سوشل میڈیا جنریشن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل کی دنیا ایجادات کی بنا پر دن دگنی ترقی پر مامور ہے۔ اس ترقی نے وقت کو جیسے سمیٹ لیا ہے۔ فاصلوں کی اہمیت لمحوں میں لپٹ گئی ہے۔ اپنی بات کو دوسروں تک پہچانا بے حد آسان ہوگیا ہے۔ یہاں ہم نے کچھ سوچا اور دوسرے لمحے اس کی تشہیر ہوجانا اب ایک عام بات ہے۔ ایک زمانہ تھا جب ان باتوں کو جادو یا معجزہ سمجھا جاتا تھا یا دیگر الفاظ میں خواب میں ایسا ممکن تھا شاید اسی لیے ہم اپنی خواہشوں کی تکمیل اپنے خوابوں میں سجاتے تھے۔

اگر ہم 1980 کی دہائی ہی کی بات کریں تو اس زمانے میں بھی یہ خواب میں ہی ممکن تھا کہ ہم کچھ سوچیں اور اس کی تشہیر دنیا کے کسی کونے تک پہنچ جائے۔ ان ہی ایجادات کی دوڑ میں ہم نے ٹیلی فون سے لے کر موبائل ایجاد کیا اور انٹرنیٹ پر دنیا کو لہروں کے ذریعے نشر کرنے میں کامیاب ہوگئے اور اس برقی لہروں کی دنیا کو سوشل میڈیا ورلڈ کا نام دیا۔

کہنے کو دنیا مٹھی میں نہیں بلکہ اب انگلیوں کی پوروں پر آچکی ہے جس کو ہم ٹچ اسکرین کے نام سے جانتے ہیں اور یہ کسی جادو سے کم نہیں، کیوں کہ دنیا کے ایک کونے سے ہم کہیں پر بھی بیٹھ کر کسی سے رابطہ قائم کر سکتے ہیں۔ بے شک یہ سائنس کی بڑی کامیابی ہے جس نے ہم انسانوں کو آسانیاں دینے کی بھرپور کوشش کی ہے۔

دنیا نے جہاں ترقی کی، وہیں انسانوں نے خود کو اس ترقی میں ضم کرنا شروع کردیا۔ جس کے نتیجے میں ہم انسان کی سوچ ا و رتربیت ان تکنیکی آلات کی محتاج ہوگئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ طرزِ زندگی بھی متاثر ہوتاچلا گیا۔ پہلے جہاں مل بیٹھنے اور خاندانی رسم و رواج کا دور تھا، اب وہ جگہ انسٹا گرام اور فیس بک کمیونٹی نے لے لی۔ اس فاصلوں کی کمی نے نزدیک اور پاس موجود افراد کی موجودگی کو تقریباً فراموش کردیا اور جو اسکرین کے اس پار بیٹھا محض ایک تخیلاتی رشتہ ہے جس کو ہم ورچول دنیا کہتے ہیں، زیادہ اہمیت کا حامل ہوگیا۔

اس کا منفی اثر نا صرف ایک فرد پر پڑا بلکہ پورا کا پورا معاشرہ اس مرض کا شکار ہوگیا۔ اب عالم یہ ہے کہ خونی رشتوں سے زیادہ فیس بک میں موجود افراد اپنے ماں، باپ، بہن، بھائی سے زیادہ سگے ہوچکے ہیں۔ لوگ ایک گھر میں رہتے ہوئے ایک دوسرے سے ناواقف اور اکتائے ہوئے پھرتے ہیں۔ ایک کمرے میں موجود چار افراد جن میں میاں بیوی اور دو بچے شامل ہوتے ہیں ایک ساتھ ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے حالات و خیالات سے انجان، ہاتھ میں موبائل، ٹیب یا لیپ ٹاپ پر بیٹھے سارے جہاں کی خبر گیری میں مصروف ہوتے ہیں، پر ایک دوسرے سے لاتعلق رہتے ہیں۔

یہی حال خواتین کا ہے۔ ان کو سوشل میڈیا میں موجود تمام بحث اور کمنٹس کا زیادہ صدمہ لاحق رہتا ہے ناکہ پاس بیٹھے بچے کا، جس کو ان کی آغوش اور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ میاں بیوی ایک دوسرے کو وقت دینے کے بجائے نام نہاد سوشل گروپ پر اپنا قیمتی وقت ضائع کرتے ہیں اور جہاں تک بات بچوں کی ہے تو یہ بچے تو ہیں ہی سوشل جنریشن۔ ان کو اگر والدین اور گھر میں موجود افراد کی توجہ نہ بھی ملے تو یہ با آسانی ان سائنسی آلات پر اپنا ٹائم پاس کر لیتے ہیں چاہے ان کی عمر چھ ماہ ہی کیوں نہ ہو۔

پر اس سارے قصے میں ہمارا انسان ہونا کہاں کھو گیا۔ کیا یہ ہی زندگی کے قوائد و ضوابط ہیں جو ہم نے اس دور ِحاضر میں خود پر طاری کیے ہوئے ہیں؟ کیا یہ ہے مقصدِ حیات کہ ہم مشینوں کو ایجاد کرتے کرتے اور ان کو اپنی آسانی کے لئے استعمال کرتے کرتے خود مشینی آلات کی طرح بے حس اور جذبات سے عاری ہوجائیں؟ نہیں، ان ایجادات کا مقصد ہر گز انسان کو روبوٹ بنانا نہیں تھا بلکہ انسان کو آسانیاں فراہم کرنا تھا تاکہ وہ اپنے خاندان اور عزیز و اقارب سے میل کر سکیں اور ایک بہتر خاندانی نظام قائم کر سکیں۔

سوشل میڈیا اور اس جیسے تمام محرکات انسان کی قدر و قیمت کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ شاید اب دیر ہوچکی ہے یا ہونے والی ہے اس بات کا تو علم نہیں پر اس بات کا خوف ضرور ڈرا رہا ہے کہ آنے والی نسل جس میں ہماری اولاد شامل ہو گی، کیا ہمیں اور ہمارے وجود کو برداشت کر پائیں گی؟ جس طرح کم و بیش ہم کرتے آئے ہیں؟ کیا سارا قصور صرف اس سوشل میڈیا کا ہے یا ہم نے ہی خود کو بری الذمہ سمجھ کر سارا ملبہ معاشرے اور اس کے بڑھتے ہوئے رجحانات پر ڈال دیا ہوا ہے؟

اگر ایسا ہے تو ہم والدین کو سمجھ لینا چاہیے کہ ہم سوشل میڈیا کی سستی شہرت کے لئے اپنا قیمتی اثاثہ قربان کررہے ہیں۔ ہم ان فرائض سے غفلت برت رہے ہیں جو رب تعالی کی طرف سے ہم پر لاگو کی گئی ہے۔ والدین کی دیکھ بھال سے لے کر بیوی بچوں کے حقوق تک خاندان کی خیر خواہی، بچوں کی تربیت اور حقوق اللہ اولین ترجیح قرار دی گئی ہے۔ اسی طرح عورت پر لازم ہے کہ گھر اور گھر داری اور بچوں کی تربیت سے لے کر خاندان کی دیکھ بھال اور حقوق اللہ کی پابندی کو اول ترجیح دیں۔

یہ جو رشتے اللہ کی طرف سے ہم کو دیے گئے ہیں بڑے انمول اور قیمتی ہیں۔ اپنوں کے جانے کے بعد اپنوں جیسا کوئی نہیں ملتا۔ اپنے والدین، بہن، بھائی اور رشتہ داروں کے ساتھ بتائے ہوئے لمحات بڑے یاد گار ہوتے ہیں۔ دھوپ ہو، چھاؤں ہو، یہ اپنے ہی ہوتے ہیں جو ہمارے آس پاس منڈلاتے ہیں۔ جب ہم پر افتاد آن پڑتی ہے، یا ہم زندگی موت کی کیفیت سے نبرد آزما ہوتے ہیں تو یقین جانیاے یہ خونی رشتے ہی ہوتے ہیں جو سجدہ ریز ہوکر دعائیں کرتے ہیں۔ عام حالات میں ہمارے مراسم کیوں نہ خراب رہے ہوں لیکن جب ہمیں تکلیف میں دیکھتے ہیں تو کھینچے چلے آتے ہیں کیونکہ اپنے تو اپنے ہوتے ہیں۔

اس لئے آپ سب سے ایک درخواست ہے کہ اپنوں کو نظر انداز نہیں کیجیے۔ ادھر اُدھر دوست ڈھونڈنے کے بجائے اپنے گھر میں اور گھر والوں میں اپنا رفیق ڈھونڈیے۔ ماں باپ کو وقت دیجیے۔ ان کی ادھوری باتوں کو سنیے۔ ان کا ہاتھ تھام کر اپنے وجود کا لمس دیجیے۔ اپنی بیوی اور بچوں میں اپنا ساتھی تلاش کیجیے۔ اپنے شوہر کو اپنی سہیلی کی طرح اپنا سمجھیے۔ یقین جانیے خوابوں سے زیادہ زندگی خوبصورت اور گلزار ہوجائے گی۔ تخیل نے ہم کو ایک گھر دیا ہے جہاں اپنوں کی دھوپ چھاؤں جیسی محبتیں اور رنجشیں بسی رہتی ہیں۔ جہاں ماں راہ تکتی ہے، باپ ہر روز زندگی کا ایک نیا سبق سکھاتا ہے ”بہنیں لاڈ اٹھاتی ہیں، بھائی خیال رکھتے ہیں، بیوی ناراض بھی ہو تو مشکل میں ساتھ دیتی ہے، بچے زندگی اور شرارت سے بھرپور آنگن میں دوڑتے پھرتے ہیں۔ یہی زندگی کی علامت ہے اور یہ ہی ہمارا سوشل حلقہ اور پہچان ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •