میں رحم کیوں کروں


میری روٹین لائف بہت سادہ، بہت آسان تھی۔ میں آسائشوں کی عادی رہی۔ ہر چیز پلیٹ میں رکھ کر ملی۔ مجھے کبھی چیزوں کے لئے ترسنا نہیں پڑا۔ میرے والد ایک امیر آدمی تھے سو مجھے کبھی کسی چیز کے لئے پریشانی نہیں اٹھانا پڑی۔ سونے کا چمچہ منہ میں لے کر پیدا ہوئی۔ میں ایک امیر خاندان سے تعلق رکھتی ہوں سو میری شادی بھی ایسے ہی خاندان میں ہوئی جہاں دولت کی ریل پیل تھی۔ جہاں سہولتوں کا فقدان نہیں، آسائشوں کی فراوانی تھی۔

میرا وارڈروب مہنگے ترین ڈیزائنر ملبوسات سے بھرا رہتا تھا۔ میری زندگی میں سکون ہی سکون تھا۔ میری صبح چار بجے ہوتی اسے آپ سحری سے تعبیر نہ کرنا یہ وہ صبح ہے جسے آپ کے ہاں سہ پہر کہتے ہیں۔ مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ شادی کے بعد بھی میری روٹین میں فرق نہیں آیا مجھ پر کوئی گھریلو ذمہ داری نہیں تھی میں شام ڈھلے دوستوں کے ساتھ نکل جاتی، دوستوں میں مردو زن کی تفریق نہیں تھی میری زندگی میں سب جمع رہا منفی کچھ نہیں۔

کلب، ہوٹلنگ کے بعد رات دو بجے گھر واپسی۔ میرے شوہر کی بھی میرے جیسی روٹین تھی۔ ہم دونوں خوش تھے رات واپسی پر ہم دونوں فلم ضرور دیکھتے کبھی ایک دوسرے کے ساتھ اور کبھی اکیلے دوسروں کے ساتھ۔ میرے سارے ملازم کام چور تھے (میری نظر میں ) سو ان پر ہم نے بے تحاشا سختی رکھی۔ ملازمین کو کنٹرول کرنے کے لئے بھی ایک ملازم تھا جس کے فرائض میں غفلت برتنے والے ملازمین پر سختی کرنا تھا۔ کام چوروں کو جتنی بھی سخت سزا بھی دی جائے کم ہے۔

میں ایک بے حس انسان تھی اور مجھے اس پر کوئی شرمندگی نہیں تھی۔ بلکہ یہ بے حسی میرے سرکل میں سٹیٹس سمبل ہے۔ میں اپنی بڑی سی گاڑی میں بیٹھ کر ان تمام لوگوں کو حقارت سے دیکھتی جو میری طرف حسرت سے دیکھتے ہیں۔ اور ایسے لوگوں کو دیکھ کر میرا دل چاہتا ہے کہ انھیں اپنی گاڑی کے پہیوں کے نیچے روندتی گزر جاؤں اور مڑ کر بھی نہ دیکھوں۔ اور میں ایسے کتنے لوگوں کو روند بھی چکی۔ یہ لوگ گر کر خود ہی اٹھ چکے ہوں گے کہ ایسے چھوٹے لوگوں کو کچھ نہیں ہوتا اگر کوئی سیریئس ہو کر مر بھی گیا ہو گا تو کیا ہوا چلو بڑھتی آبادی سے ایک فرد کم ہوا۔

میری گاڑی سے ٹکرا کر کوئی مرا یابچا مجھے علم نہیں کہ میں نے کبھی ان چھوٹے لوگوں کو کبھی اس قابل نہیں جانا کہ انھیں پیچھے مڑ کر دیکھا جائے۔ اور میں ان پر رحم کیوں کروں، ترس کیوں کھاؤں، کیا ترس کھانے کو میں ہی رہ گئی۔ میں نے کبھی اپنے ملازمین پر بھی ترس نہیں کھایا تھا کہ ان پر اگر رحم کرو تو یہ سر چڑھ جاتے ہیں۔ ہڈحرام، کام چور، پیدائشی غلام یہ لوگ غلام پیدا ہوئے تھے اور غلام ہی مر جائیں گے۔ یہ میرا ان لوگوں کے بارے خیال تھا۔

جو میرے جیسا سٹیٹس نہیں رکھتے تھے وہ سارے لوگ مجھے کیڑے مکوڑے نظر آتے۔ مجھے اپنے ساس سسر ہمیشہ بوجھ لگے ان کا وجود ناقابلِ برداشت تھا۔ سو میں نے ان کے گھر کے اندر داخلے پر پابندی لگا دی یہ میرا ان پر احسان تھا کہ میں نے ان کو گھر کے پیچھے بنے اس کوارٹر میں جگہ دے دی جو میں نے اپنے ”پیٹ“ کے لئے بنوایا تھا

میرے ساتھ حادثہ ہوا جس نے میری زندگی بدل دی مجھے لگتا ہے میرا شمار بھی آج ان کیڑے مکوڑوں میں ہوگیا جس میں کل دوسرے شامل تھے۔ یہ حادثہ وقت کا ہے حادثۂ وقت نے مجھ سے میری ٹانگیں چھین لیں۔ میرا چہرہ اس قابل نہیں رہا کہ کوئی مجھ پر دوسری نظر بھی ڈالے۔ میرا شوہر جو میرے حسن کے قصیدے پڑھتا تھا وہ خود مٹی میں جا سویا۔ وقت نے مجھے بصارت کی کمی بھی عطا کردی۔ میرے بچے میرے کمرے میں جھانکنا پسند نہیں کرتے جیسے کبھی میں اپنے شوہر کے والدین کو گھر میں دیکھنا پسند نہیں کرتی تھی۔

میرے بیمار ہونے پر مجھے ڈاکٹر کے پاس نہیں لے کے جایا جاتا۔ میں گھر کے ایک کونے میں فالتو سامان کی طرح رکھ دی گئی ہوں۔ جس پر وقت کی گرد جمتی جا رہی ہے۔ جانے کیسے میرے بچوں کے ملازم مجھے دو وقت کا کھانا ڈال جاتے ہیں۔ ان کا رویہ مجھ سے رحمدلانہ نہیں۔ مجھے لگتا ہے جیسے یہ سب مجھ سے انتقام لے رہے ہیں۔ میرے شوہر کا کاروبار اب میرے بیٹوں کا ہے میرے پاس اب کچھ نہیں صرف وقت ہے، تنہائی ہے، پچھتاوے ہیں۔ مجھے لگتا ہے یہ سب ملازم میری بے بسی کا مذاق اڑاتے ہیں جیسے کہتے ہوں ہم تم پر رحم کیوں کریں؟

کاش میں نے بھی کسی پر رحم کیا ہوتا یہ سوچ کر کہ آج گزر جائے گا کہ آج ہمیشہ آسان ہوتا ہے مشکل تو آنے والا وقت ہوتا ہے جسے ہم آسان بنا سکتے ہیں۔ مستقبل کو مشکلات سے بچانا بہت آسان ہے صرف خود کو اس قابل بنادیں کہ دوسروں کے لئے آسانیاں پیدا کرکے اپنی مشکلات ختم کی جا سکتی ہیں۔ اگر میں نے آسانیاں بانٹی ہوتیں تو یقیناً مجھے میرے ہی الففاظ لوٹائے نہ جاتے کہ میں رحم کیوں کروں؟

Facebook Comments HS