عمران خان کے دھرنا ناچ سے فضل الرحمن کے “قال اللہ و قال رسول” تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ بھی کیا دن تھے، جب پنڈی اور اسلام آباد کے شہری سورج غروب ہوتے ہی ”دھرنہ گاہ“ کی طرف چل پڑتے تھے۔ دھرنا نہ ہوا…… عمران خان کا سجایا ہوا میلہ ہو گیا۔ اس میلے میں ”میل بھی ہوتے تھے اور وچھوڑے“ بھی۔ بعض کو مقررہ جگہ کی نشانی بھول جاتی تو بعض کو فون نمبر…… عمران خان کے دھرنے، یعنی میلے میں نوجوان بھنگڑے ڈالتے تھے تو معزز خواتین چوڑیاں چھنکایا کرتی تھیں۔ ان دنوں عمران خان کے ذہن میں ابھی ”ریاست مدینہ“ کا نقشہ موجود نہیں تھا…… وہ زیادہ تر یورپ کی مثالیں دیا کرتے تھے: قصے وہ دلچسپ سناتے تھے۔ کرکٹ کے حوالے سے لفظ ”میں“ سے شروع ہو کر ”میں“ پر ہی اٹک جاتے تھے، ان کے بیان سے لگتا تھا۔ ورلڈ کپ کے باقی کھلاڑی بالکل ایسے ہی تھے، جیسے اس وقت ان کے اردگرد کے لوگ ہیں، یعنی کام کے نہ کاج کے دشمن اناج کے …… یہ ایک دلچسپ ”دھرنا“ تھا۔

بالکل موت کے کنویں کی طرح جہاں رات کو رش بڑھ جاتا، مگر دن کو سنسانی گھیرے رکھتی مگر عمران خان اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہتے تھے، وہ خالی پنڈال سے مخاطب ہونے سے بھی گریز نہیں کرتے تھے…… انہوں نے دھرنے کے دوران دن کے وقت زیادہ تر خالی میدان سے خطاب کیا…… عمران خان جس رات دیکھتے کہ شرکاء کی تعداد مایوس کن ہے، وہ سٹیج پر دوران تقریر کسی نہ کسی شوبز کے فن کار کو مدد کے لئے بلاتے تھے۔ وہ اعلان کرتے تھے، اوئے عطا اللہ تم نے کل یہاں پہنچنا ہے۔ اور پھر دوسرے دن عطا اللہ بغل میں جب ”آئے گا عمران“ کی سی ڈی دبائے حاضر ہو جایا کرتے تھے۔

ان ہی دنوں عمران خان نے کرکٹر شاہد آفریدی کو بھی طلب کرتے ہوئے کہا، اوئے آفریدی کل دھرنے میں پہنچ, اگر نہ آیا تو خیبرپختونخوا کے لوگ تجھے وہاں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ اتفاق کی بات ہے۔ شاہد آفریدی کو عمران خان کے بیان کو سمجھنے میں غلطی ہو گئی، وہ دوسرے دن نوازشریف کے پاس رائے ونڈ پہنچ گئے. گویا اس نے عمران خان کو بتا دیا کہ وہ بھی آفریدی پٹھان ہے۔

عمران خان کے پڑوس میں طاہر القادری کا دھرنا تھا…… دونوں کے سیاسی نظریات اور مطالبات مختلف تھے۔ مگر دونوں نے ایک دوسرے کو خوب سہارا دیا…… ایک دوسرے کے کارکنوں کو ”سیاسی کزن“ بنایا…… اور گھل مل کر رہنے کا حکم دیا…… طاہر القادری کے دھرنے میں شامل کارکن وظائف پڑھنے کے ساتھ ساتھ قبریں بھی کھودتے نظر آتے تھے، بعض معزز خواتین اپنے ہاتھوں سے اپنے بھائیوں اور بزرگوں کے کفن بھی تیار کرتی نظر آتی تھیں۔

طاہر القادری نے عمران خان کے دھرنے میں تھرکتے جسموں اور پر شور گیتوں کے مقابلے میں قوالیوں کا اہتمام کیا۔ یوں دوسری طرف کے شرکاء کو ڈانس کے مقابلے میں ”دھمال“ ڈالنے کا موقع مل گیا۔ طاہر القادری اپنے خطاب میں شداد، نمرود، فرعون اور شیطان جیسے الفاظ استعمال کرتے ہوئے حکمرانوں پر تنقید کرتے تھے، ادھر عمران خان بھی بے غیرت جیسے الفاظ تو مسکراتے ہوئے ادا کر جاتے تھے۔ دھرنے کے مقام سے چند قدم دور پارلیمینٹ ہاؤس تھا…… جہاں قومی اسمبلی کے اراکین روزانہ اپیل کرتے تھے کہ دھرنے والے اسمبلی میں آئیں تاکہ ان کے مطالبات پر غور کیا جائے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن بھی دھرنے والوں کو پارلیمینٹ میں آنے کا مشورہ دیتے تھے۔ مگر دھرنے والے کسی ”امپائر“ کی انگلی کے منتظر تھے۔ عمران خان روزانہ امید دلاتے تھے کہ”امپائر“ کی انگلی اٹھنے والی ہے۔

مگر ”امپائر“ کی انگلی نہ اٹھ سکی، حتیٰ کہ دھرنا اٹھانا پڑ گیا…… اور دھرنے کے بعد عوام اور انگلی والے سمجھ گئے کہ محض انگلی کے اشارے سے نوازشریف کو آؤٹ کرنا مشکل ہے۔ البتہ دھرنے کے دوران وزیر اعظم ہاؤس سے اگر کوئی جہاز پرواز کرتا تو عمران خان مسکراتے ہوئے کہتے، ان کے جانے کا وقت آ گیا ہے۔ ادھر طاہر القادری بھی ٹیلی ویژن پر کسی بھی عدالتی فیصلے کے بعد اعلان کر دیا کرتے تھے مبارک ہو، مگر بدقسمتی سے مبارک سلامت کے شور کے باوجود دونوں رہنماؤں کو دھرنا شکست تسلیم کرنا پڑی…… یہ درست ہے کہ دونوں کا دھرنا تاریخی تھا، مگر یہ بھی درست ہے کہ اس تاریخی دھرنے کا نتیجہ بھی ”تاریخی“ تھا، یعنی نوازشریف نے ثابت کیا کہ ”پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا“

حیرانی کی بات ہے کہ آصف علی زرداری ا ور نوازشریف نے طاہر القادری اور عمران خان کے دھرنے کو اپنی ”چھاتی“ پر برداشت کیا۔ دھرنے کے شرکاء نے پارلیمینٹ ہاؤس، پی ٹی وی، وزیر اعظم ہاؤس اور دیگر سرکاری اداروں پر یلغار کی، مگر انہوں نے سب کچھ برداشت کیا، لیکن عمران خان کو اپنے سیاسی عزائم میں کامیاب نہ ہونے دیا…… اب مولانا فضل الرحمن اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کر چکے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) اور پی پی ان کے ساتھ ہیں بھی اور نہیں بھی……

نوازشریف چاہتے ہیں کہ موجودہ حکومت کو مزید ایک سال کے لئے وقت دیا جائے ایک سال بعد حکومت کو گرانے کے لئے عوام خود سڑکوں پر ہوں گے. میرے خیال میں نوازشریف کی سوچ درست ہے۔ حکومت نے جو حال کر رکھا ہے، تھوڑا انتظار کیا جائے تو لوگ خود ہی سڑکوں پر ہوں گے اور اس انداز میں ہوں گے کہ اپنی قیادت خود کر رہے ہوں گے اور جب یہ صورت حال ہو گی تو عمران خان کو لانے والے بچانے کے لئے آگے نہیں بڑھیں گے، کیونکہ نوازشریف، آصف علی زرداری کو شکنجے میں لانا بہت آسان، مگر بپھرے ہوئے لوگوں کو روکنا بہت مشکل کام ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس وقت ملک کا عام آدمی باہر نکلنے کے ابتدائی موڈ میں ہے، اگر حکومت نے عام آدمی کے مسائل کے حل کی طرف توجہ نہ دی تو پھر عوامی ابھار سامنے نظر آ رہا ہے، عمران خان پر ایک اور ذمہ داری بھی ہے اور وہ ذمہ داری ہے، اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی۔ عمران خان کے سر پر وعدوں کے پہاڑ کھڑے ہیں، جن کے بوجھ تلے ان کی شخصیت دب چکی ہے۔ لوگ اب انہیں ایک صاحب کردار شخص کے طور پر تسلیم نہیں کرتے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ عمران خان صرف گفتگو کی حد تک سیاسی طور پر صاحب کردار تھے، حقیقی معنوں میں وہ گزشتہ حکمرانوں سے مختلف نہیں ہیں۔ وہ لوگ بھی زبانی دعووں کے ساتھ مسلط رہے، یہ بھی زبانی کلامی طور پر مسلط رہنا چاہتا ہے، عملی طور پر ایک ناکام حکمران کے سوا کچھ نہیں، مگر ……؟ قدرت نے عمران خان کو سرخروی کا ایک موقع عطا کر دیا ہے یعنی مولانا فضل الرحمن اسلام آباد دھرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔

اب عمران خان کو چاہئے کہ وہ ایک صاحب کردار شخص کے طور پر مولانا کو اسلام آباد میں ”کنٹینر“ مہیا کریں۔ اب اخلاق کا تقاضا ہے کہ عمران خان اپنا ”وعدہ“ پورا کریں، وہ ریاست مدینہ کے قیام کے داعی ہیں، وہ اسلام کے اصولوں کی بات کرتے ہیں۔ وہ بات بات پر کردار بلند کرنے کا کہتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ مولانا فضل الرحمن کو ”کنٹینر“ پیش کر کے اپنے اعلیٰ کردار ہونے کا ثبوت دیں اور اس پر اعتراض نہ کریں کہ مولانا فضل الرحمن دھرنے میں مدارس کے طلبہ کو لا رہے ہیں۔ عمران خان کو یہ اعتراض کرنے سے پہلے یہ بھی سوچنا چاہئے کہ لیڈر کے ساتھ وابستہ لوگ ہیں جو اس کے حلقہ اثر میں ہوتے ہیں، اس کے مزاج کے ساتھ ہوتے ہیں، مولانا ایک مذہبی رہنما ہیں، مذہی لوگوں کے ساتھ ان کا تعلق ہے، مذہب سے محبت کرنے والے ہر طرح کے لوگ ان کا احترام کرتے ہیں اور ان کے ساتھ چلتے آ رہے ہیں۔

اب اسلام آباد میں بھی یقینی طور پر دینی مدارس کے لوگ، طالب علم، اساتذہ اور دیگر لوگ بھی آئیں گے۔ اگر مولانا کے پاس عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی، ابرار الحق، شہزاد رائے اور اس طرح کے دیگر لوگ نہیں ہیں اور دھرنے میں ناچ گانے والے بھی نہیں ہیں تو وہ ایسے لوگوں کو کہاں سے لائیں۔کیا تحریک انصاف سے ایسے لوگ عاریتاً دھرنے کے لئے حاصل کریں۔ سو یقینی طور پر ان کے دھرنے میں دین سے محبت کرنے والے، پابند صوم وصلواۃ لوگ آئیں گے اور ظاہر ہے وہاں کا ماحول مذہبی ہوگا…… کلمہ طیبہ کا ورد ہوگا، نماز با جماعت کا اہتمام ہوگا…… مسجد کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔ نماز کے بعد درس قرآن ہوگا تو پھر بعد ظہر درس حدیث بھی ہوگا، طرح طرح کے علماء خطاب کریں گے تو ظاہر ہے قرآن و سنت کے حوالے سے ہی بات کریں گے،یہ سب ریاست مدینہ کا سماں باندھیں گے۔ معاف کیجئے گا اب یہ لوگ ناچنے گانے سے تو رہے۔ ناچ گانے والے تو تحریک انصاف کو پیارے ہو چکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •