پاکستان کرکٹ کے مساٸل اور ان کاحل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کرکٹ ٹیم کی شکست کے بعد پھر وہی سوال سامنے آ کھڑا ہوا ہے کہ آخر پاکستان ٹیم کے ساتھ مسئلہ کیا ہے اس کی کارکرگی میں تسلسل کیوں نہیں پیدا ہو رہا۔ میرے خیال میں اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے سطحی سوچ سے نکلنا ہو گا۔ بار بار کھلاڑہوں پہ تنقید سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ ہمارا مسئلہ ہمیشہ سے بیٹنگ رہا ہے۔ ہمارے اچھے بیٹسمین بھی تسلسل سے پرفارمنس نہیں دکھا پاتے۔ اس مسئلے کے حل کے لئے ہمیں دنیا کے کامیاب بیٹسمینوں کی فہرست سامنے رکھنی چاہیے۔

وہ کیا اجزاء ہیں جو ان کی بیٹنگ میں موجود ہیں اور ہمارے بیٹسمین اس سے محروم ہیں۔ موجودہ دور کے کامیاب بیٹسمین وہی ہیں جو سٹروک میکر ہیں صرف دفاعی طور پہ مضبوط بیٹسمین موجودہ دور میں اپنا کیرئیر لمبا نہیں کر سکتے۔ اس کے علاوہ جو چیز دنیا کے بٹسمینوں میں پائی جاتی ہے کہ وہ تکنیکی اعتبار سے درست ہیں۔ اب درست تکنیک سے کیا مراد ہے۔ دنیا کے کامیاب بیٹسمینوں کا بغور مطالعہ کریں تو اندازہ ہو گا کہ ان سب کا سٹانس یعنی وکٹ کے سامنے کھڑا ہونے کی جگہ پاکستانی پلئرز سے مختلف ہے پاکستانی بیٹسمین زیادہ تر ٹیپ بال کرکٹ کھیل کے آتے ہیں جس میں ایل بی ڈبلیو آٶٹ نہیں دیا جاتا جس کی وجہ سے وہ وکٹس کور کر کہ کھڑے ہوتے ہیں یعنی اس طرح کھڑے ہوتے ہیں کہ باٶلر کو کوئی وکٹ نظر نہ آئے۔

اس سے ان کو کراس کھیلنے میں مدد ملتی ہے۔ مگر یہ تکنیک ہارڈ بال کرکٹ میں کامیاب نہیں۔ اگر بیٹسمین وکٹس کور کر کے کھیلے گا تو لامحالہ اس کی بیٹ بال پہ سلپ سے آئے گا۔ کامیاب بیٹسمین کا بیٹ مڈل سٹمپ کے اوپر سے آتا ہے جس سے اس کے آٶٹ ہونے کا امکان کم ہو جاتا ہے۔ سٹمپس کو کور کر کے سٹانس لینے کی تکنیکی خرابی ہمارے تمام بیٹسمینوں میں پائی جاتی ہے جس سے چھٹکارہ پانا بہت ضروری ہے۔

ظہیر عباس، ویوین رچرڈز، برائن لارا، رکی پونٹنگ، سچن ٹنڈولکر سب کے سب اوپن سٹانس لیتے تھے ہمارے پلیرزکو بھی چائیے کہ وہ تکنیک اپنائیں جو کامیابی کی ضمانت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •