گریجویٹ آیائیں اور سلمنگ سینٹر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند ماہ پہلے ایک سیلون سے منسلک سلمنگ سینٹر میں، مینجمنٹ کی ملازمت شروع کی۔ باقاعدگی سے ایکسرسائز سیکھنا، سکھانا اور خود بھی کرنا مقصد تھا۔ سیلون اور سلمنگ سینٹر کی مالک فیملی فرینڈ بھی ہیں، سو ساتھ ساتھ سینٹر مینیج کرنے میں ان کی مدد بھی ہو جاتی ہے۔ جب باقاعدگی سے وہاں جانا شروع کیا، تو خواتین کی طرف سے ایک ہی طرح کے کچھ سوال بار بار پوچھے جاتے، جیسا کہ ”آپ یہ ملازمت کیوں کر رہی ہیں؟ آپ پڑھی لکھی ہیں کوئی اور ملازمت کر لیں! اسکول میں پڑھا لیں“ ۔ وغیرہ۔

ایک معمر خاتون جن کو بہت محبت اور احترام سے ایکسرسائز سکھائی، ایک دن کہنے لگیں، کہ ”بیٹا تم کو دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔ تم اپنے آپ کو ضائع کر رہی ہو۔ کوئی بہتر نوکری ڈھونڈو“ ۔ میں نے غصے اور زبان پر قابو پاتے ہوئے، اُن کو سمجھایا کہ یہ جگہ میرے لیے مناسب ہے۔ ایک تو یہ کہ میرے گھر کے قریب ہے، دوسرا یہ کہ میں خود بھی ایکسر سائز کر لیتی ہوں، نیز یہ اچھا وقت گزارنے کا ایک ذریعہ ہے۔ یہاں میں دوسری خواتین کے دکھڑے بھی سن لیتی ہوں۔ بض اوقات کہانیاں مل جاتی ہیں۔ شکر ہے ان کی سمجھ میں یہ بات آ گئی اور اس طرح میری جان خلاصی ہوئی۔

محض چند دن سکون کے گزرے تھے، کہ اسلام آباد سے میری خالہ تشریف لے آئیں۔ جب کبھی اسلام آباد میں کوئی سیاسی ہلچل ہوتی ہے، تو وہ کراچی چلی آتی ہیں۔ خالو ایک ریٹائرڈ بیورو کریٹ ہیں۔ خالہ نے جب دیکھا، کہ بھانجی سلمنگ سینٹر کی ”معمولی نوکری“ کر رہی ہے، تو تاسف سے فرمایا، ”کیا ہو گیا ہے تم آج کل کی بچیوں کو؟ کتنے معمولی کام کرنے لگی ہو! اسلام آباد میں پڑھی لکھی گریجوایٹ بچیاں گھروں کی آیائیں بن رہی ہیں، کچن سنبھال رہی ہیں اور تم بھی یہاں یہ چھوٹا کام کر رہی ہو؟! پڑھی لکھی ہو، بچوں کو اکیڈمی میں ٹیوشن ہی پڑھا لیتیں“ !

خالہ کی یہ بات سن کر اندازہ ہوا کہ معاشرے کے دونوں طبقات چاہے ان پڑھ ہوں یا پڑھے لکھے، امیر ہوں یا غریب، سب کا ذہن ایک مخصوص انداز ہی میں سوچتا ہے، کہ پڑھ لکھ گئے تو دفتر کی میز کرسی پر بیٹھ کے نوکری کرنی ہے۔ چاہے کرسی پر بیٹھ کر فرعون بن جاؤ۔ سرکاری نوکری ہو تو رشوت لو۔ پرائیوٹ ہو تو اپنی من مرضی سے کام کرو۔ مختلف حربے استعمال کر کے مالک کو تنگ کرو اور چھوٹے ملازمین پر رعب جھاڑو۔

ذمہ داریوں کو ہم لوگ سنجیدہ نہیں لیتے۔ نا ہی اپنی ملازمت سے مطمئن ہوتے ہیں اور نا دوسروں کو ہونے دیتے ہیں۔ نا یہ سمجھتے ہیں کہ کوئی بھی کام چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا۔ نا ہی کسی کام کے کرنے سے کسی انسان کا رتبہ چھوٹا یا بڑا ہو جاتا ہے۔ گھر کی دیکھ بھال اور باورچی خانے کی دیکھ ریکھ کے لیے پڑھی لکھی ملازمہ یا ملازم رکھنے میں کوئی حرج نہیں اور نا کسی پڑھے لکھے انسان کو یہ امور انجام دینے میں کوئی خجالت محسوس ہونی چاہیے۔ باشعور انسان اپنے گھر میں جو گھریلو امور سر انجام دیتا ہے، ضرورت پڑنے پر وہی کسی دوسرے کے گھر میں، مناسب معاوضے پر پیشہ ورانہ طور پر ذمہ داری سے انجام دے، تو اس کی محنت و خود داری کی داد دینی چاہیے، نا کہ اس کو یہ کہا جائے، ”تم پڑھ لکھ کر یہ کام کرنے آ گئے“ ؟

گلی گلی کھلے پرائیویٹ اسکول اور کالج، پڑھے لکھے گریجویٹ اساتذہ کو بھی، وہ تنخواہ نہیں دیتے جو سیلون، بوتیک، سپر اسٹور، اسپتال یا کلینک کے ریسیپشن یا مینجمنٹ کی ملازمت پر ملتی ہے۔ اس لیے بہت سے افراد اور خاص کر خواتین ان ملازمتوں کو اختیار کر رہی ہیں، جنھیں ”معمولی کام“ کہا جاتا ہے۔ اس میں دینی و دنیاوی لحاظ سے بھی کوئی حرج نہیں۔ دیکھا جائے تو دین یہ سکھاتا ہے، کہ محنت کر کے رزق حلال کماؤ۔ پھر یہ بھی کہا جاتا ہے، کہ کوئی کام چھوٹا بڑا نہیں ہوتا، بلکہ محنت میں عظمت ہے۔ کسی دوسرے انسان کی محتاجی نہیں، نا ہی خدا نہ خواستہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت ہے۔ نا کسی مزار یا رفاہی ادارے کی طرف دیکھنے کی حاجت، کہ وہاں کوئی مخیر خیرات دے گا، تو ہم بھی کھا لیں گے۔ بلکہ ایک اچھے انسان کی شان یہی ہے کہ کام کوئی سا بھی ہو، وہ محنت کر کے کھائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •