میں ایسا کیوں ہوں!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں ایسا کیوں ہوں!

جب ﻋﻮﺭﺕ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺮﺩ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﻰ ﺧﺮﺍﺏ ﻋﺎﺩﺕ ﯾﺎ ﮐﻮﺋﻰ ﺍﺧﻼﻗﯽ ﺭﺧﻨﮧ ﺩﻭﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﺭﻫﺘﯽ ﻫﮯ ﺗﻮ ﮐﮩﺘﯽ ﻫﮯ

” ﻣﺮﺩ ﺍﯾﺴﮯ ﻫﯽ ﻫﻮﺗﮯ ﻫﯿﮟ۔ “

ﻣﺎﮞ ﮐﺎ ﺟﺐ ﺑﭽﮯ ﮐﯽ ﺷﺮﺍﺭﺕ ﯾﺎ ﺑﺪﺗﻤﯿﺰﯼ ﭘﮧ ﺑﺲ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻠﺘﺎ ﺗﻮ ﻣﺎﮞ ﮐﮩﺘﯽ ﻫﮯ

” ﺑﭽﮯ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﺮﺗﮯ ﻫﯿﮟ۔ “

ﻣﺮﺩ ﺟﺐ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺑﺪﺯﺑﺎﻧﯽ، ﺑﺪﺍﺧﻼﻗﯽ ﯾﺎ ﺑﺮﯼ ﻋﺎﺩﺍﺕ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﻫﺎﺭ ﺟﺎﺗﺎ ﻫﮯ ﺗﻮ ﮐﮩﺘﺎ ﻫﮯ

” ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﺍﯾﺴﯽ ﻫﯽ ﻫﻮﺗﯽ ﻫﯿﮟ۔ “

بزرگ جب کسی وجہ سے چڑچڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہیں یا ہذیان بکنے تک نوبت چلی جاتی ہے تو وجوہات کا جائزہ لینے کے بجائے بڑی آسانی سے کہہ دیا جاتا ہے

”بزرگ اسی طرح کرتے ہیں“

ان سب سے بڑھ کر یہ کہ خود اپنی خرابیوں اور کمیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے یا اپنے بڑے رویوں کے باوجود خود کو حق بجانب سمجھتے ہوئے اس بات پر بضد رہنا کہ میں ایسا ہی ہوں اور مجھے اسی حالت میں قبول کیا جائے اور میرا احترام کیا جائے کہ یہی ایک انسان کی بہترین حالت ہے۔

یہ تو چند مثالیں ہیں جبکہ ہمارا عمومی رویہ لیڈر، شاعر، ادیب، سے لے کر عالم، واعظ اور سب سے بڑھ کر خود اپنی ذات کے حوالے سے بھی یہی ہے۔

اور ﻳﮧ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﺮ ﮐﮯ ﭘﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ ہم ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺑﺮﯼ ﺍﻟﺬﻣﮧ ﺑﺎﻭﺭ ﮐﺮﻭﺍ ﺭﻫﮯ ﻫﻮﺗﮯ ﻫﯿﮟ ﯾﺎ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﺮﻣﻨﺪﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﮐﺎﻣﯽ ﭼﮭﭙﺎ ﺭﻫﮯ ﻫﻮﺗﮯ ﻫﯿﮟ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﻮ ﺍﺱ ﺑﮕﺎﮌ ﮐﺎ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ناکام ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮ ﺭﻫﮯ ﻫﻮﺗﮯ ﻫﯿﮟ۔

ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻫﻮ، ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺗﻮ ﻃﮯ ﻫﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺑﻮﺩﮮ ﺑﮩﺎﻧﮯ ﺳﮯ ہمیں دلی ﺍﻃﻤﯿﻨﺎﻥ کسی صورت ﺣﺎﺻﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﻫﻮ ﺳﮑﺘﺎ۔

ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﮔﺮ ﻣﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﺳﺐ ﺍﯾﺴﮯ ﻫﯽ ﻫﻮﺗﮯ ﻫﯿﮟ، ﺗﻮ ﺍﮔﻼ ﺳﻮﺍﻝ ﯾﮧ ﺍﭨﮭﺘﺎ ﻫﮯ ﮐﮧ

ﮐﯿﺎ ﺍﯾﺴﮯ ﻫﯽ ﻫﻮﻧﮯ ﭼﺎﻫﺌﯿﮟ؟

ﮐﯿﺎ ﺍﯾﺴﮯ ﻫﻮﻧﺎ ﭨﮭﯿﮏ ﻫﮯ؟

ﺍﮔﺮ ﻧﮩﯿﮟ، ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍﯾﺴﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﻫﯿﮟ؟

ﯾﮧ ﺳﺎﺭﮮ ﺳﻮﺍﻝ ﻫﻤﯿﮟ ﺩﮬﮑﯿﻞ ﮐﺮ ﭘﮭﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﺮﮮ ﭘﺮ ﻻ ﮐﮭﮍﺍ ﮐﺮﺗﮯ ﻫﯿﮟ۔

ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﻃﻤﯿﻨﺎﻥ ﻏﻠﻄﯽ ﻣﺎﻥ ﻟﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ہی ہے لیکن غلطی ماننے میں ایک بڑا مسئلہ ہے اور وہ یہ کہ اگر غلطی مان لی تو اسے دور کرنے کی کوشش کرنا پڑے گی جو جان جوکھوں کا کام ہے۔

لیکن اگر اس مشکل کام کا بیڑا ہم اٹھا لیں تو پھر اپنی ذات کی اصلاح سے ہوتے ہوئے اپنے خانداں، معاشرے، ریاست اور دنیا کو سدھارنا تک بھی ممکنات میں آ سکتا ہے۔

جب ہم اپنے فرائض مکمل طور پر ادا کریں گے تو حقوق نہ ملنے پر احتجاج بھی پر اعتماد طریقے سے کریں گے اور ہم حق کے لیے جو آواز اٹھائیں گے وہ اتنی مستحکم ہو گی کہ باطل کے قدم اس کی گونج سے لڑکھڑا جائیں گے۔

اگر ہم نے اپنے لیے لیڈر ذاتی مفاد پرستی کے بجائے مکمل دیانت داری سے منتخب کیا ہو گا تو ریاستی بدانتظامی پہ جواب طلبی کا حق بھی ہمارے پاس محفوظ ہو گا اور اس کے استعمال سے ہمیں نہ کوئی ریاست روک سکے گی نہ ریاستی انتظامیہ۔

اگر ہم نے اپنی اگلی نسل کی تربیت بھرپور انداز میں کی ہو گی اور اس کے باوجود وہ بے راہ روی کا شکار ہو جاتی ہے تو اس صورت میں ہم معاشرے کو موردِ الزام ٹھہرانے میں حق بجانب ہوں گے اور معاشرے کو ہمارا یہ حق تسلیم کرنا پڑے گا۔

کوئی فرد ہو، خاندان ہو یا پھر ریاست اس کی اصلاح کا کام اگر بظاہر چھوٹے چھوٹے نظر آنے والے معاملات کے سدھار سے کیا جائے تو بہتری کی امید قوی ہو سکتی ہے، کیونکہ انقلاب تو کہیں زمانوں میں آتے ہیں لیکن تبدیلی ہر دور میں ممکن ہوتی ہے۔

اس لیے کسی ایک بڑے معاملے کو لے بیٹھنا اور اس پر اپنی تمام تر توانائیاں صرف کرتے رہنا دانائی نہ ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں نظرانداز ہونے والے بیشمار و بیکنار چھوٹے چھوٹے معاملات خود رو جڑی بوٹیوں کی طرح پھلتے پھولتے ایک دن اتنے بڑے ہو جاتے ہیں کہ ہم خود ان کے درمیان بونے بن کر رہ جاتے ہیں۔ پھر نہ کسی مسئلے کے سر تک پہنچنے کی ہماری قامت رہتی ہے نہ ہم ان سے مقابلہ کر پاتے ہیں یوں وہ ہم پر غالب آ جاتے ہیں اور پسپائی ہمارا مقدر ٹھہرتی ہے، ایسا مقدر جو ہم نے جانے انجانے میں اپنے ہی قلم سے اپنی پیشانی پر لکھا ہوتا ہے۔

اس لیے فلاں ایسا ہی ہوتا ہے یا میں ایسا ہی ہوں کہہ کر حقائق سے فرار حاصل کرنے کی ناکام کوشش کو چھوڑ کر اس بات پر غور کیا جانا چاہیے کہ میں ایسا کیوں ہوں! اور میں جیسا ہوں کیا میرا ایسا ہونا میرے اپنے اور اس انسانی معاشرے کے لیے ٹھیک ہے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •