برطانوی تعلیمی نظام کی چند باتیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاپا جان۔ صبح نور کے سکول میں ایک ورکشاپ ہے۔ آپ نو بجے پلیز اٹینڈ کر لیں گے۔ میں نے ایک ضروری میٹنگ اٹینڈ کرنی ہے۔ بیٹے نے شام کھانے کی میز پر کہا۔ میں چلا جاؤں گاآپ فکر نہیں کرو، میں نے جواب دیا۔ صبح وقت مقررہ سے چند منٹ پہلے میں تیار ہو کر سکول پہنچ گیا۔ والدین کی ایک لمبی قطار تھی جو سب سکول کے اندر جانے کا انتظار کر رہے تھے۔ زیادہ تر خواتین تھیں اور کچھ میری طرح ادھیڑ عمر کے مرد۔ یہاں گھریلو خواتین اور ماؤں کی بچوں کی ڈیوٹیاں بہت زیادہ ہیں۔

بچوں کو صبح سکول چھوڑنا اور پھر چھٹی ٹائم لے کر آنا۔ پھر مسجد چھوڑنا اور واپس لے کر آنا۔ نو بجے سے پانچ منٹ پہلے دروازہ کھلا اور ہم سب اندر داخل ہوئے۔ جماعت اول کے تین سیکشن تھے۔ ایک کمرے میں ایک سیکشن کے تقریباً پندرہ بچے تھے۔ تھری ایس ایم کلاس روم میری پو تی نور فاطمہ کا کمرا تھا۔ جہاں نور فاطمہ سمیت دوسرے بچے بھی موجود تھے۔ ان کی کلاس ٹیچر ایک نوجوان انگریز خاتو ن ہیں۔ یہ برطانیہ کے ایک چھوٹے سے شہر کا ایک پرائمری سکول ہے جہاں میری پوتی کلاس دوم کی طالبہ ہے۔

جب کمرے میں داخل ہو کر میں نے کلاس روم کا جائزہ لیا تو میں دنگ رہ گیا۔ اتنا صاف ستھرا کمرہ۔ رنگ برنگے چارٹوں سے مزین۔ کتابوں کے لئے صاف ستھری اعلی درجے کی الماریاں۔ دیواروں پر دوم جماعت کے متعلقہ انگریزی اور میتھ کے متعلق مختلف دیدہ زیب رنگوں میں لکھی ہوئی تحریریں۔ صاف ستھرے میز کرسیاں۔ غرض کہ یہ ایک انتہائی عمدہ کلاس روم تھا۔ میرا یہ خیال ہے۔ کہ ہمارے یہاں کے تیس چالیس ہزار ماہانہ فیس لینے والے اعلی درجہ کے پرائیویٹ سکولوں کے کلاس روموں سے یہ زیادہ صاف اور دیدہ زیب تھا۔اسی لئے سارے بچے بہت خوشی سے سکول آتے ہیں۔

بات ہو رہی تھی ورکشاپ کی۔ ایک گھنٹے کی ورکشاپ کے دوران میں نے کلاس ٹیچر اور سب بچوں کا بغور جائزہ لیا۔ ٹیچر سب ہی طالب علموں سے سبق کے بارے میں پوچھ رہی تھی اور سب کی سوال پوچھنے پر ان کی حوصلہ افزائی بھی کر رہی تھیں۔ کلاس میں ہر رنگ و نسل کے بچے تھے، جن کے جواب دینے پر ٹیچران کو شاباش بھی دے رہی تھیں بلکہ ان کی راہنمائی بھی کر رہی تھیں۔ کوئی ڈانٹ ڈپٹ نہیں اور نہ ہی کسی کو نظرانداز کیا گیا۔

تقریباً سب ہی بچوں کو دھیان سے سنا گیا۔ ا۔ ٹیچر کے اس رویے سے شرمیلے سے شرمیلے بچے میں بھی بولنے کی ہمت اور قوت گویائی آ جاتی ہے۔ جب میں نے اس کا تقابل اپنے یہاں کی ٹیچر سے کیا تو مجھے رونا آیا۔ عمارتوں اور باقی چیزوں کو تو چھوڑیں صرف کلاس ٹیچر کے رویوں میں ہی زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ایک اور بات جو میں نے خاص طور پر نوٹ کی وہ ہے بچوں کا ڈسپلن۔ سکول میں داخل ہوتے ہی سب بچے بہت ہی با ادب ہو جاتے ہیں۔

سکول ادب کرتے ہیں۔ کلاس ٹیچر کے ایک ایک اشارے کو سمجھتے ہیں اور اپنے اساتذہ کا بھی بے حد ادب اور احترام کرتے ہیں۔ یہاں پر بھی جو والدین بچوں کی پڑھائی کے معاملے میں سنجیدہ ہیں ان گھروں کے بچے روز شام نو بجے سے پہلے سوجاتے ہیں۔ یہاں ہمارے بچے صبح چھ بجے اٹھتے ہیں۔ تیار ہو کر ناشتہ وغیرہ کر کے اگر کوئی سکول کا کام ہے تو وہ کرتے ہیں۔ وقت سے دس پندرہ منٹ پہلے سکول پہنچتے ہیں۔ سکول سے واپس آ کر ایک گھنٹہ کھیلتے ہیں اور پھر مسجد۔

مسجد سے واپس آ کر رات کا کھانا۔ کچھ دیر کھیلنا۔ ٹی وی۔ پلے سٹیشن۔ پر گیم کھیلتے ہیں۔ جو والدین اپنے بچوں پرزیادہ توجہ دیتے ہیں ان کے بچے بھی اپنے والدین کے ساتھ زیادہ انسیت رکھتے ہیں۔ ہفتہ اور ایتوار کو بچوں کو کھیل کے لئے کرکٹ کلب۔ فٹ بال گراونڈ لے کر جانا۔ کراٹے اور سومنگ کے لئے کلب لے کر جانا۔ ان کی تعلیمی سرگرمیوں پر نظر رکھنا۔ ان کا ہوم ورک چیک کرنا۔ اس میں ان کی مدد کرنا۔ یہ وہ کام ہیں جو جو والدین یہ کام کرتے ہیں ان کے بچے دینی اور دنیاوی دونوں تعلیمی میدانوں میں اچھے ہیں۔

کھیلوں میں حصہ لینے کی وجہ سے صحت مند سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لینے والے بچے ٹی وی اور ویڈیو گیموں میں کم وقت صرف کرتے ہیں۔ جن کے والد سارا دن ٹیکسی چلاتے ہیں یا ٹیکوے اور ریسٹورنٹ چلاتے ہیں یا ان جگہوں پر کام کرتے ہیں وہ اوقات کار کی وجہ سے بچوں کی تعلیم اور تربیت پر زیادہ توجہ نہیں دے سکتے یا پھر جن بچوں کی مائیں سارا دن ٹی وی کے آگے بیٹھ کر ڈرامے دیکھتی رہتی ہیں ان کے بچے بھی پڑھائی پر زیادہ توجہ نہیں دے پاتے۔ بعض بچوں کی مائیں ان کے رونے پر ان کے ہاتھ میں آئی فون یا آئی پیڈ پکڑا دیتی ہیں۔ یا ٹی وی پر کارٹون لگا کر بچوں کو ٹی وی کے آگے بٹھا دیتی ہیں جو بہت غلط بات ہے۔

اس چھوٹے سے شہر میں جہاں میرا بیٹا رہتا ہے، نو دس سرکاری ہائی سکول ہیں۔ اور ہر سکول کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ اچھے اور بہتربچوں کو اپنے سکول میں داخل کر سکیں۔ اس کے لئے سب سکولوں میں بہت مسابقت اور مقابلے کی فضا ہے۔ یہاں سکول اور والدین دونوں ہی کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کو اچھے سکول اور اچھے طالب علم مل سکیں۔ ہر سال ستمبر۔ اکتوبر میں ہر سکول کی انتظامیہ اپنے سکول میں ایک اورینٹیشن کا انتظام کرتی ہیں۔

مجھے پچھلے ہفتے دو تین سکولوں کی اورینٹیشن میں جانے کا اتفاق ہوا۔ ایک رومن کیتھولک سکول گئے۔ کچھ والدین اپنے بچوں کے ساتھ لے کر اور کچھ اکیلے بھی آئے ہوئے تھے۔ سکول کے طلبا سمارٹ یونیفارم میں سب کی مدد اور راہنمائی کے لئے موجود تھے۔ انتظامیہ دودو تین تین والدین کا گروپ بنا کر دو طلبا کی راہنمائی میں ان کے متعلقہ جماعتوں کے کمروں کا دورہ کراتے ہیں جہاں متعلقہ جماعت کے استاد انہیں سکول کے سلیبس اور پڑھائی کے طریق کار پر ان کو بتاتے ہیں۔

سکول کی مختلف جماعتوں کے دورہ کے بعد سب لوگ ایک بڑے ہال میں جمع ہوتے ہیں جہاں سکول کے ہیڈ ماسٹر والدین کو سکول کے بارے میں مکمل آگاہی دیتے ہیں۔ اپنے سکول کی خصوصیات اور نتائج کے بارے میں بتاتے ہیں کہ آپ کیوں اپنے بچوں کو ان کے سکو ل میں داخل کرائیں۔ آخر میں والدین کے سوالوں کا جواب دیتے ہیں۔ یہ سارا کام اتنے ڈسپلن سے ہوتا ہے کہ کوئی شور نہیں مچتا۔ والدین چار سے پانچ سکولوں کا انتخاب کر کے لسٹ بناتے ہیں اور پھر اچھا ڈسپلن۔

اچھی پڑھائی اور گھر کے نزدیک والے سکولوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ لیکن سکول والے بھی اپنی ترجیح لسٹ بنا کر والدین کو بتا دیتے ہیں کہ آپ کے بچے کا داخلہ ہو گیا ہے اور یہ کام جون تک مکمل کر لیا جاتا ہے۔ اور ستمبر میں کلاسیں شروع ہو جاتی ہیں۔ سکولوں میں کھیل ہر سکول کا ایک لازمی جزو ہیں اس لئے ہر سکول کے پاس بچوں کے کھیلنے کے لئے بڑے بڑے اور بہترین گراؤنڈ موجود ہیں۔

گورنمنٹ کے ان سکولوں کے علاوہ یہاں گرائمرسکول بھی ہیں۔ پرائیویٹ گرائمر سکول میں پڑھانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے کیونکہ بہت ہی مہنگا ہے۔ ان کی فیس اور دوسرے اخراجات بہت زیادہ ہیں۔ گورنمنٹ کے گرائمر سکول میں داخلے کے لئے یہاں بھی ایک ٹیسٹ ہوتا ہے۔ جس کے لئے سب سکولوں والے اپنے اچھے طلبا کی سپیشل تیاری کرواتے ہیں اور والدین پر بھی زور دیتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو امتحان میں تیاری میں مدد کریں اور میرٹ پر آ نے والوں کو داخلہ مل جاتا ہے۔

والدین بھی اپنے بچوں کو اس امتحان کی خصوصی تیاری میں مدد کرتے ہیں لیکنیہاں پر کوئی سفارش یا رشوت نہیں چلتی۔ ایسا نظام میں نے صرف ملٹری کالج جہلم میں دیکھا جہاں دس سولین سیٹوں کے لئے سات آٹھ ہزار تک بچے ٹیسٹ میں شامل ہوتے ہیں لیکن داخلہ صرف اور صرف میرٹ پر ہی ہوتا ہے۔ برطانوی تعلیمی نظام کا ڈھانچہ مضبوط ہے اور اس میں مزید بہتری کے لئے کام ہوتا رہتا ہے۔ حکومتیں تبدیل ہو جاتی ہیں لیکن تعلیمی پالیسی تبدیل نہیں ہوتی اور یہی اس نظام کی کامیابی ہے۔

تعلیم اور صحت دو ایسی بنیادی ضروریات ہیں جن پر جو حکومتیں سب سے زیادہ خرچ کرتی ہیں وہ ہی دنیا میں ترقی کر رہی ہیں۔ ہمارے ہاں ان دونوں شعبوں میں سب سے کم بجٹ خرچ کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود بہت سارے گورنمنٹ سکولوں کے پاس ایک اچھا سیٹ اپ موجود ہے۔ کھیل کے میدان بھی ہیں۔ سب سے بڑا المیہ اساتذہ کا رویہ ہے۔ جس کو بہتر بنانے کے لئے اساتذہ کی تربیت بہت ضروری ہے۔ پرائیویٹ شعبہ میں سکولوں کی بھرمار ہے۔ چھوٹے چھوٹے گھروں میں ہائی سکول قائم ہیں جو ہزاروں میں فیسیں لینے کے باوجود سکول کا صیح ماحول فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ ایک مضبوط تعلیمی نظام ہی معاشرے کی بہتری اور ملک کی ترقی کا ضامن ہو سکتا ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •