مولانا فضل الرحمن سکھر سے آزادی مارچ کی قیادت شروع کریں گے
جمیعت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن 27 اکتوبر کو سکھر سے آزادی مارچ کی قیادت شروع کریں گے۔ جمعیت علماء اسلام (ف) صوبہ سندھ کے ڈپٹی سیکرٹر ی اطلاعات محمد سمیع سواتی کے مطابق صوبہ سندھ میں کراچی سے کشمور تک 29 اضلاع میں جماعتی نظم موجود ہے۔
آزادی مارچ کے لئے سندھ بھر سے کارکنوں کی شرکت کے لئے گاڑیوں کی بکنگ کرلی گئی ہے۔ اس سلسلے میں گاڑیوں کے مالکان کو بکنگ کی 50 فیصد رقم کی ادائیگی ہوچکی ہے. سندھ سے 6 سو سے زائد گاڑیاں آزادی مارچ میں شامل ہوں گی۔ 27 اکتوبر کو آزادی مارچ صوبہ سندھ کا قافلہ روانہ ہو گا جب کہ کراچی سے ملحقہ صوبہ بلوچستان کےاضلاع جن میں حب، خضدار، لسبیلہ اور وڈ وغیرہ شامل ہیں سے قافلے بھی کراچی پہنچیں گے۔
یاد رہے کہ گزشتہ سب مولانا فضل الرحمن نے اعلان کیا تھا کہ آزادی مارچ 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں داخل ہو گا۔ یاد رہے کہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کو اعلان کردہ احتجاج کی تاریخ پر نظرثانی کرنی چاہئیے کیونکہ 27 اکتوبر کو بھارت نے مقبوضہ کشمیر پرناجائز اور غیرقانونی قبضہ کیا تھا جس کی وجہ سے اس دن کشمیری یوم سیاہ مناتے ہیں۔ اس حوالے سے مولانا کی جانب سے اعلان کردہ تاریخ مناسب نہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمیں مولانا فضل الرحمان کی حب الوطنی اور کشمیر کاز سے وابستگی پر کوئی شک نہیں لیکن 27 اکتوبر کو احتجاج کرنے سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچے گا۔
جس کے بعد گذشتہ روز جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا بیان سامنے آیا۔ جس میں انہوں نے آزادی مارچ اور دھرنے کی تاریخ بدلنے کا اعلان کیا اور کہا کہ آزادی مارچ 27 کو نہیں، 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں داخل ہوگا۔ انہوں نے کہا تھا کہ آزادی مارچ 27 اکتوبر کو شروع ہو گا اور ہم 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں داخل ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ 27 اکتوبر کے جلوس کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے نکالے جائیں گے۔


