یہ لوگ جینے کیوں نہیں دیتے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان زند گی گزارنے کے لئے خود نہیں آتا بلکہ بھیجا جاتا ہے۔ اور ز ندگی گزارنا کو ئی آسان کام نہیں ہے۔ اس کو گزارنے کے لئے ہمت، حو صلہ در کار ہا ہوتا ہے۔ زند گی گزارنا کو ئی آسان عمل نہیں ہے بلکہ یہ نہایت ہی دشوار اور کٹھن عمل ہے۔ اس ز ند گی کا ایک سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس کے مسئلے کبھی حل نہیں ہو تے۔ ایک مسئلہ حل ہو تا ہے تو دوسرا اسی وقت اپنا سر اُٹھا لیتا ہے۔ اور انہی مسائل کے بیچ انسان اپنی ز ند گی کے شب و روز گزار دیتا ہے۔

یہ ز ند گی تب ز یا دہ مشکل محسوس ہو تی ہے جب آپ کے ارد گرد کے لوگ اس کو مشکل تر ین بنا نے میں لگے ہوں۔ جی ہاں وہی لوگ جو ہمیشہ اپنے منفی رو یے، اپنی سوچ کو آپ کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر تے ہیں۔ جیسے ہی انسان بچپن کی حسین وادی سے شعور کے گہر ے جنگل میں قدم ر کھتا ہے تو لوگوں کی رائے آپ کے لئے مسئلے پیدا کر نا شروع کر دیتی ہے۔ آپ کے سوشل اسٹیٹس، آپ کے مذہب، آپ کے خاندان، آپ کی خو بصورتی یا بد صورتی سب کچھ سے لوگ آپ کو آگاہ کر دیتے ہیں۔

بلکہ آپ کو اپنی ہر چیز سے آشنائی لو گوں کے ذریعے ہی ہو پاتی ہے۔ لو گ آپ کو یہ بتا نا شروع کر دیتے ہیں کہ پڑ ہا ئی ایسی ہو نی چاہیے کہ جس میں آپ بہتر ین نمبرز یا پھر گریڈز لے سکو۔ بغیر گریڈز کی کی ہو ئی پڑ ہائی آپ کو کبھی بھی بہتر ین مستقبل نہیں دے سکتی۔ اور انسان اُنہی گر یڈز کے پیچھے خوار ہو تا رہتا ہے۔ اس لئے تو ہم کبھی بھی پڑ ہائی بہتر ین انسان بننے کے لئے نہیں بلکہ بہترین نو کر ی کے لئے کر تے ہیں۔

اسی لو گوں کی دئی ہو ئی گر یڈز کی الجھن کی و جہ سے بچہ پڑ ہائی کر تا رہتا ہے۔ اگر اے گریڈ لے تو سب میں واہ واہ ہو تی ہے اور اگر صرف پاس ہو جاے تو کند ذہن ہو نے کے طعنے دیے جا تے ہیں۔ سکول پورا کر کہ جب کا لج کا ز مانہ آتا ہے تو لو گ حساب لگا لیتے ہیں کہ ”بے چارے کو گورئمنٹ کا لج میں داخلہ ملا ہے ضرور آمدن کم ہو گی و رنہ شہر بھرا پرا ہے بہتر ین پرا ئیوٹ کالجز سے۔ اور یہ پڑ ہائی کی پو چھ گچھ کا آخری سٹاپ ہو تا ہے کہ یو نیورسٹی کو نسی ہے اور پھر جی پی کیا آیا۔

تو اس سارے عمل میں بچہ صرف اور صرف اپنی اور خاندان والوں کی ناک اُونچی ر کھنے کی و جہ سے ہی تعلیم حاصل کر تا ہے۔ کیو نکہ اس کو با ربار صرف یہی باور کر وایا جاتا ہے کہ اچھی تعلیم ہی اچھی نو کر ی دے گی اور اچھی نو کر ی سے ہی تمہارا بہتر ین مستقبل جڑا ہوا ہے۔ لو گوں کو بات کر نے کا مو قع نہ ملے اور خاندان والوں کی ناک اونچی ر ہے۔ بچہ تعلیم اچھا انسان بننے کے لئے نہیں بلکہ لو گوں کے منہ بند کر نے کے لئے کر تا ہے۔

تعلیم مکمل کر نے کے بعد نو کر ی کا دور شروع ہو جاتا ہے۔ سب سے پہلے تو نو کری کہاں ملے گی اور ابھی تک کیوں نہیں ملی۔ وہ شیخ صاحب کے بیٹے نے بھی تو تمہارے ساتھ پڑ ہائی مکمل کی تھی اس کو تو ایک لاکھ کی نو کر ی مل گئی ”پھر تمہیں کیوں نہیں مل ر ہی۔ وہ تمام سوال رو زانہ کی بنیاد پر پو چھے جاتے ہیں کہ جن پر خود انسان کا اپنا اختیار نہیں ہو تا۔ اللہ اللہ کرکہ نو کری ملتی ہے تو تنخواہ کا مسئلہ اُٹھا لیا جا تا ہے۔

اور یہ بحث ہر جانب ہو نا شروع ہو جاتی ہے کہ جتنے پیسے تم نے اپنی پڑھائی پر لگا ئے تھے اُتنی اچھی تو نو کر ی ملی نہیں۔ اس لئے نو کر ی کی خوشی بھی انسان کی غارت ہو جاتی ہے کیو نکہ لوگ نہ خود خوش ہو تے ہیں اور نہ کسی اور کو خوش ہو نے دیتے ہیں۔ اگر نو کری چلی جاے تو لوگ سوال پو چھ پو چھ کر جینا حرام کر دیتے ہیں کہ ”بھئی آگے کی بتاؤ کیا سین ہے“ کیا سو چا ہوا ہے ”کہیں ڈٖھونڈ ر ہے ہو؟ مطلب کہ سوال اتنے کہ جواب دینا مشکل۔

اگر نو کر ی جانے کے بعد بھی آپ ہنستے مسکراتے اور مطمئن ہیں تو لو گوں کو آپ کی ذہنی حالت پر شک ہو نے لگ جا تا ہے کہ یہ انسان اتنا خوش کیوں؟ پھر آپ کے بارے میں رائے رکھ لی جاتی ہے کہ یہ اپنی نو کری کو لے کر سنجیدہ نہیں ہے اس کو فرق ہی نہیں پڑتا۔ اور اگرآپ نو کری جانے پر دکھی ہو ں تو لوگ آپ سے پیچھا چھڑانے لگ جاتے ہیں کہ کہیں یہ ہمیں ہی نو کری کا بو ل کر مصیبت میں نہ ڈال دے۔ اب نو کری سے بات نکل کر آپ کی نجی زند گی کے سب سے بڑ ے ”کام یعنی کہ شادی پر آجاتی ہے۔

اگر آپ کی شادی کم عمری میں ہو گئی ہے تو لوگ آپ کا جینا تھوڑا کم محال کر یں گے۔ لیکن اگر ابھی تک شادی کا فیصلہ نہیں لیا گیا تو پھر ایسے ایسے سوالات ہو نگے کہ انسان کو لگتا ہے کہ بھئی ”سانس بھی بعد میں ہی لونگا پہلے شادی کر لوں“۔ شادی کے بعد بچے اور پھر کم بچے کیوں کیے؟ یا زیادہ کیوں کیے۔ لڑ کے ہی پیدا کیے جا رہے ہو بیٹی بھی نعمت ہے اس کو بھی تمہاری فیملی کا حصہ ہو نا چاہیے۔ مطلب کہ بندا سو چنا شروع کر دیتا ہے کہ جیسے خود ہی اس نے بچے کی جنس کا تعین خود کیا ہے؟

پھر بچوں کا سکول کو نسا اور پھر یہ سلسلہ تب تک چلتا ر ہتا ہے جب تک انسان اس دنیا سے رخصت نہیں ہو جا تا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ لوگ کچھ بھی بولیں آپ کو وہی کر نا ہے جو آپ کر نا چاہتے ہیں۔ آپ کو تمام اُن لو گوں کو اپنی ز ند گی سے نکا لنا ہے جن کی باتیں آپ کی زند گی کو مزید مشکل کر رہی ہیں۔ دوسروں کی رائے کو اتنی اہمیت نہ دیں کہ آپ کو اپنی زند گی سے ہی بے زاری محسوس ہو نے لگ جاے۔ یہ سچ ہے کہ سب انسان ایک دوسرے سے جس طرح شکل و صور ت میں مختلف ہیں ایسے ہی نصیب میں بھی مختلف ہیں سب کے اپنے نصیب، اپنی منزل ہے۔

ہمارے ہاں لوگ ساری زند گی ہی دوسروں کو ڈسکس کر تے گزار دیتے ہیں کیو نکہ اُن کا مقصد صرف اور صرف اپنی باتوں سے دوسروں کو دکھ دینا ہو تا ہے۔ مگر قصور ہمارا ہوتا ہے کہ ہم کسی کی بات کو اتنی اہمیت کیوں دیتے ہیں کہ وہ جب چاہے اپنے الفاظ سے ہماری زند گی اجیرن کر دے۔ یہ ز ندگی آپ کی ہے اور اس کو آپ کے مطا بق ہی گزرنا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •