آزادی مارچ اور آئین میں موجود اسلامی شقوں کا دفاع

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک جمہوری ملک میں موجود متفقہ آئین اور اس آئین کی اسلامی شقوں کا دفاع جبکہ ملک کے مقتدر حلقوں، حکمرانوں، میڈیا اور عدلیہ پر بیرونی دباؤ کے مبینہ الزامات ہو، ایک مشکل کاز ہے۔ مگر اس مشکل کاز کو جمعیت علماء اسلام اور اس کی قیادت کی پارلیمانی جدوجہد، سیاسی زندگی اور حکومتوں کے ساتھ اتحاد یا اختلاف میں ان شقوں کے دفاع کو مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔ اس کاز کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی حکومتوں میں شامل ہوئے اور حکومتوں میں شامل ہونے کے باوجود اس فریضے سے غفلت نہیں برتی اور برملا اپنے تحفظات کا اظہار کیا

زیادہ پیچھے نہیں جاتے گذشتہ حکومت میں جمعیت علماء اسلام اور مسلم لیگ اتحادی رہے لیکن اس کے باوجود جب کبھی لیگی حکومت نے آئین کے اسلامی دفعات کو چھیڑنے کی کوشش کی جمعیت علماء نے اس کی بھر پور مخالفت کی

جیسے کہ پنجاب اسمبلی میں تحفظ حقوق نسواں بل پیش کیا گیا تو جمعیت علماء نے اس پر اپنے تحفظات کا اظہارکیا میاں نواز شریف سے قانون سے غیر اسلامی شقیں نکالنے کا مطالبہ کیا اس کے لئے مولانا فضل الرحمان صاحب نے میاں نواز شریف صاحب سے ملاقات کی۔ میاں صاحب نے مولانا صاحب سے گلہ بھی کیا کہ اتحادی ہونے کے ناتے میڈیا پر جانے کی بجائے مجھے براہ راست اپنے تحفظات سے آگاہ کیا جاتا تو بہتر تھا جس پر مولانا صاحب نے بھی کہا کہ پنجاب حکومت کو بھی بل پاس کرنے سے پہلے ہمارے ساتھ مشاورت کر لینی چاہیے تھی۔

انتخابی اصلاحات بل 2017 میں سال دو ہزار دوکے عام انتخابات میں قادیانی عقائد کے حوالے سے شامل کی جانے والی دو شقیں سیون بی اورسیون سی خارج ہوگئی تھیں۔ ان شقوں کے خارج ہونے سے قادیانیوں کے انتخابات میں حصہ لینے کی راہ ہموار ہوگئی تھی۔ مولانا صاحب اس موقع پر سفر عمرہ پر تھے وہاں سے پارلیمنٹ میں موجود اپنے اراکین کو ہدایات جاری کی کہ حکومت کو ان شقوں کی بحالی پر مجبور کیا جائے۔ اس حوالے سے سینٹ میں مولانا عبد الغفور حیدری اور حافظ حمد اللہ نے بھر پور جد وجہد کی اور حکومت کو ان شقوں کی بحالی پر مجبور کیا گیا۔ خود مولانا صاحب نے قومی اسمبلی میں اس حوالے سے دلائل سے بھر پور تقریر کی اور بالآخر قومی اسمبلی اور سینٹ سے یہ ترمیمی بل منظور کیا گیا۔ اور ختم نبوت بارے حلف نامہ اپنی اصل صورت میں برقرار رہا۔

اسلامی شقوں کے حوالے سے ایسی درجنوں مثالیں موجود ہیں۔

ان شقوں کے علاوہ اہم قومی ایشوز پر بھی حکومتی اتحادی ہونے کے باوجود کھل مخالفت کی۔ قبائل انضمام کا مسئلہ ابھی کل کی بات لگتی ہے کہ مولانا صاحب نے حتی الوسع اس کی مخالفت کی اور جن تحفظات کا اظہار کیا تھا آج وہ تحفظات حرف حرف درست ثابت ہورہے ہیں

اور اب جبکہ مولانا صاحب نے اسلام آباد آزادی مارچ کا اعلان کر رکھا ہے اپوزیشن جماعتوں کو اس مارچ میں مذہب کارڈ استعمال کرنے پر تحفظات ہیں اس کے باوجوداپوزیشن کی 9 سیاسی جماعتوں کی رہبر کمیٹی نے آج ہی جن چار نکات پر اتفاق کیا ہے اس میں ایک نکتہ آئین میں موجوداسلامی شقوں کے مکمل دفاع کا فیصلہ بھی شامل ہے۔ بلاشبہ اپنے کاز کے حوالے سے یہ جمعیت علماء اسلام کی بہت بڑی کامیابی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •