اومارسکا کی اسٹرابیری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یوگوسلاویہ میں خانہ جنگی شروع ہوچکی تھی۔ بہشت نما خوبصورت ہرنچی شہرمیں سرب دوسری نسل کے لوگوں کی مار دھاڑ کر رہے تھے اور ان کو اٹھا اٹھا کر کیمپوں میں لے جا رہے تھے۔ سلام اور عذرا گھر چھوڑ کر شہر سے باہر ایک رشتے دار کے فارم میں چھپ گئے۔ لیکن ایک رات سرب دونوں کو وہاں سے اٹھا کر اومارسکا کے کیمپ میں لے گئے اور انہیں الگ الگ حصوں میں ڈال دیا۔ اس کیمپ میں بھوک، اذیت، بیماری اور موت کے سوا کچھ نہیں تھا۔ سب قیدی بوسنیائی تھے اور ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکے تھے۔ زیادہ تر کے جسموں پر شدید تشدد کے نشانات تھے۔ سلام کو اپنا مستقبل سامنے صاف نظر آ رہا تھا لیکن وہ بالکل بے بس تھا۔

ان قیدیوں میں سے کچھ اس کے دوست اور رشتہ دار بھی تھے۔ ان کی حالت دیکھ کر سلام کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ کچھ قیدی سلام کے پاس آ ئے اور اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کا حال پوچھنے لگے۔ وہ تو خود کافی دنوں سے روپوش تھا۔ اس لئے کسی کو کچھ زیادہ نہیں بتا سکا۔

تھوڑی دیر بعد سلام کو کمرۂ تفتیش میں لے جایا گیا۔ دو سرب کمرے میں داخل ہوئے۔ ایک تو کافی بھاری بھرکم تھا۔ انہوں نے سلام کو کرسی سے فرش پر گرایا اور پے درپے اپنے وزنی جوتے اس کی پسلیوں میں مارنے شروع کر دیے۔ سلام کو یاد نہیں کہ وہ کب تکلیف کی شدت سے بے ہوش ہوا۔ جب اسے ہوش آیا تو وہ برآمدے میں سردی سے ٹھٹھر رہا تھا اور اس کے جسم کا ایک ایک عضو اور ایک ایک ہڈّی درد سے چور چور تھی۔ اس کا دل چاہتا تھا کہ وہ زور سے چیخ کر اپنی تکلیف کا اظہار کرے اور روئےلیکن اس کی نظر کیمپ کے محافظ پر پڑی جو قریب کھڑا اسے گھور رہا تھا۔

خوف سے اس کی چیخ وہیں ضبط ہو گئی اورآنسو بہنے سے پہلے ہی خشک ہو گئے۔ محافظ نے ایک دروازے کی طرف اشارہ کیا۔ سلام رینگتا ہوا دروازہ کھول کر اندر چلا گیا جہاں کئی اور لوگ بھی تکلیف سے کراہ رہے تھے۔ اس کیمپ میں سب قیدیوں کی نگاہوں میں ہمدردی تھی لیکن کسی کے پاس زبان نہیں تھی۔ کوئی اسے جھوٹا دلاسا تک نہیں دے رہا تھا۔ سب ناقابل برداشت حالات سے گزر رہے تھے اور کوئی امید نہیں تھی کہ اس کیمپ سے زندہ باہر نکل سکیں گے۔

یہ کئی سو قیدی خاموش رہتے تھے حالانکہ ان کے پاس کرنے کے لئے کچھ نہیں تھا۔ یہ سارا وقت بات چیت کر کے گزار سکتے تھے لیکن سلام نے محسوس کیا کہ یہ سب خطّہ ارض سے نکل کر کسی اور سیّارہ میں منتقل ہو چکے تھے جس میں سورج سے امید کی کوئی کرن نہیں آتی۔ سلام کو عذرا کے بارے میں بہت پریشانی تھی۔ اس نے سنا تھا کہ اس کیمپ میں قیدی عورتوں کو افسروں کی ہوس کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس مایوسی کے علم میں اس نے اپنے لئے اور عذرا کے لئے موت کی دعا مانگنا شروع کر دی۔

سلام کو ایک قیدی نے آہستہ سے بتایا کہ یہاں بیمار کا علاج صرف بندوق کی گولی سے کیا جاتا ہے۔ اس کیمپ میں قیدیوں کے لئے کوئی طبّی سہولیات نہیں ہیں۔ لہذا اس نے سلام کو تاکید کی کہ وہ اپنی پوری دماغی توانائی کو بیماری سے بچنے کے لئے لگا دے اور اگر بیمار ہو جائے تو بیماری کو چھپائے۔ یہ سن کر سلام کی آنکھوں میں کچھ روشنی آئی۔ اگر وہ خود کو بیمار ظاہر کرے یا سچ مچ بیمار ہو جائے تو موت اس کو اس اذیت ناک زندگی سے چھٹکارا دلا دے گی! پھر اسے عذرا کا خیال آیا کہ اس پر کیا بیت رہی ہو گی۔ اسے عذرا کے لئے زندہ رہنا تھا۔

شام کے وقت ایک قیدی جس کے سارے جسم پر اذیّت کے شدید نشانات تھے اور پسلیاں اندر دھنس چکی تھیں ایک دم کھڑا ہو گیا اور زور سے بوسنیا زندہ باد کا نعرہ لگایا۔ دو محافظ اس کی طرف آئےاور گھسیٹ کر باہر لے گئے۔ ایک یا دو منٹ کے بعد گولی کی آواز آئی اورکیمپ میں پہلے سے بھی زیادہ بھیانک سنّاٹا چھا گیا۔ سب کی آنکھیں بتا رہی تھیں کہ انہیں پتہ ہے کہ یہ آواز کیا ہے لیکن کسی نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ شام سات بجے ایک ایک روٹی کا ٹکڑا ہر قیدی کو دیا گیا جسے سارے قیدی بھوک کے مارے بغیرچبائےہی نگل گئے۔ سلام کے ساتھ بیٹھے ہوئے قیدی نے بتایا کہ یہ روٹی کا ٹکڑا پورے دن اور رات کی غذا ہے۔

رات بھر کیمپ خوفناک چیخوں سے گونجتا رہا۔ گاہے بگاہے کچھ لوگوں پر تشدّد ہو رہا تھا۔ کچھ قیدی خواب کی حالت میں بھیانک آوازیں نکال رہے تھے۔ سلام کو رہ رہ کر عذرا کا خیال آرہا تھا۔ شاید وہ بھی کسی سرب کی ہوس کا نشانہ بن رہی ہو گی۔ یہاں کی رات تو دن سے بھی بدتر تھی۔

صبح ہوئی تو سلام کو پھر دو محافظ کمرۂ تفتیش میں لے گئے۔ دو افسر کمرے میں داخل ہوئے اور انہوں نے سلام کی شناخت کے بارے میں کچھ سوالات پوچھے۔ اس کے بعد انہوں نے سلام سے پوچھنا شروع کیا کہ ہرنچی میں کتنے بوسنیائی فوجی ہیں، وہ کتنوں کو جانتا ہے، اور ان کی کون مدد کرتا ہے۔ جب سلام ان سوالوں کا جواب نہ دے سکا تو انہوں نے مکّوں اور گھونسوں کی بارش شروع کر دی۔ پھرکسی نے زور سے اس کو دھکّادیا اور وہ زمین پر آ رہا۔ ایک وزنی افسر نے اس کے پیٹ پر جا بجا جوتوں سے وار کیئے۔ یہاں تک کہ سلام کے منہ سے خون بہنے لگا۔ وہ دونوں سلام کو اس حالت میں چھوڑ کر چلے گئے۔ اور ان کے جانے کے بعد دو محافظ اندر آئے اور سلام کو دیکھ کر قہقہے لگانے لگے۔

’ بچّے نے اسٹرابیری کھا کر منہ لال کر لیا ہے۔ ‘

تکلیف کی شدّت سے ہار کر سلام نے سوچا کہ وہ اب کھڑا ہو کر بوسنیا کی حمایت میں نعرہ لگائے تاکہ سرب اسے موت کے گھاٹ اتار دیں اور وہ اس اذیّت سے نجات حاصل کرلے۔ مگر نہ ہی وہ کھڑا ہو سکا اور نہ کی اس کے منہ سے کوئی آواز نکل سکی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •