کشمیر پر ہماری شاندار پالیسیاں


کشمیر پر ظلم و ستم پر رقم ہوتی داستان کو 63 روز گزر چکے ہیں۔ کشمیریوں کی زندگی اجیرن بنا دی گئی ہے۔ وہاں پر ہر وقت خوف اور ڈر کے بادل منڈلائے رہتے ہیں۔ پیلٹ گن کے شلیز کی بارش برستی ہے۔ بھوک کی کرب میں مبتلا بچوں کی چیخ و پکار سے فضاء گونجتی ہے۔ لوگوں کے خون سے ہولی کھیلی جا رہی ہے۔ ماؤں اور بہنوں کی عصمتوں کو تارتار کیا جارہا ہے۔ نوجوانوں کے حوصلے کو پاش پاش کرنے کے لئے ان کو پابند سلاسل کیا جا رہا ہے۔ مختصراً یہ کہ ہر نئی بربریت کا آغاز کشمیر میں ہو رہا ہے۔ وہاں پر ہر سو سوگوار کہ سی کیفیت ہے۔

ہم ”کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں“ جیسے کھوکھلے دعوے پر عمل کرتے ہوئے 5 اگست سے آج تک ہماری پالیسیوں کو آپ کے سامنے پیش کرنا چاہوں گا۔

5اگست کو مودی حکومت نے بلا خوف و خطر اقوام متحدہ کے احکامات کو جوتے کی نوک پر رکھ کر اپنے آئین سے آرٹیکل 370 اور A 35 کو ختم کر دیا۔ جس سے کشمیر کا ایک ریاست کے طور پر تشخص پامال ہو گیا۔ کشمیریوں کے احتجاج کے خوف سے انڈین حکومت نے وہاں پر کرفیو لگا کر ان کے زخموں پر نمک چھڑکا۔ بات اسلامی جمہوریہ پاکستان تک پہنچی جن سے کشمیری عوام کی امیدیں وابستہ ہیں۔ ہماری حکومت کی پہلی پالیسی کہ 15 اگست کو بلیک ڈے کے طور پر منانے کا احمقانہ فیصلہ ہوا۔ جس سے کشمیر آزاد ہوتے ہوتے رہ گیا۔ یہ آغاز تھا سوچا کہ آگے مثبت پالیسیاں دیکھنے کو ملیں گی۔

اس کے بعد 26 اگست کو عزت مآب عمران خان صاحب نے قوم سے خطاب فرمایا جس میں ہر جمعہ کو آدھا گھنٹہ سڑکوں پر نکلنے کا جرات اور غیرت مندانہ فیصلہ فرمایا جوکہ آج تک برقرار ہے۔ امریکہ، روس، انڈیا، برطانیہ پرائم منسٹر صاحب سے آدھے گھنٹے کے ٹائم کو کم کرنے کے لئے منت سماجت کر رہے ہیں تاکہ ایسے کشمیر جلد آزاد نہ ہو جائے۔ بات یہاں رکی نہیں ہے۔ محترم عمران خان صاحب کا قومی اسمبلی میں دھواں دار خطاب اور ”کیا میں ان پر حملہ کر دوں؟ “ والے الفاظ بھی آن دی ریکارڈ موجود ہیں۔ ہمارے کپتان کشمیریوں کے حق سے کب پیچھے ہٹنے والے تھے اس لیے روز کی بنیاد پر دو ٹویٹیس سے ٹویٹر سنبھالے رکھا۔ اگر کشمیر کا فیصلہ ٹویٹیس کی بنیاد پر ہونا ہوتا تو ہماری فتح یقینی تھی۔ لیکن بدقسمتی سے جنگ ٹویٹر پر نہیں تھی۔

کشمیریوں کے حوالے سے ہماری ایک اور پالیسی کہ ہم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریری مقابلے میں حصہ لیا اور ایک زبردست تقریر پیش کی۔ لیکن وہاں موجود ججز (جنرل اسمبلی کے ارکان) سے ووٹ لینے میں ناکام رہے۔ کئی ممالک سے رابطے کے نتیجے میں ”کشمیر سے کرفیو ہٹاو“ کے سطحی مطالبے کا لولی پوپ ہمیں تھما دیا گیا۔ ہمارے وزیراعظم صاحب کا انڈیا سے جھک جھک کے رابطے اور مذاکرات کی پیش کش پر جب بات نہ بنی تو، ہم انڈیا سے بات چیت نہیں کریں گے ( انگور کھٹے ہیں ) ، کا دبنگ اعلان بھی ہماری سماعتوں سے ٹکرایا۔

ایک سوال جو مسلسل میرے ذہن میں کھٹک رہا ہے وہ یہ کہ ہمارے وزیر دفاع صاحب چاند پر گئے ہیں یا مریخ پر ریسرچ کر رہے ہیں کیونکہ وہ تاحال لاپتہ ہیں۔ کسی بھی غیر ملکی شخص کے سرسری بیان کو ہماری فتح قرار دینے کے لئے ہمارے وزیر خارجہ صاحب پیش پیش ہیں۔ ہمارا ترانہ ”جا جا نکل جا“ شاید مودی نے نہیں سنا کیونکہ ہمیں پورا یقین اُسی ترانے پر ہے۔

جناب پرائم منسٹر صاحب ہماری آپ سے درخواست ہے کہ تقریروں اور بلند و بانگ دعوؤں سے آگے بڑھیں اور کوئی جامع پالیسی مرتب کریں۔ ٹویٹر کے میدان کو چھوڑیں اور حقیقی معنوں میں کوئی پالیسی بنائیں جس سے کشمیریوں سے ظلم کے بادل چھٹتے نظر آئیں۔

Facebook Comments HS