ہم اپنی نئی نسل کی بچیوں کو صدیوں پیچھے دھکیلنا چاہتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سنا ہے وقت ہمیشہ آگے جاتا ہے اس لیے بڑے اپنے بچوں کو ہمیشہ مستقبل کے بارے میں فکر کرنے کو کہتے ہیں کہ جو گزر گیا سو گزر گیا اب آگے کی سوچو۔ ہر پہلی نسل یہ کوشش کرتی ہے کہ وہ آنے والی نسل کے لیے کچھ بہتر چھوڑ کر جائے تاکہ اس کے لیے زندگی گزارنا قدرے آسان ہو۔

لیکن یہ بات ہر جگہ صادق نہیں آتی، جیسے میرے دیس پاکستان میں۔ پوری دنیا میں اس بات کا چرچا اور تھو تھو ہے کہ یہ ملک اپنی آدھی آبادی (عورتوں ) کے ساتھ ناروا سلوک رکھتا ہے۔ ان کو برابر کا انسان ماننے کو تیار نہیں۔ ان کے لیے برابر کے معاشی اور معاشرتی مواقع فراہم کرنے سے انکاری ہے۔ جبکہ باقی دنیا اپنی ماضی کی غلطیوں پر شرمندہ ہے اور انہیں سدھارنے کے لیے دن رات کوئی نہ کوئی نئی ترکیب سوچتی ہے تاکہ ماضی کی اس نا برابری اور ناہمواری کے گیپ کو پر کر سکے جس سے معاشرے کا توازن بحال ہو گا۔

دوسری طرف ہم ہیں جو وقت کے پیروں میں بیڑیاں ڈال کر اسے پیچھے کھینچنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وقت کے ساتھ چلنا سراسرکم عقلی اور دوسروں کی نقل کرنا ہے۔ اس سے ہماری معاشرت خطرے میں پڑ جائے گی۔ ہم اپنی عورتوں کو وہ آزادیاں ہرگز نہیں دیں گے جس کی دنیا بات کر رہی ہے۔ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہم اپنی عورتوں کو گھر کی چار دیواری کے اندر قید رکھتے ہیں اور اگر ان کو باہر نکلنا بھی ہو تو اس حالت میں نکلتی ہیں کہ ان پر انسان ہونے کا گمان نہیں ہوتا۔ اوراس طرح وہ ہماری درندگی سے بھی محفوظ رہ پاتی ہیں۔

پتہ نیں وہ کون سی اور کیسی دنیا ہے جہاں بچیوں اور عورتوں کی امپاورمنٹ کی باتیں ہوتی ہیں۔ ان کو یہ حق دیا جاتا ہے کہ وہ زندگی میں جو کرنا چاہیں کر سکتی ہیں۔ یہ ان کی چوائس ہے کہ وہ جو پڑھنا چاہیں پڑھیں، پریکٹیکل لائف میں جس فیلڈ میں جانا چاہیں جائیں۔ اپنے لیے جیسے جیون ساتھی کا انتخاب کرنا چاہتی ہیں کریں۔ اور جو پہننا چاہتی ہیں پہنیں۔ آخر کو یہ ان کی اپنی زندگی ہے جس کے سارے فیصلے بھی انہی کو کرنے چاہیں۔

مردان میں چینہ کے ایک مڈل سکول میں تقسیم ہونے والے شٹل کاک برقعے اس بات کا ثبوت ہیں کہ بچیوں اور عورتوں کے ساتھ ہونے والی بدسلوکیوں اورزیادتیوں کا ہمارے پاس ایک ہی حل ہے اور وہ یہ کہ عورتوں سے ان کی شناخت چھین لی جائے ان کو ان کے وجود سے ہی انکاری کر دیا جائے تاکہ وہ اپنے بارے میں سوچنا اور سوال کرنا ہی چھوڑ دیں۔ جب وہ معاشرے میں نو باڈی کے طور پر چلیں گی تو وہ یہ سوچنا ہی بھول جائیں گی کہ میری بھی کوئی حیثیت، مرضی اور منشا ہے۔ کچھ حقوق ہیں جو پیدائشی طور پر میرے ہیں۔ وہ صرف اس حساس کے ساتھ باہر نکلے گی کہ میری وجہ سے لوگوں کے جذبات مچلتے ہیں اس لیے جس حد تک ہو سکے میں خود کو چھپا لوں، لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو جاؤں اگر میں نظر آتی رہی تو میرا وجود معاشرے کے لیے خطرہ بنا رہے گا۔

ہمارے بڑوں نے دن رات کی محنت سے یہ ثابت کر دیا کہ وہ وقت کو پیچھے دکھیلنے جیسا معجزہ بھی کرسکتے ہیں۔ اپنی بیٹیوں کو پر اعتماد، طاقت ور اور با اختیار بنانے کی بجائے ان کے گلے میں صدیوں پرانا طوق ڈال دیا جو ان کو آگے بڑھنے سے بچائے رکھے گا اور ہماری معاشرت کو لاحق خطرات ٹلے رہیں گے۔

جب کوئی اپنی مرضی سے برقعہ پہننا چاہے تو اس پر اعتراض نہیں لیکن جب سرکار زبردستی ڈریس کوڈز تھوپنے کی کوشش کرے تو یہ قابل مذمت ہے۔ آپ عوام پر اپنی مرضی مسلط کر کے دنیا کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ہم بنیادی انسانی حقوق کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔ ہم آج بھی اس فرسودہ نظام اور روایات پر فخر کرتے ہیں جن کو دنیا کب کی پیچھے چھوڑ چکی ہے۔ ہم آج بھی اپنی عورتوں کے دماغ اور جسم وجان کے مالک ہیں اور دنیا کی روشن خیالی اور ترقی پسندانہ سوچ کی نفی کرتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
قیصرہ اکرام کی دیگر تحریریں
قیصرہ اکرام کی دیگر تحریریں