”ہدایت“ کے منتظر مولانا!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں پانچویں برانڈ کا سیاسی دھرنا ہونے جارہا ہے۔ تازہ ترین معلومات کے مطابق اس ”فیز“ میں ہوسکتا ہے یہ دھرنا محض سیاسی جلسہ ہو اور پھر مستقبل قریب میں اسے دھرنے کی شکل دی جائے۔ مولانا فضل الرحمن چوتھی دھرنے باز سیاسی قوت کے طور پر ابھر رہے ہیں اور ماضی قریب کے دو دھرنے بتاتے ہیں کہ طویل مدتی دھرنابہت مشکل ہے بلکہ دو سال پہلے طویل مدتی دھرنے پر کروڑوں روپے خرچ ہوتے تھے۔ چونکہ ڈالر بہت اوپر جاچکا ہے اس لئے اب طویل مدتی دھرنے کے لئے اربوں روپے درکار ہوں گے۔

مولانا فضل الرحمن کے دھرنے سے پہلے جماعت اسلامی کا ”منصورہ برانڈ“ دھرنا مشہور ہوا کرتا تھا لیکن پھر علامہ طاہر القادری نے اس ”خلاء“ کو پُر کیا اور پیپلزپارٹی کی حکومت کے خلاف دھرنا دے کر اپنی ”دھرنا قوت“ کا لوہا منوالیاتھا اور اس کے بعد 2014 ء میں ان کی ”خدمات“ لی گئیں اور اس بار انہوں نے اپنے 22 کارکن شہید کروا کر 76 دن کا دھرنا دیا۔

میاں نواز شریف کی حکومت میں تیسری قسم کا دھرنا بھی منظر عام پر آیا اور اس دھرنے میں مولانا خادم حسین رضوی نے سربازار اجتماعی ”تبرہ آزمائی“ کے زبردست مظاہرے کرکے گفتگو میں گالم گلوچ کرنے والے شہریوں کے دل میں گھر کرلیا تھا۔ مولانا خادم حسین رضوی نے اپنے اس دھرنے سے ”مطلوبہ نتائج“ حاصل کرلئے تھے جبکہ ان کے حریف مولانا اشرف جلالی نے ”مطلوبہ نتائج“ حاصل کیے بغیر ہی میدان خالی کردیا تھا۔ جماعت اسلامی سے لے کر تحریک لبیک اور پھر عوامی تحریک کے دھرنے تک تینوں ہی مذہبی سیاسی دھرنے تھے جبکہ تحریک انصاف کا دھرنا مکمل طور پر سیاسی تھا اور اسی دھرنے کی ”کرامت“ سے عمران خان آج وزات عظمیٰ کے منصب پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا یہ ریکارڈ ہے کہ اس نے اپنی پانچ سالہ مدت میں تین دھرنوں کا سامنا کیا۔

اگر ان دھرنوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو سب دھرنا باز سیاسی قوتوں نے اپنا اپنا معاوضہ کسی نہ کسی شکل میں وصول کرلیا تھا۔ جماعت اسلامی کو اپنے دھرنے کے فیض سے اسلامی جمہوری اتحاد اور پھر مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں ”حصہ بقدر جثہ“ مل جایا کرتا تھا جبکہ تحریک لبیک کے دھرنے کے اختتام پر عوام نے نوٹ تقسیم ہوتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے۔ اسی طرح علامہ طاہر القادری کے دونوں دھرنوں کے معاوضوں بارے اسلام آباد میں مختلف کہانیاں بتائی جاتی ہیں بہرحال ان کا مطمئن ہونا بتاتا ہے کہ وہ اپنا معاوضہ وصول کرچکے ہیں۔

جبکہ تحریک انصاف اقتدار کی صورت میں دھرنے کی کمائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ اب مولانا فضل الرحمن 27 اکتوبر کو پانچویں سیاسی دھرنے کے لئے بھرپور تیاریاں کر رہے ہیں اس سلسلے میں ان کے کارکن بے دریغ فنڈز اکٹھے کر رہے ہیں۔ یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) مولانا فضل الرحمن فنڈز تو دل کھول کر دے رہی ہیں لیکن حمایت سے ذرا ہاتھ کھینچ رکھا ہے۔

مولانا فضل الرحمن مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کا اگر چہ ٹارگٹ حکومت کو گرانا ہے لیکن تینوں سیاسی قوتیں ایک دوسرے کو استعمال کرنے کے گُر بھی آزما رہی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ مولانا فضل الرحمن کا دھرنا اگر ”زوداثر“ ثابت ہوا تو کچھ مدت کے بعد وہ بذات خود یہ کام کرکے حکومت پر کاری ضرب لگائیں گے اور مولانا فضل الرحمن کو یہ بھی باور ہوجائے گا کہ دونوں بڑی سیاسی قوتوں کے بغیر وہ کامیاب نہیں ہوسکتے۔

دوسرے اور تیسرے فریق کی سیاسی قوت کو استعمال کرنے کا فن مولانا فضل الرحمن خود بھی بہت اچھی طرح جانتے ہیں، سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ مولانا فضل الرحمن دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی صرف زبانی کلامی حمایت کے ذریعے اپنے کارکنوں کے ساتھ بھرپور احتجاجی دھرنا دے کر یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ گرفتاریاں کرنے والی حکومت کے خلاف صرف مولانا فضل الرحمن ہی کلمہ حق بلند کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں اور ”دھرنا گریز قوت“ سے اپنا مفادات بھی حاصل کرسکتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمن کے دھرنے پر ”غیرسیاسی“ وزیرداخلہ اعجاز شاہ مسلسل بیان بازی کر رہے ہیں۔ وزیرداخلہ کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمن 27 اکتوبر کو یا تو اسلام آباد نہیں آئیں گے اوریا پھر نہیں آسکیں گے۔ وزیرداخلہ کے بیان کی گہرائی بتاتی ہے کہ یا تو مولانا فضل الرحمن خود ہی حالات کا جائزہ لے کر اسلام آباد آنے سے گریز کریں گے اور یا پھر حالات ایسے پیدا کردیے جائیں گے کہ وہ اسلام آباد آہی نہیں سکیں گے۔

وزیرداخلہ اعجاز شاہ نے یہ بھی کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کو جلد ”ہدایت“ آجائے گی۔ وزیرداخلہ کے اس بیان سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت یہ سمجھتی ہے کہ مولانا فضل الرحمن ”بے ہدایتے“ ہیں جبکہ جو لوگ مولانا فضل الرحمن کے طرزِ سیاست کو سمجھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن مذہبی طور پر اللہ کی ہدایت پر یقین رکھتے ہیں جبکہ سیاسی طور پر ان کا ایمان راولپنڈی اور آبپارہ سے آنیوالی ”ہدایت“ پر ہوتا ہے۔

اسلام آباد میں یہ چہ میگوئیاں ہورہی ہیں کہ مولانا فضل الرحمن کا دھرنا یا تو راولپنڈی اور آبپارہ سے لی گئی ”ہدایت“ پر ہورہا ہے اور یا پھر مولانا فضل الرحمن چاہتے ہیں کہ ”ہدایت“ دینے والی قوت ان سے براہِ راست بات چیت کرے اور پھر یہ مولانا فضل الرحمن کی مرضی ہے کہ وہ اس ”ہدایت“ پر عمل کریں یا نہ کریں۔ مولانا فضل الرحمن اپنی سیاسی قوت کا مظاہرہ کرکے یہ بھی چاہتے ہیں کہ انہیں اسی طرح پاس بلا کر ”ہدایت“ دی جائے جس طرح تحریک انصاف کی قیادت کو دی گئی تھی۔

مولانا فضل الرحمن یہ بھول رہے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کو تو اللہ نے کافی عرصہ پہلے ہدایت سے نواز دیا تھا اس لئے وہ اب دوستیوں کی بجائے شادیوں پر بھرپور یقین رکھتے ہیں اور رہی سہی کسر خاتون اول محترمہ بشریٰ بی بی کی ”کرامت“ نے پوری کردی ہے۔ مولانا فضل الرحمن جس مسلک سے تعلق رکھتے ہیں ان کا پیروں فقیروں پر ویسے ہی ایمان نہیں اس لئے آصف علی زرداری مولانا کو اپنا پیر اعجاز نہیں دیں گے اور نہ ہی مولانا پیر اعجاز کو ادھار مانگیں گے۔ اسلام آباد میں تاجروں نے دھرنے کا ٹریلر تو چلا دیا ہے ہوسکتا ہے مولانا دھرنے کی پوری فلم لے کر آ رہے ہوں۔

مولانا فضل الرحمن کے احتجاجی دھرنے کے لئے نغمے بھی تیار کیے گئے ہیں۔ دیوبند مسلک سے تعلق رکھنے والے سنجیدہ علماء ہوسکتا ہے ان نغموں کے بعد مولانا کے خلاف علم بغاوت بلند کردیں۔ البتہ ابھی 27 اکتوبر میں 17 دن باقی ہیں اور اس دوران مولانا کو اگر ”مطلوبہ مقام“ سے ہدایت آگئی تو پھر ساری تیاریاں دھری کی دھری رہ جائیں گی۔ مولانا فضل الرحمن ”مقام ہدایت“ کے اشارۂ ابروکے کے منتظر ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شمشاد مانگٹ

شمشاد مانگٹ گذشہ 25برس سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ منسلک ہیں۔اس وقت بطور گروپ ایڈیٹر روزنامہ جناح اور آن لائن نیوز ایجنسی کے ساتھ کام کر رہے ہیں

shamshad-mangat has 55 posts and counting.See all posts by shamshad-mangat