پسماندہ علاقوں میں ’’انصافیوں‘‘ کا راج


(تحریر : شمس الرحمن کوہستانی۔)

\"shams-ur-rehman\"

یہ وہ ارض و کوہستاں ہے جہاں معدنیات ، جنگلات، جڑی بوٹیاں ،زرعی اجناس، برقی پیداوار، سیاحت اور قدرتی حسن کی بہتات تو ہے مگر حکمرانوں کی دلچسپی نہیں۔ اُن کی دلچسپی ہے توذاتی مالی معاملات و مفادات میں جہاں سے انہیں اگلے الیکشن کیلئے کمائی ملے ۔ پسماندہ علاقوں کے پوشیدہ خزانے اور وسائل یہاں کے غریبوں کی زندگیاں بدلنے کی ضمانت ہیں، مگر نااہل حکمرانوں نے اب تک ان وسائل کو بروئے کار لانے کا شاید سوچا بھی نہ ہو۔ صوبۂ خیبر پختونخواہ کے عوام اپنی زندگیوں میں تبدیلی کی امید پر تحریک انصاف کی حکومت کا جشن منا رہے تھے، مگرپولیس اور تعلیم کے علاوہ دیگر زندگی کے مسائل جوں کے توں ہیں۔ پسماندہ علاقوں کی بیوروکریسی ’’سب اچھا ہے‘‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور جواب طلبی کے مواقع پر غلط بیانی سے ایک پل بھی نہیں کتراتی۔ ڈھٹائی کی انتہا یہ ہے کہ گزشتہ روزایک پسماندہ علاقے پٹن (کوہستان) میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ پرویز خٹک نے متعلقہ ضلعی انتظامیہ سے صحت کے مسائل پر پوچھا اور ڈی ایچ او نے ’’سب اچھا ہے‘‘ کی رٹ لگائی، تو پی ٹی آئی ہی کے ایک کارکن نے داسو کے ہسپتال میں انجکشن اور دوائیاں نہ ہونے کی شکایت کرکے کچا چٹھا کھول دیا۔ گو کہ سوال حقیقیت پر مبنی نہ سہی مگر اس اہم معاملے کا وزیراعلیٰ نے نوٹس لے لیا۔ اس پسماندہ صوبے کے دورافتادہ علاقے میں ’’انصافیوں‘‘ کی حکمرانی میں بدعنوانی کے سنگین الزامات لگ رہے ہیں اور نوکریاں بکنے کی گواہی خود تحریک انصاف کے کارکن دے رہے ہیں۔ ٹھیکوں میں اقرباء پروری اور گھپلوں کی بھی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ اس حقیقت کا اظہار آج پٹن کے سرکٹ ہاوس میں خود ’’انصافیوں‘‘ نے اپنی حکومت کے سامنے کھل کر کیا۔

صحت اور تعلیم کے مسائل پر جب راقم نے صوبے کے چیف ایگزیکٹیو سے سوال کرنے کی سعی کی تو ساتھ بیٹھے مشیروں نے ٹال دیا اور جواب نفی میں سرہلا تے ہوئے ملا۔ راقم صحافی ہونے کے ناطے عوامی مسئلے پر خاموش نہیں رہ سکتا۔ وقت کے حکمرانوں سے سوال کرنا فرض ہے چاہے قیمت کچھ بھی چکانی پڑے! ہماری بچیوں کے مسقبل کے ساتھ کھلواڑ کرنے اور ہماری ماؤں بہنوں کو سہولیات سے محروم رکھنے والوں کو بے نقاب کیا تو صوبے کے چیف ایکزیکٹو نے نوٹس لیتے ہوئے فوری رپورٹ طلب کی۔ یہ عجیب بات ہے کہ جب کوئی مسئلہ بیان ہو گا تو ہی ایکشن لیاجائیگا۔ یہ حکام جو سالہا سال ہمارے پبلک ٹیکس پر تنخواہ لیتے ہیں اُن کا کام عوامی مسائل کا ادراک ہے جس کا ان میں سے بیشتر کو علم ہی نہیں۔ کئی تو صرف تنخواہ لینے پسماندہ علاقوں میں آتے ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ ہم نے جن لوگوں کو منتخب کیا ان کا محور اپنی ذات ہے اور انہیں عوام کی بہت کم فکر ہے۔ یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ کوہستان کی تاریخ میں پہلی بار پٹن اصلاحی کمیٹی نے اتفاق کی صورت میں دو ممبران اسمبلی چنے جن کا نصب العین دو ہی مقاصد تھے: ایک پورے کوہستان کو بجلی کی فراہمی اور دوسرا لوئیر کوہستان کا قیام۔ تاحال دونوں مقاصد ادھورے ہیں۔ اگر آزاد تجزیہ کیا جائے تو عوام کی اکثریت منتخب نمائندوں کی کارکردگی سے نالاں ہے اور ہر کوئی بیزار نظر آتا ہے۔ منتخب نمائندوں کا اپنی اصلاحی کمیٹی کو بھی ’’بائی پاس‘‘ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ جو سپاسنامہ تیار کیا گیا اس پر مقامی لوگوں نے جلسے کے بعداعتراضات اُٹھائے۔

خیر یہاں بات پسماندہ اضلاع اور دیہی علاقوں کی محرومیوں کی ہے۔ عمران خان نے بارہا کہا کہ سڑکوں کی تعمیر سے کمیشن بنتے ہیں قومیں نہیں بن سکتیں۔ ان کا موقف رہا ہے کہ سرمایہ اپنی قوم پر لگائیں۔ مگر پسماندہ اضلاع میں اُن کی حکومت نے انسانوں پر بھی سرمایہ کاری نہیں کی۔ یہاں پر فنڈز واپس عوامی خزانے میں جمع ہوجاتے ہیں اور استعمال ہونے کی نوبت ہی نہیں آتی۔ مقامی لوگوں کا موقف ہے کہ جو فنڈز استعمال ہورہے ہیں وہ اُن کے چہیتوں کے ذریعے ہورہے ہیں جنہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ یہاں پر میرٹ اور انصاف کہاں؟ گزشتہ روز پٹن کے بڑے جلسے سے قبل وزیراعلیٰ کو اپنے سابق ساتھی اور حکومت کے موجودہ سینئر وزیر سکندر شیرپاؤ کے اعلان کی زیادہ فکر ہوئی اور انہوں نے اُس کے اعلان کی تکمیل کیلئے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ نہروں پر زیادہ پیسے لگائیں جس سے زیادہ زمینیں آباد ہوں۔ ڈپٹی کمشنر کو حکم دیا گیا کہ بلدیات کو جو 80 کروڑ روپے ملے ہیں وہ اُن کے قریبی دوست اور کوہستان سے سابق ایم این اے کی مشاورت سے استعمال کئے جائیں۔

 شائد انصاف کی راج نیتی کو صرف تصویر کا ایک رُخ دکھایا گیا ہے۔ خٹک صاحب شاید بھول چکے ہیں پسماندہ ضلع کوہستان کی دیگر چھتیس یونین کونسل بھی ہیں جن میں بسنے والوں کے بھی مسائل ہیں۔ آپ نے تیسری بار پٹن کا دورہ کیا، آپ نے بڑے بڑے اعلانات بھی کئے، آپ نے ہائی سکول پٹن کو سکینڈری سکول کا درجہ دیکر احسن اقدام کیا، آپ وہاں پر سڑکیں بھی بنائیں، آپ پٹن کو گل و گلزار کردیں ہم آپ کے احسان مند ہیں کیونکہ پٹن بھی ہمارا ہے، مگر دیگر علاقوں کو بھی توجہ دینا آپ کا فرض ہے یا نہیں؟ کیا آپ کے علم میں نہیں کہ یہاں سیلاب اور زلزلوں نے بستیاں اُجاڑ دی ہیں؟ آپ کو نہیں معلوم کہ یہاں ملبے میں دبے بائیس افراد کی جگہ کو حکومتی بے بسی کے باعث اجتماعی قبرستان قراردے دیا گیا ہے؟ کیا آپ نہیں جانتے کہ یہاں کوئی کالج یونیوسٹی فعال نہیں اور یہاں کا بچہ بچہ سکول کی فیس کو ترستا ہے؟ آپ کو نہیں معلوم کہ یہاں کی عوام بجلی سے محروم ہیں؟ آپ کو نہیں معلوم کہ بنکڈ، رانولیا، دوبیر، کولئی ، پالس، جلکوٹ ،شناکی ، کندیا ، سیو، کیال ، پٹن اور جیجال کے سیلاب متاثرین بے یار ومددگار ہیں اور بنیادی انسانی ضروریات سے محروم ہیں؟ آپ کو نہیں معلوم کہ یہاں میٹرک کے بعد نوجوان مزدوری پر مجبور ہیں اور ان کی اعلیٰ تعلیم کیلئے درس گاہیں نہیں؟ آپ کو نہیں معلوم کہ اس جدید دور میں بھی یہاں کی جدید نسل ٹیکنیکل ایجوکیشن سے محروم ہے؟ آپ کو شاید نہیں معلوم کہ ہماری مائیں اور بہنیں لیڈی ڈاکٹرز کیلئے ترس رہی ہیں اور پیچیدہ امراض میں علاج معالجے کی سہولت نہ ہونے کے باعث بیچ راستوں جان دے بیٹھتی ہیں؟ آپ کو نہیں معلوم کہ ہماری بچیاں تعلیم سے محروم ہیں؟ آپ کو نہیں معلوم کہ پسماندہ علاقوں کی پگڈنڈیاں، راستے اور سڑکیں ملیامیٹ ہیں؟ آپ بخوبی جانتے ہیں داسو ڈیم میں متاثرین اپنی جائیدادوں سے محروم ہورہے ہیں، اُن کے انتہائی جائز مطالبات ہیں جن کی جانب آپ سنجیدگی سے توجہ نہیں دے رہے؟ یہاں کے دو ممبران اسمبلی ہیں جن میں سے ایک ’’شیر‘‘ کا شیدائی ہے جوآزاد منتخب ہو کر ’’شیر‘‘ کا ہوگیا جب کہ دوسرا قوموں کی لڑائی میں مصروف ہے۔ اگر آپ اچھے حکمران ہیں اور حقیقی منصف ہیں تو آپ اس قوم سے خود انصاف کریں اور اس کے لئے آپ کو ان کے مسائل کا ادراک ہونا چاہیے ۔آپ حق حکمرانی ادا کریں ورنہ آپ کا حال بھی ماضی کے سیاست دانوں جیسا ہوگا۔

آپ میری اس ناقص تحریر کو اپنے لئے تنقید نہیں اصلاح سمجھئے گا! میرا خدا گواہ ہے اس کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد نہیں! یہ ہر پسماندہ علاقے کے فرد کی پکار ہے۔

کسی نے کیا خوب کہا تھا،
بے نام سے سپنے دکھلا کر       اے دل ! ہرجائی نہ پھسلا کر
یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا      اے چاند یہاں نہ نکلا کر۔
ناں ڈرتے ہیں ناں نادم ہیں         ہاں کہنے کو وہ خاد م ہیں
یہاں الٹی گنگا بہتی ہے             اس دیس میں اندھے حاکم ہیں
یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا       اے چاند یہاں نہ نکلا کر۔

اللہ ہمارا حامی وناصر ہو۔ آمین۔

Facebook Comments HS