سپین میں مسلم کھلاڑی کی مقبولیت اور نوجوانوں کی اسلام میں دلچسپی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسپین کے بیشتر حصوں سے مسلمانوں کی اقتدار اور ملک سے بے دخلی کے بعد جہاں ہزاروں مساجد کلیسا میں تبدیل کر دی گئیں وہیں نئی مساجد کی تعمیر پر بھی پابندی نافذ تھی۔ اس لیے جب 1981 ء میں اسپین کی ریاست اندلوسیا کے شہر ماربیلا میں شاہ عبدالعزیز مسجد کا افتتاح ہوا تو یہ اسپین کی سرزمین پر قائم کی گئی پہلی باضابطہ مسجد تھی جو کئی صدیوں کے بعد وجود میں آئی تھی۔ 1978 ء میں اسپین کے سیاسی نظام میں بڑی سیاسی تبدیلیا ں رونما ہوئیں جس کے نتیجے میں آئین کے بنیادی ڈھانچھے میں تبدیلی کر ریاست کو روایتی رومن کیتھولک چرچ کے اثر سے آزاد کر دیا گیا اور تمام مذاہب کو یکسا ں آزادی نصیب ہوگئی۔

امیگریشن اور شہریت قوانین میں تبدیلی کے نتیجے میں مراکشی مسلمانوں کی وہ آبادی جو اسپین میں برسوں سے رہائش پزیر تھی اُنھیں اسپین کی شہریت حاصل ہوگئی اور اس کے علاوہ بھی شمالی افریقہ کے دیگر ممالک سے مسلمان اسپین میں آکر آباد ہوتے رہے۔ اسپین کی موجودہ مسلم آبادی 20 لاکھ کے قریب ہے جو وہاں کی کُل آبادی کا ساڑھے چار فیصد ہے۔ اس وقت اسپین میں چھوٹی بڑی 1600 مساجد یا مسلم عبادت گاہیں موجود ہیں جس میں 13 بڑی مساجد اور وہ مراکز ہیں جو گزشتہ تین دہائیوں میں میڈرڈ، بارسلونہ، ویلینسیہ، کیٹلونیہ اور اندلوسیہ میں قائم کی گئی ہیں۔

مسلم آبادی میں 40 سے 50 ہزار تعداد سفید ہسپانوی النسل اُن مسلمانوں کی ہے جنھوں نے گزشتہ تین چار دہائیوں میں اسلام قبول کیا ہے اور اُن میں بھی ایک قابل ذکر تعداد اُن نو مسلم ہسپانوی باشندوں کی ہے جن کے آباء سقوط اُندلس کے بعد کیتھولک چرچ اور عیسائی حکمرانوں کے ذریعہ جبریہ عیسائیت اختیار کرنے پر مجبور ہوئے تھے یا نسل کُشی اور جلاوطنی سے بچنے کے لیے اپنی مسلم شناخت سے بظاہر دست بردار ہوگئے تھے۔ ایسا خیال کیا جاتا ہے کہ اسپین کے موجودہ باشندوں میں آج بھی ایک ایسی نسل پائی جاتی ہے جن کے مسلم اجداد نے ظاہر ی طور پر بپتسمہ لیا تھا، یہ مجبوراً شراب بھی پیتے تھے اور خنزیر کے گوشت کا بھی استعمال کرتے تھے لیکن اپنے عقیدے سے دستبردار نہیں ہوئے تھے اور پوشیدہ طور پر اپنے مذہبی فرائض کو انجام دیتے آئے تھے۔

ایک عرصے تک ان کی علیحدہ شناخت قائم تھی، جنھیں موریسکوس یعنی نوزائیدہ عیسائی کہا جاتا تھا۔ لیکن دھیر ے دھیر ے ان کے بعد کی نسل اکثریتی عیسائی آبادی میں جذب ہوتی چلی گئی یا جلاوطن کردی گئی اور یوں 18 ویں صدی کے اوائل تک ہسپانیہ کی سرزمین سے مسلم وجود کا مکمل خاتمہ ہوگیا۔ دنیا کی تاریخ میں جبریہ تبدیلیء مذہب کی اس سے بڑی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ مثال کے طور پر 15 ویں صدی کے اواخر میں جب اُندلس کی آخری اسلامی ریاست غرناطہ کا سقوط ہوا تو اُس وقت غرناطہ کی مسلم آبادی 5 لاکھ کے قریب تھی۔ تاریخ کی کتابیں آج بھی وثوق کے ساتھ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اتنی بڑی آبادی آخر زمین کھاگئی یا آسمان نگل گیا۔

اسلامک سینٹر کی میوزیم لائبریری میں میر ے لیے دلچسپی کا بہت سامان تھا۔ اسلامی اُندلس کے سقوط اور جزیرہ نما آئبیریا سے مسلمانوں کی بے دخلی اور منصوبہ بند نسل کُشی پر تاریخ کی نادر کتابوں، مخطوطوں اور ریسرچ پیپر کی ورق گردانی کرتے ہوئے گھنٹوں کیسے نکل گئے پتہ ہی نہیں چلا۔ 18 ویں اور 19 ویں صدی کے ہسپانوی مور خین نے اُندلس کے مسلمانوں پر گزرے قیامت خیز واقعات پر بڑی بے باکی سے کلام کیا ہے اور اُن تاریخ دھندھلکوں کو صاف کرنے کی کوشش کی ہے جس پر صدیوں سے گرد پڑی تھی۔

طلیطلہ کے آرک بشپ سسنیرس کا پوپ الیکژنڈر کے نام وہ مکتوب بھی اب منظر عام پر آچکا ہے جس میں اس نے پوپ کو یہ اطلاع دیتے ہوے فخر کا اظہار کیا تھا کہ اس نے ایک دن میں تین ہزار مسلمانوں کو عیسائیت قبول کروائی۔ اسی طرح 1501 ء کے ایک دوسرے مکتوب میں 60 ہزار مسلمانوں کے بپتسمہ لینے کی بات کہی گئی ہے اور اس بات کا اعلان کیا گیا ہے کہ ا ب سرزمین غرناطہ پر ایک بھی مسلمان ایسا نہیں بچا جس نے عیسائیت اختیار نہ کر لی ہو۔

شام کے چار بج چکے تھے اوراب کانفرنس ہال میں لوگوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا۔ اسپین میں زندگی کے ہر شعبے میں خواتین کی شراکت داری اور سرگرمی مردوں کے مقابلے میں زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ کانفرنس ہال میں بھی خواتین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی جن میں یونیورسٹی کی ہسپانوی نزاد مسلم اور غیر مسلم طالبات کی ایک بڑی اکثریت تھی۔ میر ا یہ یورپ میں کسی بین المذاہب کانفرنس میں شرکت کا پہلا موقع تھا۔ مجھے ہندستان کے تناظر میں ہندو۔ مسلم تعلقات پر تاریخی پس منظر میں اپنی بات رکھنی تھی۔

ہندستان جہاں مسلم تہذیب و تمدن کی جڑیں بہت گہری ہیں، جہاں کی تاریخ ہمارے شاندار ماضی کی امین ہے، جہاں ہمارے فن تعمیر شاہکار کی حیثیت رکھتے ہیں، جہاں کی دھرتی میں ہمارے انمٹ نقوش موجود ہیں، جہاں کے دریاووں، پہاڑوں، جھرنوں اور آبشاروں سے وحدانیت کی صدائیں آتی ہیں اور جہاں سے میرِ عرب کو ٹھنڈی ہوا کے خوشگوار جھونکے کا احساس ہوتا تھا اس ملک میں برادرانِ وطن سے ہمارے خوشگوار تعلقات ملک و قوم کے خوشگوار مستقبل کا پتہ دیتے ہیں۔ ایسے عظیم ملک میں پرُ امن بقائے باہم کے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے اتحاد اور یکجہتی کی فضا قائم کرمتحدہ قومیت کی بنیاد ڈالنا ہمار ا قومی اور ملی فریضہ ہے۔

میں نے اپنی بات سمیٹتے ہوئے سامعین کا شکر یہ ادا کیا اور واپس اپنی جگہ پر آکر بیٹھ گیا۔ وقت بہت ہو چلا تھا۔ آج ہی کی رات مجھے قرطبہ شہر کے لیے روانہ ہونا تھا۔ قرطبہ جو میرے خوابوں کا شہر تھا۔ قرطبہ جو کبھی تہذیب و تمدن کا گہوارہ ہوا کرتا تھا۔ قرطبہ جو اسلامی اُندلس کا دارالخلافہ تھا۔ قرطبہ جس کے ٹکر کا کوئی شہر دنیا میں نہ تھا، میرے سفرکا اگلا پڑاؤ تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2