آزادی مارچ سے کیا حاصل ہو گا؟
جنرل ضیاء کا تاریک دور تھا۔ آمریت کے بادل سایہ فگن تھے۔ مایوسی اور نا امیدی چارسو پھیلی ہوئی تھی۔ جمہوریت آخری سسکیاں لے رہی تھی۔ جمہوریت پسند طبقہ ظلم کی چکی میں پس رہا تھا۔ کوڑے تھے۔ ہتھکڑیاں تھیں۔ قید و بند کی صعوبتیں تھیں۔ ان اندھیری راتوں اور مایوس دنوں میں جنرل ضیاء نے 1978 میں تہران میں کھڑے ہو کر کہا تھا کہ
” آئین کیا یے، چند ورقے؟ اگر میں اسے پھاڑ کر ردی کی ٹوکری میں ڈال دوں اور ایک نیا نظام نافذ کر دوں تو سب کو وہ ماننا پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاستدان بشمول بھٹو پھر بھی دم ہلاتے میرے پیچھے آئیں گے۔ “
ہوا یوں کہ مایوس حالات میں ایک چھوٹی سے کوشش کی گئی۔ 5 اکتوبر 1981 کو تحریک بحالی جمہوریت movement for restoration of democracy کی بنیاد ڈالی گئی۔ نو سیاسی پارٹیاں ایم آر ڈی کا حصہ بنیں۔ ایم آر ڈی نے سیاست اور سیاسی احتجاج کی روایت قائم کی۔ یہ سچ ہے کہ ایم آر ڈی ضیاء الحق کو اقتدار سے اتار پھینکنے میں ناکام رہی۔ مگر اس تحریک کی کامیابی یہ تھی کہ جنرل ضیاء کو مکمل فتح حاصل نہیں ہو سکی۔ جنرل ضیاء اپنے بہت سے مقاصد میں کامیاب نہ ہو سکا۔
آج بھی لوگ عمومی طور پر جنرل ضیاء کو ایک غاصب، ظالم تو سمجھتے ہیں مگر مقبول لیڈر تسلیم نہیں کرتے۔ بھٹو نے جان دے دی لیکن ضیاء کے سامنے نہیں جھکا۔ جنرل ضیاء کا منصوبہ سیاست کو پاک کرنے کا نہیں تھا بلکہ ملک کو سیاست سے پاک کرنے کا تھا۔ اس تحریک نے جنرل ضیاء کے اقدامات کو سیاسی قبولیت اور جواز نہیں دیا اگر جنرل ضیاء کے لیے میدان کھلا چھوڑ دیا جاتا تو ممکن ہے آج ہم آج اندھیرے اور روشنی میں فرق محسوس نہ کر سکتے۔
ان سوال کرنے والے کے لیے یہ سطور کافی ہیں جو پوچھتے ہیں کہ مولانا کے آزادی مارچ آور تحریک کا کیا فائدہ ہو گا؟ کیا مولانا مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی جنگ لڑ رہے ہیں؟ تو ان احباب عقل و دانش کے لیے اتنا عرض ہے کہ مولانا اس مفتی محمود کا بیٹا ہے جو ایم آر ڈی کا حصہ تھے۔ جمعیت علماء اسلام کی سنہری تاریخ میں ضیاء آمریت کے خلاف جدوجہد ایک روشن باب ہے۔ جس طرح ایم آر ڈی نے ضیاء کے راستے میں روکاوٹوں کا پل باندھا آج مولانا بھی ایک سول مارشلاء کے راستے میں سینہ سپر ہے۔
جنرل ضیاء کے دور میں بھٹو نے جھکنے سے انکار کیا تھا، آج مولانا اور نواز شریف جھکنے کے لیے تیار نہیں۔ یہ بات اب بچہ بچہ جانتا ہے کہ گزشتہ چند سالوں سے ملک میں کیا سیاسی انجینئیرنگ ہو رہی ہے۔ یہ تاثر بن رہا ہے کہ عدالت سے لے کر سیاسی جماعتوں کے فیصلوں تک کو کنٹرول کیا جا رہا ہے۔ سب کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔ باوجوہ ڈاکٹرائن کے مطابق ملک کو اگلے دس سالوں تک ون میں شو کے تحت چلانا ہے۔ اپنی مرضی کی سیاسی جماعتیں تشکیل دینی ہیں۔
بڑی سیاسی جماعتوں کو ٹکڑوں میں بانٹنا ہے۔ اسی تناظر میں 2018 کے الیکشن میں ایک ایسی پارٹی کو اقتدار دیا گیا جو نا اہل بھی ہے اور نالائق بھی۔ الیکشن چرایا گیا۔ الیکشن سے پہلے فضا بنائی گئی۔ فضا بنانے میں اعلی عدلیہ بری طرح استعمال ہوئی۔ صحافت پر قدغنیں ہیں۔ انٹرویوز اور کالم سنسر کیے جاتے ہیں۔ خارجہ اور داخلہ پالیسی عالمی دباؤ کے تحت بن رہی یے۔
اب بتائیں کہ کیا یہ جمہویت ہے؟ کیا یہ سول مارشلاء نہیں؟ اگر یہ جمہوریت نہیں؟ اگر یہ پولیٹیکل انجینئیرنگ ہے؟ تو اس دور میں تحریک کی ضرورت نہیں؟ کیا ایم آر ڈی کے دور والی جدوجہد کی ضرورت نہیں؟ کیا مولانا سب کی جنگ تنہا نہیں لڑ رہا؟ کیا مولانا کی جدوجہد کرسی یا مفادات کے لیے ہے یا ہر طبقے ہائے زندگی کی آزادی کے لیے؟ کیا یہ آئین کے تحفظ کی جنگ نہیں؟ یہ سب سوالات اہم ہیں۔
مولانا کے آزادی مارچ کا جو بھی نتیجہ نکلے، اتنی بات یقینی ہے کہ سلیکٹرز کو کھل کر کھیلنے کی آزادی نہیں ملے گی۔ دس سال کے منصوبے بنانے والوں کے کئی منصوبے ادھورے رہ جائیں گے۔ جمہوری قوتوں کو تقویت ملے گی۔ آئیے۔ مرد قلندر کا ساتھ دیجیئے۔ تاریخ اپنے کو دہرا رہی یے۔ چہ می گوئیاں چھوڑیں۔ میدان میں نکلیں۔ اور 27 اکتوبر کو انقلاب برپا کر دیں۔ اگر آج غیر جمہوری قوتوں کے لیے میدان کھلا چھوڑ دیا تو آنے والا دور بھیانک ہو گا۔


