کاش دنیا گول نہ ہوتی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کتنے اچھے دن تھے وہ جب برسوں بعد کوئی پرانا شناسا راہ چلتے ملتا، دونوں تپاک سے گلے ملتے، پرانی یادیں تازہ ہوتیں، دوبارہ رابطے میں رہنے کا عہد باندھا جاتا اور اس تشنہ ملاقات میں ایک جملے سے ضرور رنگ بھرا جاتا کہ ”یار! یقین آہی گیا کہ دنیا گول ہے، بچھڑنے والے واقعی کبھی نہ کبھی ضرور آملتے ہیں“۔ لیکن بھلا ہو ٹیکنالوجی کی ترقی کا، جس نے لوگوں کے لیے جو اَن گنت مسائل پیدا کیے، ان میں ایک بڑا مسئلہ یہ بھی آ ن کھڑا ہوا ہے کہ اب وہ لوگ بھی دوبارہ آملتے ہیں جن سے بچھڑتے وقت کبھی نہ چاہا تھا کہ ان سے پھر ملاقات ہو یا کہیں یہ صورت دیکھنے کو ملے۔

لیکن ذرا سوچیے اگر ایسے کسی تعلقِ بے زار سے من چاہی جدائی کے سالوں بعد کسی بھی سوشل میڈیا پر نوٹیفیکیشن کی بجتی گھنٹی کسیلی یادوں کی بارات سجا دے۔ کوئی بچھڑا رقیب، دانستہ بھلایا ہوا محبوب، پرانے دفتر کا کوئی جھکی ساتھی یا یونی ورسٹی اور کالج میں بار بار ٹانگ کھینچنے والا دوست نما دشمن سوشل میڈیا کے طفیل دوبارہ آپ کی زندگی میں شامل ہونے کا خواہاں ہو، ان باکس میں آپ کو اپنا یارِغار ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دے، پرانی تصویریں شیئر کر کر کے آپ کا جلا دل مزید کوئلہ کرنے پر مُصر ہو، آپ کی ایک ایک پوسٹ کو اپنا جان کر تندہی سے کمنٹس کر رہا ہو، آپ سے زیادہ آپ کی پوسٹ پر ایکٹیو ہونے کی کوششیں کر کے یہ جتانے کی کوشش میں لگا ہو کہ اس سے زیادہ آپ کا کوئی اپنا نہیں ہے، تو سچ بتائیے آپ کے دل پر کیا گزرے گی؟

میں بتاتی ہوں آپ کا کیا حال ہوگا۔ ماضی کی تلخ یادوں کی راکھ میں موجودہ لمحے کی ساری خوشیاں مٹیالی سی ہوجائیں گی۔ زندگی کرکرا سا مزہ دینے لگے گی۔ اور بے ساختہ دل سے نکلے گا کہ کاش یہ دنیا گول نہ ہوتی بلکہ چوکور یا مستطیل ہوتی تاکہ گھوم پھر کر یہ چہرے سامنے نہ آتے بلکہ اس تکون اور چوکور کے کونوں میں کہیں جا کے اٹک جاتے، بھول بھلیوں میں گم ہوجاتے۔ یوں پھر کبھی نہ دکھتے اور ہماری زندگی کی روانی میں کوئی فرق نہ لاتے۔ باقی رہ گئی دنیا تو اس کو بھلا گول اور چوکور سے کیا غرض؟

یہ وہ لوگ ہیں جو سالوں بعد دوبارہ آ بھی ملیں تو اپنی کمینگی سے باز نہیں آتے۔ زندگی کے تھپیڑوں نے ان کا کچھ نہیں بگاڑا ہوتا۔ کسی ٹھوکر سے انہوں نے کوئی سبق نہیں کھایا ہوتا۔ لیکن زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان سے محتاط رہنے کا کوئی بھی مستند طریقہ اب تک کوئی ایجاد نہیں کرپایا۔ اب اسے بدفطرت دوستوں کی خوش قسمتی کہہ لیں یا اپنی بدقسمتی کہ سوشل میڈیا کی بدولت ہر ایک کی ذاتی زندگی گویا بیچ چوراہے پر آچکی ہے۔

یہاں پرائیویسی نام کی کسی چڑیا کا گزر نہیں اور سوشل میڈیا کا یہی عیب ایسے لوگوں کے لیے کسی بیش بہا نعمت سے کم نہیں ہوتا۔ اسی خصوصیت سے فائدہ اٹھا کریہ آپ کی ٹائم لائن کی جاسوسی یوں کرتے ہیں جیسے دوست نہ ہوئے ”را“ کے ایجنٹ ہوگئے۔ تھوڑے ہی عرصے میں نہ صرف آپ کے احباب بلکہ خاندان والوں تک کا سراغ لگا لیتے ہیں اور بس اسی پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ ان سے دوستی کی پینگیں بڑھاکر آپ کی رپورٹیں لینا اور ماضی کے راز فاش کرکے کردارکشی کرنا اپنا اولین مشن بنالیتے ہیں۔

یہ وہ دوست ہیں جو کسی کو کبھی اپنا تو نہ بنا سکے لیکن اپنوں کو دور کردینے کے فن میں ان سے بڑا کھلاڑی کوئی نہیں ہوتا۔ اگر کہیں محسوس ہوا کہ بندہ خدا کسی سوشل میڈیائی خاتون سے زیادہ قریب ہے تو من ہی من میں سلگ اٹھتے ہیں، اندر مرچیں بھر جاتی ہیں اور خود کو ٹھنڈا کرنے کا طریقہ اس کے سوا ان کے پاس اور کچھ نہیں ہوتا کہ متعلقہ خاتون کے ان باکس میں وارد ہوکر اس بے چارے کے پرانے کسی معاشقے کا راز فاش کردیں۔

اس کارروائی کے بعد وہ ممکنہ بریک اپ کے انتظار میں یوں بیٹھ جاتے ہیں جیسے شکاری گھات لگائے شکار کے انتظار میں۔ آپ کس پوسٹ کو لائک کرتے ہیں، کون آپ کی پوسٹ پر دل بناتا ہے، احباب کی فہرست کے کون کون سے نام آپ کے مستقل قاری ہیں اور باقاعدگی سے کمنٹس کرتے ہیں ان کے پاس ایک ایک چیز کا کھاتا کھلا ہوتا ہے اور وہ وقتاً فوقتاً ہر جگہ گھس کر اپنی ناقابلِ برداشت موجودگی کا یقین دلاتے ہیں اور اپنے تئیں اس زعم میں مبتلا ہوتے ہیں کہ سماجی میڈیا کا اس سے بہتر حق ادا ہو ہی نہیں سکتا۔

کوئی مانے یا نہ مانے لیکن سچ ہے کہ ماضی میں آپ کے کسی ناپسندیدہ دوست یا کولیگ کا اچانک سوشل میڈیا پر سامنے آجانا ایک خطرناک اور پریشان کن صورت حال ہوتی ہے۔ اس کی جانب سے آئی فرینڈ ریکویسٹ یا کسی دوسرے سماجی میڈیا پر آپ کو فالو کرنا دراصل، یک طرفہ جنگ کا کُھلم کُھلا اعلان ہوتا ہے، جو کسی بھی شریف سوشل میڈیائی بندے کی پرسکون زندگی میں ادھم مچا دیتا ہے۔ اس جنگ کو لڑنے والا ان باکس تک رسائی کی اکثر ضرورت ہی محسوس نہیں کرتا بلکہ آپ کی اپنی پوسٹوں پر کیے جانے والے کمنٹس میں ہی طنز کے زہریلے تیر برساتا ہے، ذومعنی باتیں کرکے کمینی سی خوشی دل میں محسوس کرتا ہے، پھبتیاں کستا ہے، ماضی کے پَنّوں کو پلٹ کر کیچڑ اچھالنے سے بھی نہیں چوکتا، اور ایسے ایسے تاریخی جملے ٹائپ کر کے برساتا ہے کہ تمام احباب چونک کر کہہ اٹھتے ہیں کہ میاں یہاں پکنے والی دال میں کچھ نہ کچھ کالا ضرور ہے۔

اپنے بھانڈے پھوٹتے اور بے عزتی ہوتا دیکھ کر ایسے سانپ نما دوستوں کو یک جنبش بلاک کر کے رہی سہی عزت بچانے کے سوا اکثر لوگوں کو کوئی حل نظر نہیں آتا، جب کہ بھولے بادشاہ یہ جانتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر بلاک کیا جانے والا بندہ اگلی آئی ڈی بنانے میں کلی طور پر آزاد ہوتا ہے اور یوں ایک نئی آئی ڈی کے ساتھ وہ ناپسندیدہ شخص دوبارہ آپ کی فہرستِ دوستاں کا حصہ بن جاتا ہے۔ اب، صاف چھپتے بھی نہیں اور سامنے آتے بھی نہیں کے مصداق جو چوہے اور بلی کا وہ کھیل شروع کرتا ہے اس کی آخری قسط کا انتظار لاحاصل ہی نہیں فضول بھی ثابت ہوتا ہے۔ سو ڈس کھاتے جائیے، آگے بڑھتے جائیے۔ اور کر بھی کیا سکتے ہیں؟ اس میں قصور تو دنیا کے گول ہونے کا ہے، رہ گیا بندہ تو وہ ہمیشہ کی طرح اپنی فطرت سے مجبور۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •