ترقی یافتہ اقوام اور پاکستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حالات کی ستم ظریفی ہی کہوں گا پاکستان کی سیاسی قیادت ابھی تک یہ طے نہیں کر سکیں کہ آنیوالی نسل کے لئے رول ماڈل کب بننا ہے سیاسی عدم برداشت کہہ لیں یا پھر اسے اقتدار کی رسہ کشی اور مفادات کی جنگ سمجھ لیں چاروں موسموں سے مزین ’بہترین آب پاشی نظام‘ وسائل سے مالامال اس طن عزیز کے ملکی سیاستدان ملک و ملت کے وسائل اور خزانے کے امین نہیں رہے جس کے باعث آج بھی سات دہائیوں کا سفر طے کرنے کے باوجود خوشحال ملک بننے کی بجائے ہم اغیار کے دیے قرض کی بیساکھیاں تھامے لاغر قدموں کے ساتھ چلتے ہوئے ایک بد حال قوم کی طرح شب و روز بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

اپنے مفادات حصول کے لئے انسانی مسائل کی آڑ میں اپوزیشن جماعتیں بے رحم سیاست کو فروغ دے رہی ہیں جس کے باعث ملک میں سیاسی عدم استحکام اور عدم برداشت کی فضاء قائم ہے کسی بھی ملک کی مضبوط معیشت کا دارو مدار اس کے سیاسی استحکام سے جڑا ہوتا ہے۔ دنیا میں ترقی یافتہ ممالک کی صفوں کو چھان پھٹک کر دیکھ لیں جتنے بھی ترقی یافتہ ممالک ہیں وہ آج اپنی خودمختاری کی گرہ سے بندھے ہوئے ہیں۔ جن کی معیشت انتہائی مضبوط اور ترقی پذیر اقوام کے مقابلے میں ان کا بنیادی ڈھانچہ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ہے۔

اس کی وجہ کیا ہے ’اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لئے ترقی یافتہ ممالک اور اقوام کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگاکہ ہمیشہ قوموں کے عروج کا سفر تعلیم اور صحت کی سہولیات کے حصول کے بعد شروع ہوتا ہے۔ ادیب‘ دانشور اور قلمکار کا معاشرے میں ذہنی بیداری کے لئے بڑا کلیدی کردار ہوتا ہے لیکن اس فریضہ کو سرانجام دینے کے لئے حکمرانوں کے کندھوں پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ یہ سولہویں صدی عیسوی کا باب تھا جب انگریز نے بیدار آنکھوں کے ساتھ گردوپیش کا جائزہ لے کر وقت کے تقاضوں کے ہمراہ قدم بڑھا کر ترقی کے زینے سر کرنا شروع کیے تھے۔

پھر دنیا نے دیکھا کہ علمی جستجو کی بیداری نے معاشرت ’تمدن‘ تہذیب ’معیشت اور سیاست کے میدان میں ہلچل پیدا کردی۔ انسانی ہاتھوں کی جگہ مشینی آلات نے لے لی اور دنیا انسانی پوروں میں سمٹ کر گلوبل ویلج میں ڈھل گئی۔ اس تبدیلی کے ہی بل بوتے پر یورپ نے دوسری اقوام کو مات دے کر سبقت حاصل کر لی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت براعظم ایشیاء اور افریقہ کے ممالک کو اپنا غلام بنا لیا۔ اب اگر ترقی و خوشحالی کے زینے طے کرتی دنیا کے مقابلے میں پاکستان کے موجودہ حالات کے در پر دستک دیں تویہ سوالات ضرور سر ابھارتے ہیں کہ کمر شکن مہنگائی‘ توانائی بحران ’انصاف کی عدم دستیابی‘ کرپشن و بد عنوانی ’غربت و بیروزگاری‘ جرائم کی شرح میں اضافہ ’اقرباء پروری جسے مسائل کے بے لگام گھوڑے کے سموں سے اڑٹی ہوئی دھول سے پاکستان کا جھومر دھندلا کیوں ہے‘ معاشرہ میں ابہام اور بے یقینی کی صورتحال کی کیفیت سے ایسا کیوں محسوس ہوتا ہے کہ تبدیلی کی خواہش کسی دیوانے کے خواب کے مترادف ہے ’بہتر برس کی مسافت طے کر کے بھی ابھی تک ہم ایک قوم میں ڈھل کر ترقی یافتہ ممالک کے ہمرکاب کیوں نہیں ہو پائے۔

یہ وہ سوال ہیں جن کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت ہے کسی بھی ملک کے حکمران ملک و ملت کے نگہبان ہوتے ہیں اور ملکی ترقی و خوشحالی کی منزلت کے ضامن سمجھے جاتے ہیں۔ کوئی بھی قوم اس وقت تک پھل پھول کر اپنے آپ کو دنیا کے معاشروں کے سامنے بہترین دلیل کے طور پر پیش نہیں کر سکتی جب تک وہ اغیار کے سہاروں کی منتظر رہتی ہوتاریخ شاہد ہے کہ جہاں خود انحصاری نے معاشرہ میں بسنے والے افراد اور قوم کو سربلند کیا وہیں افلاس زدہ سوچ کے خاتمے کا بھی سبب بنی۔

ترقی یافتہ ممالک کی نظر میں پاکستان پسماندگی سے دوچار ملک ہے دنیا معاشی دگرگوں حالات کے پیش نظر اسے ایک سوالی کی نظر سے دیکھتی ہے۔ قوموں کے عروج و زوال ان کے کردار و عمل کے غماز ہوتے ہیں شاعر مشرق علامہ ڈاکٹر محمد اقبال نے اپنے زمانہ طالبعلمی میں بغور مشاہدہ کیا تھا کہ جب کوئی قوم اپنے گلے میں غلامی کا طوق پہن لیتی ہے تو پھر وہ قوت مزاحمت کی بجائے تن آسانی ’قناعت اور تقدیر پرستی کی عادی ہو جاتی ہے۔

بد قسمتی سے قائد اعظم کے بعد اس ملک و ملت کو قیادت کے فقدان کا مسئلہ ہی درپیش رہا ایماندار اور محب وطن قیادت میسر نہ آنے کے باعث نا اہل اور کرپشن و اقتدار کی ہوس سے لتھڑے غیر جمہوری حکمرانوں نے ملکی خزانے اور وسائل پر اتنی بیدردی کے ساتھ نقب لگایا کہ عوام کی سانسیں تک اغیار کے پاس گروی رکھ دیں۔ وسائل کی دولت سے مالا مال اس ملک کے حکمرانوں نے اپنی غلط اور ناکام پالیسیوں کی وجہ سے ملک و ملت کو ابتری سے دوچار کر دیا ان حالات سے اخذ کرنا دشوار نہیں کہ ملکی حکمران جدید عالمی نظام اور ملک و ملت کی بنیادی ضروریات سے کس حد تک نابلد تھے۔

دوسری جنگ عظیم میں جب جرمنی تباہی کے دہانے پر کھڑا تھا تب جرمن امریکی امداد پر چلنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک تھا اور دنیا کے چودہ ممالک بشمول پاکستان نے جرمن کو مالی امداد دی تھی۔ ایوب خان کے دور حکومت میں پاکستان نے جرمنی کو بیس سال کے لئے بارہ کروڑ روپے مالی امداد بطور قرض دی۔ تریپن سال گزرنے کے بعد جرمن آج دنیا کی چوتھی بڑی معیشت ہے اور پاکستان اس رینکنگ میں اکتالیسویں نمبر پر ہے۔ قیام پاکستان کے بعد ملک کے سیاستدان اہل نہ سہی لیکن کرپٹ نہیں تھے بیوروکریسی رشوت و سفارش کی کسوٹی سے پاک تھی کلرک بادشاہ نہیں تھا۔

ملک کے معاشی استحکام نے کبھی اغیار کے سامنے ہاتھ میں کاسہ نہیں تھمایاتھا۔ لیکن اس کے بر عکس آج پاکستان اکیسویں صدی کے در پر کھڑا بھی مسائل کے نوحے ’قومی خزانے اور وسائل کی لوٹ کھسوٹ کے مناظر پر ماتم کرتا نظر آرہا ہے۔ عوام کی تقدیر بدلنے کے دعویداروں کے در پر یہ سوال بڑی شدت کے ساتھ دستک دے رہا ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں اس بات کی ضرورت کیوں محسوس نہیں کی گئی کہ عام آدمی کے مسائل کے حل کے لئے قانون سازی کی جائے۔

مہربان حکمرانوں کی ترجیحات میں یہ کبھی شامل ہی نہیں رہا کہ ایسا خاطر خواہ نظام ہی نافذ کر دیں جس سے غریب آدمی کو ریلیف مل سکے۔ دیکھنا ہو گا کہ کیا اس ملک کے حکمران اکہتر سال گزرنے کے باوجود عام آدمی کو بنیادی ضروریات زندگی سے آراستہ کرنے میں کامیاب رہے کیاجانی تحفظ اور سو شل سکیورٹی فراہم کی گئی ’کیا روزگار کے مواقع فراہم کیے گئے‘ کیاریاستی اداروں میں عوام کے عمل دخل کو یقینی بنایا گیا ’معاشرہ میں عدل و انصاف کا پیمانہ قائم کیا گیا‘ کیاروٹی ’کپڑا‘ مکان ’تعلیم اور صحت کی سہولیات سے عوام کو آراستہ کیا گیا اگر ان سوالات کا جواب نفی میں ملے تو مجھے کم از کم یہ سمجھنے میں کہیں دشواری نہیں کہ موروثی خاندانوں کے غیر جمہوری چوہدری‘ جاگیردار ’سرمایہ دار‘ نواب ’وڈیرے‘ لغاری ’مزاری‘ خواجے ’چٹھے‘ زرداری ’شریفی ہی پاکستان کے جمہوری نظام میں کیوں فٹ آتے رہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان بے رحم سیاستدانوں نے عوام کو ریلیف دینے کی بجائے آپسی لڑائی اور ایکدوسرے کے خلاف نفرت کے ہتھیار سے عوام کو تقسیم کر دیارہی سہی کسر سوشل اور الیکٹرانک میڈیا نے پوری کر دی۔

ان حالات میں ہم ذہنی طور پر اتنے اپاہج ہو چکے ہیں کہ علمی و سیاسی شعور نہ رکھنے کی بنا پر اپنے آپ پر انہی آزمودہ سوداگر سیاستدانوں کو مسلط کرنے میں ہچکچاہٹ تک محسوس نہیں کرتے اس سے بڑھ کر اور تعلیمی پسماندگی کی مثال کیا ہو گی۔ اگر ہم نے تعلیمی ایمر جنسی کے ذریعے نسل نو کے ذہنوں کو موجودہ صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے علمی لو سے بیدار نہ کیا تو یقین جانیے پھر بہت دیر ہو جائے گیا اور شاید آنیوالی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہ کر پائیں۔

ترقی یافتہ ممالک اور اقوام کی صفوں میں جگہ اسی صورت بن سکتی ہے جب ہم اپنی نسل نو کی تعلیم و تربیت جدید خطوط پر استوار کریں گے۔ مہذب قومیں اور معاشرے تعلیم کو ہی عووج کی سیڑھی سے تشبیہ دیتے ہیں اگر ہم آنیوالی نسل کو تعلیمی میراث سے بہرہ مند کرنے میں کامیاب ہو گئے تو یقین جانئیے آپ کو نہ مسائل کے نوحے پڑھنے کی ضرورت پیش آئے گی اور نہ ہی محب وطن قیادت کے فقدان پر ماتم کرنا پڑے گا۔ خدانخواستہ اگر اس مملکت خداداد میں نسل نوکو اس زیور سے آراستہ کرنے میں ناکام ہو گئے تو پھر روایتی اور غیر جمہوری بلوائی سیاستدان جمہوریت کے منہ پر طمانچے رسید کرتے رہیں گے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •