ڈاکٹر خالد سہیل کی مشہور آٹو بائیو گرافی The Seeker (سالک)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خود کو جانچنا، کریدنا، پرکھنا اور کھوجنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ اپنی زندگیوں میں معنویت پیدا کرنے کے لئے کچھ لوگ روایتی اور گھسے پٹے راستوں کا انتخاب کرتے ہیں اور ایک بڑے ہجوم کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ان کے خیالات میں ایک طرح کا سطحی پن اور نرگسیت کا عنصر شامل ہوتا ہے۔ جوان کی زندگی کو ایک ہی رُخ میں قید کردیتا ہے۔ کچھ نابغہ روزگار ایسے بھی ہوتے ہیں جولفظوں کی تہہ میں اُتر کر معنی کا ایک مکمل گیان حاصل کرتے ہیں اور اپنے اندر گہری معنویت کا ایک جہان آباد کرلتیے ہیں۔

وہ آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے گہرے خیالات کی ایک ایسی مالا پرودیتے ہیں جو ہر دور میں نئے سیکھنے والوں کے لئے ایک نیا افق اور جہان کھول دیتی ہے۔ کچھ لوگ روایات کی شاہراہ پر چلتے ہوئے خود کو اوروں میں تراشتے ہیں اور کچھ لوگ اپنے من کی پگڈنڈی پر چلتے ہوئے خود کو خود میں تراشتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ کتابیں روح کا آئینہ ہوتی ہیں اور اپنے پڑھنے والوں پر بصیرت اور علم و عرفان کے نئے دروازے کھولتی ہیں۔ آج میں بھی آپ کو ایک ایسی ہی نایاب کتاب سے متعارف کروانا چاہتا ہوں۔

یہ کتاب ایک ایسے شخص کی خود نوشت سوانح عمری ہے، جس نے روایات سے بغاوت کرکے خود کو خود کے سامنے سرخرو کیا۔ اس شخصیت کانام ڈاکٹر خالد سہیل ہے اور آج ہم ان کی خود نوشت سوانح عمری کا تذکرہ کریں گے جو میری نظر میں ”The Bible of Humanity“ ہے۔ ایک دن اپنے خیالات کی غارِحرا میں مستغرق اس کتاب کے مصنف کو ایک خیال سوجھتا ہے اوراُس خیال کو مزید کھوجنے کے لئے وہ ایک آئینہ کے سامنے کھڑا ہوجاتا ہے۔ اچانک اس کی نظر اپنے سر کے بالوں پر پڑتی ہے وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کے بالوں میں سفیدی اترنا شروع ہوگئی ہے جو اس بات کی علامت تھی کہ اب اس کی زندگی کی شام ہوچکی ہے۔

مصنف نے خود بھی استعارائی زبان میں ”The Evening of His Life“ نام دیا ہے۔ اِس ادراک کے ہوجانے کے بعد وہ خود سے سوال کرتا ہے کہ وہ کون ہے؟ شعور اور لاشعور کی رو میں کھوکر اُسے یہ جواب ملتا ہے کہ وہ سچائی کی تلاش میں نکلا ایک مسافر ہے۔ اور اب تک تلاش کے اِس سفر میں اسے جو کچھ حاصل ہوا ہے، اس امر کا اسے مکمل طورپر ادراک ہے۔ وہ خودکو خوش نصیب گردانتا ہے کہ اُسے اس کی پہچان مل گئی ہے اور وہ خود کو خضر کے منصب پر فائز کرتا ہے۔

شعور اور لاشعور کے درمیان خود کلامی کرتے ہوئے خضر خود سے مخاطب ہوتا ہے کہ کیا اِس سچائی کے سفر میں اُس نے اپنے سچ کو پالیا ہے؟ کافی سوچ بچار کے بعد خضر کہتا ہے ہاں اُس نے اپنے سچ کو پالیا ہے۔ مگر حسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ شاید وہ سچ کی پوری تصویر نہیں دیکھ سکا اور اس کو یہ خدشہ گزرتا ہے کہ شاید وہ شعوری طورپر مکمل بالغ ہونے سے پہلے ہی اِس دنیا سے رخصت ہوجائے گا۔ خضر نے چارہفتوں کے ادبی اعتکاف کے دوران خود کے شعوری سچ کو استعاراتی زبانی میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔

خضر کی زندگی میں کتاب کا کلیدی کردار ہے۔ کتابوں کی محبت سے سرشار خضر کے لئے کتابیں اس کی بہترین دوست ثابت ہوئی ہیں اور ان دوستوں سے اُس نے ادب، فلسفہ، مذہب، اسطورہ، نفسیات، فلکیات اور سماجیات کا گیان حاصل کیا ہے اور پھر اسی گیان کو شاعری، نفسیات، افسانے نظموں اور مختلف ادبی خطوط کی صورت میں اپنے Creative Labor Room میں بیٹھ کر رنگ، نسل اور مذہب سے بالاتر ہوکر نسل انسانیت کو بانٹ دیا۔ خضر کی زندگی میں اس کی روائیتی سرزمین کا بھی بہت کردار رہا ہے جسے وہ استعارائی زبان میں Land of Traditionکہتا ہے۔

خضر کا اِس زمین پر ایسے لوگوں سے واسطہ پڑا جو صرف ایک ہی سچ پر یقین رکھتے تھے اور اسی روائیتی سچ کو مکمل اور ابدی تسلیم کیے ہوئے تھے، ان کا اپنا سچ کوئی نہیں تھا۔ زندگی کے تسلسل میں خضر کی زندگی میں مذہب کا بھی ایک کردار ہے جسے وہ Traditional Mother کانام دیتاہے۔ مذہب کا فلسفہ خدا، جنت دوزخ اور توہمات کے گِرد گھومتا ہے۔ خضر کے خیال میں اس فلسفہ کے تحت پروان چڑھنے والی شخصیت مختلف تضادات کے علاوہ ایک احساس گناہ میں ڈھل جاتی ہے، جس کی وجہ سے اُس کا (Self) ۔

یا انفرادیت ختم ہوجاتی ہے۔ خضر کی زندگی میں Mysticism کا بھی بڑا کردار رہا ہے۔ جسے وہ Non۔ Traditional Father کانام دیتاہے۔ خضر کی نظر میں سنت، سادھو اور صوفی بھی راہِ حق کے متلاشی ہوتے ہیں۔ جو اپنے سچ کو پانے کے لئے جنگلوں اور پہاڑوں کا رخ کرتے ہیں۔ خضر یہاں پر اپنے والد کا تذکرہ کرتا ہے۔ اس کا والد سائنس کا طالب علم تھا۔ سائنس کا طالب علم ہونے کے ناتے سے مذہب اور سائنس کے واضح تضادات پر غور کرتے ہوئے ایک دن اس کا نروس بریک ڈاؤن ہوجاتا ہے۔

اِس ذہنی بحران کے بارے میں لوگوں کی رائے تھی کہ ان کی دماغی حالت خراب ہوگئی تھی اس کا NERVOUS BREAKDOWNہو گیا تھا جب کہ خضر کے والد کی نظر میں یہ Spiritual Breakthrough تھا۔ صحت یابی کے بعد انہوں نے سادہ زندگی بسرکرنا شروع کردی اور اپنی بقیہ زندگی اپنے طلباء کو تعلیم دینے اور انسانیت کے فلاح و بہبود کے لئے وقف کردی۔ خضر کا یہ ماننا ہے کہ زندگی ایک بہت ہی پراسرار چیز ہے۔ سچائی کے اس سفر میں خضر کو دانائی سے بھی واسطہ پڑتاہے جسے اس نے Grand Mother کا نام دیا ہے۔

خضر گرمیوں کی چھٹیوں میں اپنی نانی اماں کے پاس جایا کرتاتھا۔ اِس تعلق میں ایک خاص قسم کا اُنس تھا، ایک خاص قسم کا تعلق تھا۔ بچپن کے اِس دور میں خضر کے رشتہ دار بطورA Little Child کے اس کو ٹریٹ کرتے تھے جبکہ اس کی نانی اس کو بطور A Little Person کے ٹریٹ کرتی تھیں َ خضر کو اپنی نانی اماں سے انفرادیت کاگیان حاصل ہوا۔ اِسی آگہی نے اس کی زندگی میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ خضر کو دوستی میں چھپی ہوئی محبت کے معانی اپنی پیاری سی چھوٹی بہن عنبرین کوثر سے ملے۔

ایک دن کھیلتے ہوئے خضر نے عنبر کو دھکا دے دیا جس کی وجہ سے وہ گر گئیں۔ کھانے کی میز پر عنبر نے پاپا سے بھائی کے رویے کی شکایت کی جس پر پاپا نے بھائی کو حکم دیا کہ اپنی بہن سے معافی مانگو۔ یہ لمحہ خضر کے لئے بہت ہی پریشان کن اور دوستی کی تہہ میں چھپے ہوئے اصل تعلق کی دریافت کا لمحہ تھا۔ تھوڑے توقف کے بعد بھائی نے اپنی بہن سے معافی مانگ لی اور اِس چھوٹے سے واقعہ کے بعد خضر دوستی کے حقیقی معانی سے آشنا ہوگیا اور اَب دوستی کا یہ حلقہ دن بدن پروان چڑھتا جارہا ہے۔

خضر کے شعور کو چمکانے میں مذہبی کتابوں کا بھی بہت کردار ہے۔ ایک شام خضر کی والدہ صاحبہ خضر سے مخاطب ہوئیں کہ اب تم بڑے ہوگئے ہو اس لئے تمہیں مختلف مذہبی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ یہ کتابیں تمہیں ایک اچھا انسان بنانے میں اہم کردار اداکریں گی۔ خضر نے سرتسلیم خم کرتے ہوئے مقامی لائبریریوں کی چھان بین شروع کردی اور تمام قدیمی مذہبی مسوات جمع کیے۔ خضران مسودات کو دیکھ کر پریشان اور حیران ہوگیا کیونکہ وہ مذہبی مسودات ہزاروں برس پرانی زبان میں لکھے ہوئے تھے چونکہ اُس کو ان زبانوں سے آشنائی نہیں تھی۔

اس نے اس نے مختلف علماء کے لکھے ہوئے تراجم اکٹھے کیے۔ ان تراجم اور تشریحات کو پڑھنے کے بعد خضر بہت زیادہ کنفیوز ہوگیا۔ کیونکہ وہ تراجم اور تشریحات ایک دوسرے سے متصادم تھیں۔ یہ سب دیکھ خضر کو ادراک ہوا کہ یہ مذہبی مسودات اس کی عملی زندگی میں کوئی نکھار نہیں لاسکیں گے۔ اِسی آشنائی اور آگہی کے سفر میں خضر کو اپنی ذات کے ایک خاص تحفے کا پتہ چلتا ہے۔ جسے اس نے ”A Special Gift“ کا نام دیا ہے۔ ایک دن دریا کے کنارے ایک لمبی سیر کے دوران اس کو ادراک ہوتا ہے کہ اس کی زندگی اس کے لئے خاص ہے۔

کیونکہ اسے زندگی میں بہت ساری ”Choices“ حاصل ہیں۔ اپنی زندگی کو جس رنگ سے بھی مزین کرناچاہیے وہ مکمل آزادی کے ساتھ ایسا کرسکتا ہے۔ خضر کی زندگی میں سوالات کی بہت زیادہ اہمیت رہی ہے۔ اس کو اس بات کا یقین ہے کہ وہ ان ابھرنے والوں سوالوں کو ایک دن کھوج نکالے گا۔ چونکہ خضر خواب کی عملی تعبیر پر زیادہ بھروسا کرتا ہے۔ اس شام کی لمبی سیرنے اس کو اعتماد دیا کہ وہ اپنی زندگی کا خود آقا ہے اور وہ اپنی زندگی کو اپنے آدرشوں کے مطابق بسر کرسکتاہے۔

خضر کی زندگی میں میوس کا بھی بڑا کردار ہے۔ بہت سارے روایتی لوگوں کی نظرمیں میوس ایک دیو مالائی کردار ہوتا ہے۔ جب کہ خضر کی نظر میں یہ اس کی اندرونی آواز اور بازگشت کا نام ہے۔ جسے وہ ”Inner Voice“ کا نام دیتا ہے۔ یہ میوس خضر کے لئے ہر روز ادبی تحفے لاتی ہے جسے وہ انسانیت کے نام منسوب کردیتا ہے۔ خضر کی دانش کو تراشنے میں سعادت حسن منٹو کا بھی بہت کردار ہے۔ منٹو کی تحریر کے دوکاٹ دار جملوں نے خضر کو زندگی کے نایاب تحفے دیے۔ وہ جملے یہ ہیں۔

( 1 ) ہر عورت طوائف نہیں ہوتی لیکن ہر طوائف عورت ضرور ہوتی ہے۔

( 2 ) جب میں شراب پیتا ہوں تو میں اپنے منہ میں الائچی نہیں رکھتا۔ جب کبھی میں بازار حسن جاتا ہوں تو لوگوں کی نظروں سے بچنے کے لئے اپنے منہ کو رومال سے نہیں ڈھانپتا۔

خضرکو اس بات کا ادراک ہوتا ہے کہ ہر لکھنے والے کو اپنے لکھنے کی قیمت چکانا پڑتی ہے۔ کیونکہ سچ کا ذائقہ ہمیشہ کڑواتا ہوتا ہے۔ خضر کی زندگی میں تخلیقیت کا بھی بڑا اہم کردار ہے۔ اس ”Creativity“ کو وہ اپنے چچا عارف عبدالمتین سے جوڑتا ہے۔ چچا سے خضر کو یہ گیان ملتا ہے کہ دنیا مین دوطرح کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ پہلی قسم ان لوگوں کی ہوتی ہے جو روایات کی شاہراہ پر چلتے ہیں۔ جنہیں Traditional Majority کہا جاتا ہے۔

دوسری قسم ان لوگوں کی ہوتی ہے جو اپنے من کی پگڈنڈی پہ چلتے ہیں۔ جنہیں Creative Minorityکہا جاتا ہے۔ خضر خوش نصیب ہے کہ اس کا تعلق بھی اسی قبیلے سے ہے۔ خضر نے روایات کی ان زنجیروں کو توڑنے کی ایک بہت بھاری قیمت بھی چکائی ہے۔ اس کو زندگی میں گیا ن حاصل ہوا ہے کہ جو لوگ اپنے من کی پگڈنڈی پہ چلتے ہیں اور روایات کے بتوں کو پاش پاش کرتے ہیں۔ ان کو اس کی بھاری قیمت ادا کرناپڑتی ہے۔ خالد سہیل کی یہ آٹو بائیو گرافی پڑھنے والے کو ایک بھر پور اعتماد عطاء کرتی ہے۔

زندگی میں معنویت پید اکرنے کے لئے ایک شعوری پائیدان عطاکرتی ہے۔ جس سے قاری کا خود کو دریافت کرنے کا سفر سہل اورآسان ہوجاتا ہے۔ استعاراتی زبان میں لکھی گئی یہ ایک ایسی دستاویز ہے جو ہر دور میں پڑھنے والوں کے لئے آگہی کا ایک نیا جہان کھولے گی۔ یہ کتاب پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ میں سقراط کے ایک خوبصورت جملے پر اختتام کرنا چاہوں گا۔

”Unexamined life is not worth living“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عبدالستار (میاں چنوں) کی دیگر تحریریں
عبدالستار (میاں چنوں) کی دیگر تحریریں