کو ملنے والی گرانٹ میں اضافہ نہیں کیا جاتا۔

بجٹ میں ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافہ کو اگر بلدیہ اپنے ذرائع سے ادا کرے تو شارٹ فال میں مزید چار کروڑ روپے کا اضافہ ہوگا جو مجموعی طور پر 12 کروڑ روپے ماہانہ ہوجائے گا اس اضافی رقم کی عدم فراہمی کے باعث بلدیہ عظمیٰ کراچی اپنے ملازمین کو یہ اضافی تنخواہ دینے سے قاصر ہے۔

میئر کراچی کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت نے چھ ڈسٹرکٹس اور تین اتھارٹیز بنا کر کے ایم سی کو تقسیم کردیا جبکہ ریونیو والے دیگر محکمے بھی اپنے پاس رکھ لئے جس کے باعث بلدیہ عظمیٰ کراچی کے وسائل نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں، وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کے ایم سی کو اپنے ملازمین کی تنخواہوں کے لئے بھی سندھ حکومت کی جانب دیکھنا پڑتا ہے، بجٹ میں بڑھائی گئی 15 فیصد اضافی تنخواہ کے لئے تقریباً 4 کروڑ روپے کی اضافی رقم درکار ہے جبکہ کے ایم سی پہلے ہی 8 کروڑ روپے کے شارٹ فال سے دو چار ہے۔

اس لئے سندھ حکومت کی جانب سے اضافی رقم کی ادائیگی کے بغیر ہم ملازمین کو بڑھائی گئی اضافی تنخواہ نہیں دے سکتے۔

آخر کیا وجہ ہے کراچی اور اس کے شہریوں کو مسلسل دیوار سے لگایا جارہا ہے۔ ان کو بنیادی حقوق سے محروم کیا جارہا ہے۔ ان ہی احساس محرومی اور ہونے والی مسلسل نا انصافیوں کے بعد جب کراچی صوبے کی بات کی جاتی ہے تو ہمارے قوم پرست بھائی اس کو سندھ کی تقسیم سے تشبیہ دیتے ہیں۔ اور مرسوں مرسوں سندھ نہ دیسوں کا نعرہ لگاتے ہیں۔

اگر آپ صوبے میں کوٹہ سسٹم کا خاتمہ کرتے ہوئے تعلیم اور روزگار کے حصول کے لئے میرٹ کا ویسا ہی نظام اور طریقہ اختیار کردیں جیسا پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں کیا جاتا ہے۔ تو کوئی وجہ نہیں کہ کوئی سندھ کی تقسیم اور صوبے کی بات کرے۔

مگر جب مسلسل ظلم و زیادتی نا انصافیاں ہوتی رہیں گی تو پھر اہل کراچی الگ صوبے کا مطالبہ بھی کرتے رہیں گے۔
زرا سوچیئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •