کیا گریٹا تھون برگ امن کا نوبل انعام جیت پائے گی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ 2018 ہے اور اگست کا مہینہ۔ سویڈن کی پارلیمنٹ کا اجلاس جاری ہے۔ پارلیمنٹ کی عمارت کے باہر ایک 15 سالہ اسکول طالبہ بیٹھی ہے۔ اس بچی کو آج یہاں بیٹھے پہلا دن نہیں ہے۔ یہ کئی روز سے اسکول میں اپنی کلاسز چھوڑ کر سویڈن کی پارلیمنٹ کے باہر آ کر بیٹھ جاتی ہے۔ اس طالبہ کے چہرے پر ایسے تاثرات ہیں جیسے اس کا کوئی پیارا مر گیا ہو، یا اس کا گھر بار لوٹ لیا گیا ہو، لیکن ایسا کچھ نہیں ہے۔ اس کے پاس ایک پلے کارڈ رکھا ہے۔ اس پلے کارڈ پر ”ماحول کے لیے اسکول سے ہڑتال“ کے الفاظ درج ہیں۔ یہ بچی پارلیمنٹ کی عمارت میں جانے والوں کو اپنے ہاتھوں سے لکھے پمفلٹ بھی دیتی ہیں۔ ان پمفلٹس پر لکھا ہے :

”میں یہ سب اس لیے کر رہی ہوں کیوں کہ آپ بڑوں نے میرا مستقبل تباہ کر دیا ہے“

یہ طالبہ گریٹا تھون برگ ہے۔ یہ ان 301 امیدواروں میں سے ایک ہے جنہیں اس سال امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ گریٹا تھون برگ اب 16 سال کی ہو چکی ہے۔ اس عمر میں ہی وہ ماحولیاتی آلودگی کے خلاف جنگ کرنے والوں کی سب سے بڑی امید بن چکی ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے رہنما اس سے خائف ہیں، امریکی صدر تک اس کے خلاف ٹویٹ کر چکا ہے جب کہ روسی صدر بھی اس سے خوش نہیں۔ مخالفین اسے پاگل، جنونی اور کم علم کہتے ہیں لیکن ماحول کو بچانے کی جنگ کرنے والوں نے اسے ”ضمیر کی سفیر“ کا خطاب دیا ہے۔

گریٹا تھون برگ 2018 میں سویڈن کے انتخابات سے قبل پارلیمنٹ کی عمارت کے باہر بطور احتجاج بیٹھنا شروع ہوئی۔ وہ مسلسل 3 ہفتے اس عمارت کے باہر ایک ہی پلے کارڈ لے کر بیٹھی رہی تا کہ 9 ستمبر کے عام انتخابات میں ماحولیاتی آلودگی ایک بڑے نعرے کے طور پر سامنے آئے۔ گریٹا کا مطالبہ تھا کہ سویڈن میں جو بھی جماعت حکومت بنائے وہ ماحول کی تباہی کا باعث بننے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی کے لیے اقدامات کرے۔ اس سلسلے میں پیرس معاہدے پر مکمل عمل کرے۔

9ستمبر کے انتخابات کے بعد گریٹا نے ہر جمعہ کو پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج کرنے کا طریقہ اپنایا۔ اب وہ اکیلی نہیں تھی۔ اس کے ساتھ درجنوں اسکولوں کے سیکڑوں طلبہ بھی جمعہ کو اکٹھے ہونے لگے۔ رفتہ رفتہ یہ تعداد ہزاروں تک جا پہنچی۔ سویڈن کے تمام شہروں میں ہر جمعہ کو ماحول کے لیے اسکول اور کالج کے طلبہ احتجاج کے لیے باہر نکلنے لگے۔ سوشل میڈیا اور یورپ کے میڈیا میں گریٹا تھون برگ ایک سیلیبریٹی کی حیثیت اختیار کر گئی۔ اس کی تحریک نے زور پکڑا اور اب ہر جمعہ کو دنیا کے کئی شہروں میں ماحول کے بچاؤ کے لیے احتجاج کیا جاتا ہے۔ یہ تعداد اب ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں میں ہے۔

پوری دنیا تک گریٹا تھون برگ کی آواز گزشتہ ماہ پہنچی جب اسے نیویارک میں کلائمیٹ چینج سمٹ سے خطاب کے لیے بلایا گیا۔ سویڈن سے نیویارک تک کا سفر گریٹا نے ہوائی یا بحری جہاز کی بجائے ایک ایسی کشتی میں کیا جو کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس خارج نہیں کرتی۔ اس سمٹ میں گریٹا نے صرف 4 منٹ کی تقریر کی لیکن یہ تقریر ماحولیاتی آلودگی پر کی گئی اب تک کسی بھی تقریر سے کہیں زیادہ موثر ثابت ہوئی۔ دنیا بھر میں گریٹا کی آواز پہنچی۔

”سب کچھ ہی بہت غلط ہے۔ مجھے یہاں نہیں ہونا چاہیے تھا۔ مجھے سمندر کی دوسری طرف اپنے اسکول میں ہونا چاہیے تھا۔ لیکن آپ سب ہم نوجوانوں کی طرف مدد کے لیے دیکھ رہے ہیں۔ ہاؤ ڈیر یو؟ آپ لوگوں نے اپنے کھوکھلے الفاظ سے میرا بچپن اور میرے خواب چھین لیے۔ پھر مجھے کہا جاتا ہے کہ میں خوش قسمت لوگوں میں سے ایک ہوں۔ لوگ تکلیف میں ہیں۔ لوگ مر رہے ہیں۔ ماحولیاتی نظام تباہ ہو رہے ہیں۔ یہ ہماری نسل کے خاتمے کا آغاز ہے۔ آپ سب صرف دولت اور معاشی ترقی کی بات کر سکتے ہیں۔ ہاؤ ڈیر یو“

یہ وہ الفاظ ہیں جن سے گریٹا تھون برگ نے اپنی تقریر کا آغاز کیا۔ اس کے لہجے میں وحشت ہے، اس کی آنکھوں میں خوف اور نفرت ہے۔ یہ خوف تیزی سے مکمل تباہی کی طرف بڑھتے ماحول کا تھا، یہ نفرت ان تمام عالمی لیڈروں کے لیے تھی جو دعووں کے باوجود پیرس معاہدے پر عمل درآمد میں ناکام ہیں۔

گریٹا تھون برگ کے اپنے ٹوئٹر ہینڈل کے مطابق وہ اسپرگرز سنڈروم کا شکار ہیں۔ اس بیماری کے شکار افراد کو سماجی سطح پر رابطے پیدا کرنے اور اپنی بات کو دوسروں تک پہنچانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن گریٹا کی آواز پوری دنیا نے سنی۔ 2019 کی 100 موثر ترین شخصیات میں شامل گریٹا نے اس بیماری کو اپنے مشن کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ یہ انسان کی بقا کا عظیم مشن ہے۔

اقوام متحدہ کے کلائمیٹ سمٹ میں عالمی رہنماؤں کے سامنے گریٹا تھون برگ کی 4 منٹ کی یہ تقریر دنیا بھر میں سنی گئی۔ اس تقریر کے بعد ماحول کے تحفظ کے لیے پہلے سے جاری مظاہروں میں شدت آ گئی۔ گریٹا تھون برگ کے خطاب کے بعد دنیا بھر کے مختلف شہروں میں 60 لاکھ شہروں نے احتجاج کیا۔ احتجاج کرنے والوں کی اکثریت گریٹا تھون برگ کی طرح نوجوان ہے۔ جنہیں یہ اچھی طرح اندازہ ہے کہ جب وہ 40 یا 50 سال بعد بڑھاپے کی زندگی گزار رہے ہوں گے تو ان کے لیے اور ان کے بچوں کے لیے اور ساری دنیا کے لیے فضائی آلودگی کس حد تک خطرناک ہو چکی ہو گی۔ گلوبل وارمنگ سے نا صرف کئی جانوروں کی نسلیں فنا ہو چکی ہوں گی بلکہ انسان کی بقا بھی شدید خطرے میں ہو گی۔

دوسری طرف اپنے ملکوں کو زیادہ سے زیادہ طاقتور بنانے میں جتے عمر رسیدہ سیاست دان اور رہنما اس سنگین مسئلے کو ویسی توجہ نہیں دے رہے، جس کا یہ مستحق ہے۔ عالمی طاقتوں کے دعووں اور ماحول کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی پوری کوشش کے باوجود بھی فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کے سالانہ اخراج میں کمی نہیں لائی جا سکی۔ 2017 کے مقابلے میں یہ شرح 1.8 فیصد بڑھی۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑھتی شرح اور گرین ہاؤس ایفیکٹ کی وجہ سے زمین کے اوسط درجہ حرارت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر پوری دنیا کاربن ڈائی آکسائیڈ گیسوں کے اخراج میں کمی پر متفق ہو اور اگلے 10 سال میں ان گیسوں کے اخرا ج میں 50 فیصد کمی لائی جائے تو ہی زمین کے اوسط درجہ حرارت میں ہونے والے سالانہ 1.5 سینٹی گریڈ کے اضافے کو روکا جا سکتا ہے۔

گریٹا تھون برگ کی تقریر کے الفاظ، اس میں پیش کیے گئے حقائق اور ضمیر کی سفیر قرار دی گئی اس کم عمر لڑکی کا لہجہ رونگٹے کھڑے کر دینے کے لیے کافی ہے۔ تقریر میں گریٹا تھون برگ نے بتایا کہ ہمارا ماحول کس طرح تباہ ہو رہا ہے۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کے اخراج میں کمی کے لیے کتنے ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے اور کس طرح عالمی رہنما مسلسل ماحول کی تباہی کی داستان سناتی خطرناک ترین علامات کو بھی مسلسل نظر انداز کر رہے ہیں۔ کئی عالمی رہنماؤں کی طرف سے اس تقریر کو پذیرائی نہیں ملی۔ نا صرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روس کے صدر ولادی میر پوٹن نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ چینلز اور اخبارات میں بھی ان پر تنقید کی گئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گریٹا کی تقریر کے بعد طنزیہ ٹویٹ میں لکھا:

وہ بہت خوش باش لڑکی ہے جس کا مستقبل روشن ہے۔ اسے دیکھ کر اچھا لگا۔

روس کے صدر ولادی میر پوٹن نے ان کے بارے میں کہا کہ وہ ایک نرم دل لیکن کم علم لڑکی ہیں۔ روس صدر کی طرف سے اس تنقید کے بعد گریٹا تھون برگ نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر بائیو تبدیل کرتے ہوئے لکھا، نرم دل لیکن کم علم لڑکی۔

گریٹا تھون برگ کو ماحول کے تحفظ کے لیے خدمات کے عوض امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ اس ایوارڈ کے لیے گریٹا کے علاوہ 222 شخصیات اور 78 ادارے بھی شامل ہیں۔ جمعہ کو اس ایوارڈ کے فاتح کا اعلان کیا جائے گا۔ گریٹا تھون برگ امن کے نوبل انعام کے لیے فیورٹ ہیں۔ وہ پہلے ہی کہہ چکی ہیں کہ اس ایوارڈ سے ملنے والی ساری انعامی رقم وہ ماحول کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے 4 اداروں میں بانٹ دیں گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ریاض احمد نجم کی دیگر تحریریں
ریاض احمد نجم کی دیگر تحریریں